<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:47:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:47:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: مالک کے گھر سے ملازم بچے کی لاش برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215680/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں گھریلو ملازم بچے کی پھندہ لگی لاش مالک کے گھر سے برآمد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1787427/child-worker-found-dead-at-employers-home-in-lahore"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 9  سالہ احسان کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ بچے کو اس کے مالک شان علی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا، جب کہ اسٹیٹ ایجنٹ مالک نے دعویٰ کیا کہ لڑکے نے خود کو پھانسی لگا کر خودکشی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے متوفی احسان کی والدہ نواب بی بی کی شکایت پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شان علی کو نامزد کرتے ہوئے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلع قصور کی رہائشی خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کا کم عمر بیٹا گزشتہ پانچ سال سے انگوری باغ میں شان علی کے گھر میں ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198525"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے بتایا کہ اس کا بہنوئی عمران ہر ماہ آجر سے تنخواہ وصول کرتا تھا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملزم نے بچےکے گھر والوں کو صرف ایک بار ملنے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواب بی بی نے بتایا کہ واقعے کے دن ملزم نے  فون کال کے ذریعے بتایا کہ اس کے بیٹے نے خودکشی کر لی ہے، اچانک ملنے والی یہ خبر ہمارے خاندان پر بم کی طرح گری اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ قصور سے شان علی کے گھر  پہنچیں، تو مشتبہ قاتل احسان کی لاش کو پہلے ہی سٹی مردہ خانے منتقل کر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے بیٹے سے بدفعلی کی گئی اور پھر اسے پھانسی لگا کر قتل کیا، انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث ہونے پر شان علی کو گرفتار کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا تھا کہ مبینہ قاتل کی گرفتاری کے لیے ٹیم روانہ کی گئی لیکن وہ موقع سے فرار ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں گھریلو ملازم بچے کی پھندہ لگی لاش مالک کے گھر سے برآمد ہوئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1787427/child-worker-found-dead-at-employers-home-in-lahore">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 9  سالہ احسان کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ بچے کو اس کے مالک شان علی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا، جب کہ اسٹیٹ ایجنٹ مالک نے دعویٰ کیا کہ لڑکے نے خود کو پھانسی لگا کر خودکشی کی۔</p>
<p>پولیس نے متوفی احسان کی والدہ نواب بی بی کی شکایت پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شان علی کو نامزد کرتے ہوئے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔</p>
<p>ضلع قصور کی رہائشی خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کا کم عمر بیٹا گزشتہ پانچ سال سے انگوری باغ میں شان علی کے گھر میں ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198525"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خاتون نے بتایا کہ اس کا بہنوئی عمران ہر ماہ آجر سے تنخواہ وصول کرتا تھا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملزم نے بچےکے گھر والوں کو صرف ایک بار ملنے کی اجازت دی۔</p>
<p>نواب بی بی نے بتایا کہ واقعے کے دن ملزم نے  فون کال کے ذریعے بتایا کہ اس کے بیٹے نے خودکشی کر لی ہے، اچانک ملنے والی یہ خبر ہمارے خاندان پر بم کی طرح گری اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ قصور سے شان علی کے گھر  پہنچیں، تو مشتبہ قاتل احسان کی لاش کو پہلے ہی سٹی مردہ خانے منتقل کر چکا تھا۔</p>
<p>خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے بیٹے سے بدفعلی کی گئی اور پھر اسے پھانسی لگا کر قتل کیا، انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث ہونے پر شان علی کو گرفتار کیا جائے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا تھا کہ مبینہ قاتل کی گرفتاری کے لیے ٹیم روانہ کی گئی لیکن وہ موقع سے فرار ہو چکا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215680</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Nov 2023 09:43:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/0809202926df89e.jpg?r=094348" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/0809202926df89e.jpg?r=094348"/>
        <media:title>پولیس نے کہا کہ مبینہ قاتل کی گرفتاری کے لیے ٹیم روانہ کی گئی—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
