<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:35:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:35:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی نجکاری کیلئے مشیر مقرر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215999/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (پی آئی اے سی ایل) کی تقسیم کا باقاعدہ عمل جمعے کو بورڈ برائے نجکاری کمیشن کی جانب سے لین دین کے لیے مالیاتی مشیر مقرر کرنے کے  بعد شروع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1788332/adviser-appointed-for-pia-privatisation"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ارنسٹ اینڈ ینگ کی زیر قیادت کنسورشیم دلچسپی رکھنے والے 8 اداروں میں فاتح بن کر ابھرا جنہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اپنی تکنیکی اور مالی تجاویز پیش کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طے شدہ معیار کی بنیاد پر نجکاری بورڈ کی جانب سے تشکیل دی گئی جائزہ کمیٹی نے ارنسٹ اینڈ ینگ کو اعلیٰ درجے کی دلچسپی رکھنے والی پارٹی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے میں بتایا گیا کہ بورڈ نے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی اور اسے کامیاب بولی لگانے والے کے ساتھ مالیاتی خدمات کے معاہدے کو مکمل کرنے کا کام سونپا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213444"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستیاب معلومات کے مطابق پی آئے اے نے 2011 میں غیر منافع بخش ہونا شروع ہوئی اور اسے حکومتی سبسڈی کی ضرورت پڑی، 2016 کے آخر تک عوامی ایئرلائن پر 3 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا تھا، 2018 کے اختتام پر گزشتہ سال کے 2.97 ارب ڈالر کے مقابلے پی آئی اے 3.3 ارب ڈالر کی قرض دار ہوگئی اور اس لیے آپریشن جاری رکھنے کے لیے حکومتی بیل آؤٹس کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2019 میں ہونے والے آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 2016 سے 2017 کے دوران پی آئی اے نے بنا کسی مسافر کے  46 خالی پروازیں چلائیں جس سے ایئر لائن کو 11 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا، اس کے ساتھ ہی 36 حج پروازیں بھی بغیر مسافروں کے چلائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل)  کے مالیاتی مشیر کے ساتھ مالیاتی خدمات کے معاہدے میں توسیع اور فرسٹ ویمن بینک لیمٹڈ(ایف ڈبلیو بی ایل) کے ساتھ مالیاتی معاہدے کی بحالی بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے 35 سال سے تاخیر کا شکار  پاک چین فرٹیلائزر کی نجکاری کے مسائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل) کے ساتھ مالیاتی خدمات کا معاہدہ اس سال جنوری میں ختم ہوگیا تھا، بورڈ نے اس میں  دو سال کی توسیع کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے مالیاتی مشیر سے درکار اضافی کام کی وجہ سے لاگت پر نظر ثانی کی بھی اجازت دی ، اسی طرح فرسٹ ویمن بینک لیمٹڈ( ایف ڈبلیو بی ایل) کے ساتھ ہونے والا مالیاتی معاہدہ اس سال اپریل میں ختم ہوگیا تھا، اس معاہدے میں تبدیل شدہ کام کے دائرہ کار کے لیے قیمت کی ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ  24 ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایچ پی ایف سی ایل اور ایف ڈبلیو بی ایل دونوں کی نجکاری میں غیر ضروری طور پر تاخیر کی ذمہ داری معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے بعد طے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک چین فرٹیلائزر کی نجکاری میں مسائل اور قانونی چارہ جوئی کا جائزہ لینے کے بعد بورڈ نے ہدایت دی کہ آغاز سے لے کر اب تک نجکاری کنٹریکٹ کی کارروائیوں کی تفصیلات اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے ان عوامل کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ثالثی ایوارڈ 1997 کے فیصلے کے باوجود نجکاری کمیشن کے مؤقف میں کئی بار تبدیلی کا باعث بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ اگلے اجلاس میں  تمام تفصیلات کا جائزہ لے کر عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک حتمی مؤقف تشکیل دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (پی آئی اے سی ایل) کی تقسیم کا باقاعدہ عمل جمعے کو بورڈ برائے نجکاری کمیشن کی جانب سے لین دین کے لیے مالیاتی مشیر مقرر کرنے کے  بعد شروع ہوگیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1788332/adviser-appointed-for-pia-privatisation">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ارنسٹ اینڈ ینگ کی زیر قیادت کنسورشیم دلچسپی رکھنے والے 8 اداروں میں فاتح بن کر ابھرا جنہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اپنی تکنیکی اور مالی تجاویز پیش کی تھیں۔</p>
