<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:19:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:19:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا بھارتی ٹیم ناک آؤٹ میچوں میں شکست کے بھوت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب رہے گی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216265/</link>
      <description>&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2023 کے پہلے سیمی فائنل میں کل میزبان بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی جہاں بھارتی ٹیم کی نظریں گزشتہ ایک دہائی سے ناک آؤٹ مقابلوں میں ناکامی کی روایت کو توڑتے ہوئے فائنل تک رسائی پر مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی ٹیم نے گزشتہ 10سال کے دوران آئی سی سی مقابلوں میں بہترین کھیل پیش کیا ہے لیکن سیمی فائنل یا ناک آؤٹ مرحلے میں اس کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور مسلسل بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم ایک میچ میں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے آخری آئی سی سی ایونٹ 2013 میں جیتا تھا جب مہندرا سنگھ دھونی کی زیر قیادت بھارت نے انگلینڈ کو فائنل میں شکست دے کر چیمپیئنز ٹرافی کا چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد بھارت کی ٹیم آئی سی سی مقابلوں میں تواتر سے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ناک آؤٹ مقابلوں میں پہنچتی رہی لیکن کسی بھی موقع پر ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے اس وقت کی دفاعی چیمپیئن ٹیم کا خواب چکنا چور کردیا جبکہ 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز نے سیمی فائنل میں مات دے کر بھارت کے سفر کا خاتمہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2017 کی چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کی ٹیم پورے ایونٹ میں ناقابل شکست رہی تھی لیکن فائنل میں روایتی حریف پاکستان نے ان کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے 180 رنز سے ہرا کر چیمپیئنز ٹرافی کے ٹائٹل سے بھی محروم کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 کے ورلڈ کپ میں بھی بھارت کو راؤنڈ میچز میں صرف انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور وہ سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہے تھے لیکن ورلڈ کپ کے لیے فیورٹ تصور کی جانے والی ٹیم کو نیوزی لینڈ نے دلچسپ مقابلے کے بعد مات دے کر ٹائٹل کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد 2021 کا ٹی20 ورلڈ کپ بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا تھا جہاں وہ پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئے تھے جبکہ 2022 میں آسٹریلیا میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی بھارت کی ٹیم سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216031"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف محدود اوورز کی کرکٹ نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہترین کھیل کے باوجود ٹائٹل بھارتی ٹیم کی دسترس میں نہ آسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ متعارف کرائی تو بھارت نے 2019 سے 2021 تک کھیلی گئی چیمپیئن شپ کے فائنل میں جگہ بنائی لیکن فائنل میں ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ کی عمدہ باؤلنگ بھارتی بلے بازوں کے عزائم کے آڑے آگئی اور نیوزی لینڈ نے میچ میں کامیابی حاصل کر کے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 سے 2023 کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل میں بھی بھارتی ٹیم پہنچنے میں کامیاب رہی لیکن اس مرتبہ آسٹریلیا نے ان کے ارمانوں کو خاک میں ملاتے ہوئے 209 رنز سے مات دی تھی اور بھارت لگاتار دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے کے باوجود بھی ٹیسٹ چیمپیئن شپ نہیں جیت سکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بھارتی ٹیم اپنی سرزمین پر کھیلے جا رہے ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست ہے اور لگاتار 9 میچز جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے اور اس نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے تمام ٹیموں کو آؤٹ کلاس کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا ہو گا کہ بھارتی ٹیم اپنے اگلے دونوں میچوں میں ناک آؤٹ مرحلوں میں شکست کے بھوت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوتی ہے یا اسے ایک مرتبہ پھر ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ورلڈ کپ 2023 کے پہلے سیمی فائنل میں کل میزبان بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی جہاں بھارتی ٹیم کی نظریں گزشتہ ایک دہائی سے ناک آؤٹ مقابلوں میں ناکامی کی روایت کو توڑتے ہوئے فائنل تک رسائی پر مرکوز ہیں۔</p>
