<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:52:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:52:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، 600 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215703/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج صبح تجارت کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا اور انڈیکس 54 ہزار کی ایک اور نفسیاتی حد عبور کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایک موقع پر انڈیکس 54 ہزار 312 پوائنٹس کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن اس کے بعد بتدریج کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس گر کر 53 ہزار 735 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 1.14 فیصد یا 615 پوائنٹس اضافے کے بعد 54 ہزار 350 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل نے بتایا کہ آج تجارت کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس 54 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ مثبت رجحان کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ شرح سود میں توقع سے پہلی کمی کی توقعات ہیں، جو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ہوئی، جس کے سبب پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ایکویٹی سیلز فاران رضوی نے بتایا کہ مارکیٹ اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں تکنیکی طور پر زیادہ خریداری کی جارہی ہے اور ممکنہ طور پر اس سطح کے قریب رکنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بالحاظ قدر حصص کی قیمتیں غیر معمولی طور پر کم  رہیں، جبکہ سرمایہ کار فعال انداز میں ایسے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2017 میں انڈیکس کی بُلند سطح پر پہنچنے کے مقابلے میں حصص کی قدر گر کر ایک تہائی رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر خصوصی مثال دی جائے تو (پرائس ٹو ارننگ ریشو) قیمت کے حساب سے آمدنی مئی 2017 میں 12 فیصد  تھی، جب انڈیکس 52 ہزار 800 پوائنٹس پر تھا، آج یہ شرح گر کر محض 4 پر آگئی ہے، حالانکہ بینچ مارک انڈیکس 54 ہزار کے قریب ہے، یہ ایک پیمانہ ہے، جس کا تعلق کمپنی کے شیئر کی قیمت اور فی حصص آمدنی سے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج صبح تجارت کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا اور انڈیکس 54 ہزار کی ایک اور نفسیاتی حد عبور کر گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایک موقع پر انڈیکس 54 ہزار 312 پوائنٹس کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن اس کے بعد بتدریج کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس گر کر 53 ہزار 735 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 1.14 فیصد یا 615 پوائنٹس اضافے کے بعد 54 ہزار 350 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل نے بتایا کہ آج تجارت کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس 54 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ مثبت رجحان کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ شرح سود میں توقع سے پہلی کمی کی توقعات ہیں، جو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ہوئی، جس کے سبب پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہوسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ایکویٹی سیلز فاران رضوی نے بتایا کہ مارکیٹ اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں تکنیکی طور پر زیادہ خریداری کی جارہی ہے اور ممکنہ طور پر اس سطح کے قریب رکنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بالحاظ قدر حصص کی قیمتیں غیر معمولی طور پر کم  رہیں، جبکہ سرمایہ کار فعال انداز میں ایسے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>مئی 2017 میں انڈیکس کی بُلند سطح پر پہنچنے کے مقابلے میں حصص کی قدر گر کر ایک تہائی رہ گئی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر خصوصی مثال دی جائے تو (پرائس ٹو ارننگ ریشو) قیمت کے حساب سے آمدنی مئی 2017 میں 12 فیصد  تھی، جب انڈیکس 52 ہزار 800 پوائنٹس پر تھا، آج یہ شرح گر کر محض 4 پر آگئی ہے، حالانکہ بینچ مارک انڈیکس 54 ہزار کے قریب ہے، یہ ایک پیمانہ ہے، جس کا تعلق کمپنی کے شیئر کی قیمت اور فی حصص آمدنی سے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215703</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Nov 2023 16:12:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/0812393346f7893.jpg?r=123941" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/0812393346f7893.jpg?r=123941"/>
        <media:title>گزشتہ ہفتے ساڑھے 6 سال بعد انڈیکس 53 ہزار پوائنٹس کی تاریخی بلند سطح حد عبور کر گیا تھا — فائل فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