<p>طے شدہ معیار کی بنیاد پر نجکاری بورڈ کی جانب سے تشکیل دی گئی جائزہ کمیٹی نے ارنسٹ اینڈ ینگ کو اعلیٰ درجے کی دلچسپی رکھنے والی پارٹی قرار دیا۔</p>
<p>رپورٹ کے میں بتایا گیا کہ بورڈ نے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی اور اسے کامیاب بولی لگانے والے کے ساتھ مالیاتی خدمات کے معاہدے کو مکمل کرنے کا کام سونپا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213444"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دستیاب معلومات کے مطابق پی آئے اے نے 2011 میں غیر منافع بخش ہونا شروع ہوئی اور اسے حکومتی سبسڈی کی ضرورت پڑی، 2016 کے آخر تک عوامی ایئرلائن پر 3 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا تھا، 2018 کے اختتام پر گزشتہ سال کے 2.97 ارب ڈالر کے مقابلے پی آئی اے 3.3 ارب ڈالر کی قرض دار ہوگئی اور اس لیے آپریشن جاری رکھنے کے لیے حکومتی بیل آؤٹس کی ضرورت تھی۔</p>
<p>ستمبر 2019 میں ہونے والے آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 2016 سے 2017 کے دوران پی آئی اے نے بنا کسی مسافر کے  46 خالی پروازیں چلائیں جس سے ایئر لائن کو 11 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا، اس کے ساتھ ہی 36 حج پروازیں بھی بغیر مسافروں کے چلائی گئیں۔</p>
<p>نجکاری کمیشن بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل)  کے مالیاتی مشیر کے ساتھ مالیاتی خدمات کے معاہدے میں توسیع اور فرسٹ ویمن بینک لیمٹڈ(ایف ڈبلیو بی ایل) کے ساتھ مالیاتی معاہدے کی بحالی بھی شامل تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے 35 سال سے تاخیر کا شکار  پاک چین فرٹیلائزر کی نجکاری کے مسائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔</p>
<p>ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل) کے ساتھ مالیاتی خدمات کا معاہدہ اس سال جنوری میں ختم ہوگیا تھا، بورڈ نے اس میں  دو سال کی توسیع کی منظوری دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بورڈ نے مالیاتی مشیر سے درکار اضافی کام کی وجہ سے لاگت پر نظر ثانی کی بھی اجازت دی ، اسی طرح فرسٹ ویمن بینک لیمٹڈ( ایف ڈبلیو بی ایل) کے ساتھ ہونے والا مالیاتی معاہدہ اس سال اپریل میں ختم ہوگیا تھا، اس معاہدے میں تبدیل شدہ کام کے دائرہ کار کے لیے قیمت کی ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ  24 ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایچ پی ایف سی ایل اور ایف ڈبلیو بی ایل دونوں کی نجکاری میں غیر ضروری طور پر تاخیر کی ذمہ داری معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے بعد طے کی جائے گی۔</p>
<p>پاک چین فرٹیلائزر کی نجکاری میں مسائل اور قانونی چارہ جوئی کا جائزہ لینے کے بعد بورڈ نے ہدایت دی کہ آغاز سے لے کر اب تک نجکاری کنٹریکٹ کی کارروائیوں کی تفصیلات اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔</p>
<p>بورڈ نے ان عوامل کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ثالثی ایوارڈ 1997 کے فیصلے کے باوجود نجکاری کمیشن کے مؤقف میں کئی بار تبدیلی کا باعث بنے۔</p>
<p>یہ فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ اگلے اجلاس میں  تمام تفصیلات کا جائزہ لے کر عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک حتمی مؤقف تشکیل دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215999</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Nov 2023 17:33:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/111518496d6b6a7.jpg?r=173326" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/111518496d6b6a7.jpg?r=173326"/>
        <media:title>جائزہ کمیٹی نے ارنسٹ اینڈ ینگ کو اعلیٰ درجہ کی دلچسپی رکھنے والی پارٹی قرار دیا—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