<p>بھارت کی ٹیم نے گزشتہ 10سال کے دوران آئی سی سی مقابلوں میں بہترین کھیل پیش کیا ہے لیکن سیمی فائنل یا ناک آؤٹ مرحلے میں اس کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور مسلسل بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم ایک میچ میں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>بھارت نے آخری آئی سی سی ایونٹ 2013 میں جیتا تھا جب مہندرا سنگھ دھونی کی زیر قیادت بھارت نے انگلینڈ کو فائنل میں شکست دے کر چیمپیئنز ٹرافی کا چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد بھارت کی ٹیم آئی سی سی مقابلوں میں تواتر سے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ناک آؤٹ مقابلوں میں پہنچتی رہی لیکن کسی بھی موقع پر ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکی۔</p>
<p>2015 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے اس وقت کی دفاعی چیمپیئن ٹیم کا خواب چکنا چور کردیا جبکہ 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز نے سیمی فائنل میں مات دے کر بھارت کے سفر کا خاتمہ کیا تھا۔</p>
<p>2017 کی چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کی ٹیم پورے ایونٹ میں ناقابل شکست رہی تھی لیکن فائنل میں روایتی حریف پاکستان نے ان کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے 180 رنز سے ہرا کر چیمپیئنز ٹرافی کے ٹائٹل سے بھی محروم کردیا تھا۔</p>
<p>2019 کے ورلڈ کپ میں بھی بھارت کو راؤنڈ میچز میں صرف انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور وہ سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہے تھے لیکن ورلڈ کپ کے لیے فیورٹ تصور کی جانے والی ٹیم کو نیوزی لینڈ نے دلچسپ مقابلے کے بعد مات دے کر ٹائٹل کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد 2021 کا ٹی20 ورلڈ کپ بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا تھا جہاں وہ پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئے تھے جبکہ 2022 میں آسٹریلیا میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی بھارت کی ٹیم سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216031"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صرف محدود اوورز کی کرکٹ نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہترین کھیل کے باوجود ٹائٹل بھارتی ٹیم کی دسترس میں نہ آسکا۔</p>
<p>آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ متعارف کرائی تو بھارت نے 2019 سے 2021 تک کھیلی گئی چیمپیئن شپ کے فائنل میں جگہ بنائی لیکن فائنل میں ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ کی عمدہ باؤلنگ بھارتی بلے بازوں کے عزائم کے آڑے آگئی اور نیوزی لینڈ نے میچ میں کامیابی حاصل کر کے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔</p>
<p>2021 سے 2023 کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل میں بھی بھارتی ٹیم پہنچنے میں کامیاب رہی لیکن اس مرتبہ آسٹریلیا نے ان کے ارمانوں کو خاک میں ملاتے ہوئے 209 رنز سے مات دی تھی اور بھارت لگاتار دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے کے باوجود بھی ٹیسٹ چیمپیئن شپ نہیں جیت سکا تھا۔</p>
<p>اب بھارتی ٹیم اپنی سرزمین پر کھیلے جا رہے ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست ہے اور لگاتار 9 میچز جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے اور اس نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے تمام ٹیموں کو آؤٹ کلاس کیا ہے۔</p>
<p>اب دیکھنا ہو گا کہ بھارتی ٹیم اپنے اگلے دونوں میچوں میں ناک آؤٹ مرحلوں میں شکست کے بھوت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوتی ہے یا اسے ایک مرتبہ پھر ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216265</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Nov 2023 20:09:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/14190603cef6927.jpg?r=200355" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/14190603cef6927.jpg?r=200355"/>
        <media:title>ویرات کوہلی اور روہت شرما دونوں 10 سال سے بھارتی ٹیم کے رکن ہے لیکن بھارتی ٹیم اس دوران کوئی آئی سی سی ٹرافی نہیں جیت سکی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
