<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:47:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:47:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین دنیا کا سب سے زیادہ قرض دینے والا ملک بن گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215683/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین  دنیا کا سب سے زیادہ قرض دینے والا ملک بن گیا جس نے
اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے ہی ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا قرض جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1787406/china-is-owed-over-1tr-in-belt-and-road-debt-report"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  رواں ہفتے سامنے آنے والی  ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی قرضے میں مالیاتی بحران میں مبتلا ممالک کی مدد کے لیے دیے جانے والے فنڈز کا تخمینہ 80 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کا کہنا ہے کہ یوراگوئے سے سری لنکا تک 150 سے زیادہ ممالک نے اس کے بی آر آئی منصوبے  پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع عالمی انفراسٹرکچر سے متعلق یہ منصوبہ ایک دہائی قبل صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت پہلے عشرے کے دوران چین نے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پلوں، بندرگاہوں اور شاہراہوں کی تعمیر کے لیے بھاری قرضے تقسیم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ریاست ورجینیا کے کالج آف ولیم اینڈ میری میں ترقیاتی فنڈنگ سے باخبر  انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ریسرچ لیب ’ایڈ ڈیٹا‘ کی  رواں ہفتے کے شروع میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ان قرضوں میں سے نصف سے زیادہ اب اپنی واپس وصول کرنے کی مدت میں داخل ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;165 ممالک میں تقریباً 21 ہزار منصوبوں کے لیے کی گئی چینی فنانسنگ سے متعلق مرتب کیے گئے اعداد و شمار سے متعلق کہا کہ بیجنگ نے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے سالانہ 80 ارب ڈالر کی امداد اور کریڈٹ کا وعدہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس امریکا نے ایسے ممالک کو سالانہ 60 ارب  ڈالر فراہم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے سرکاری قرض دینے والے ملک کے طور پر چین غیر معروف و غیر آرام دہ کردار کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  ترقی پذیر ممالک کے لیے سود کے الگ کرکے قرض کی اصل رقم   کم از کم 1.1 ٹریلین ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین  دنیا کا سب سے زیادہ قرض دینے والا ملک بن گیا جس نے
اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے ہی ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا قرض جاری کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1787406/china-is-owed-over-1tr-in-belt-and-road-debt-report">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  رواں ہفتے سامنے آنے والی  ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی قرضے میں مالیاتی بحران میں مبتلا ممالک کی مدد کے لیے دیے جانے والے فنڈز کا تخمینہ 80 فیصد ہے۔</p>
<p>بیجنگ کا کہنا ہے کہ یوراگوئے سے سری لنکا تک 150 سے زیادہ ممالک نے اس کے بی آر آئی منصوبے  پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>وسیع عالمی انفراسٹرکچر سے متعلق یہ منصوبہ ایک دہائی قبل صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس منصوبے کے تحت پہلے عشرے کے دوران چین نے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پلوں، بندرگاہوں اور شاہراہوں کی تعمیر کے لیے بھاری قرضے تقسیم کیے ہیں۔</p>
<p>امریکی ریاست ورجینیا کے کالج آف ولیم اینڈ میری میں ترقیاتی فنڈنگ سے باخبر  انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ریسرچ لیب ’ایڈ ڈیٹا‘ کی  رواں ہفتے کے شروع میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ان قرضوں میں سے نصف سے زیادہ اب اپنی واپس وصول کرنے کی مدت میں داخل ہو چکے ہیں۔</p>
<p>165 ممالک میں تقریباً 21 ہزار منصوبوں کے لیے کی گئی چینی فنانسنگ سے متعلق مرتب کیے گئے اعداد و شمار سے متعلق کہا کہ بیجنگ نے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے سالانہ 80 ارب ڈالر کی امداد اور کریڈٹ کا وعدہ کیا۔</p>
<p>اس کے برعکس امریکا نے ایسے ممالک کو سالانہ 60 ارب  ڈالر فراہم کیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے سرکاری قرض دینے والے ملک کے طور پر چین غیر معروف و غیر آرام دہ کردار کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  ترقی پذیر ممالک کے لیے سود کے الگ کرکے قرض کی اصل رقم   کم از کم 1.1 ٹریلین ڈالر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215683</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Nov 2023 11:41:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/0810030348f4717.png?r=100545" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/0810030348f4717.png?r=100545"/>
        <media:title>—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
