<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:26:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:26:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی بار برف کے رن وے پر انٹارکٹیکا میں وزنی طیارہ اتر گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216545/</link>
      <description>&lt;p&gt;تاریخ میں پہلی بار  برفانی براعظم انٹارکٹیکا میں برف پر بنے رن روے پر انتہائی وزن طیارہ لینڈ کر گیا، جسے تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹارکٹیکا قطب جنوب میں واقع ہے، اسے دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا ترین براعظم کہا جاتا ہے، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے لیکن کئی سال سے مذکورہ براعظم سائنسدانوں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ براعظم کا 98 فیصد برف اور پانی سے بھرا ہوا ہے، جس وجہ سے وہاں انسانی آبادی نہیں لیکن انٹارکٹیکا سائنسی تحقیق کا مرکز ہے اور وہاں متعدد سائنسی اور تجرباتی اسٹیشنز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہا جاتا ہے کہ 20 لاکھ سال سے انٹارکٹیکا میں بارشیں نہیں ہوئیں لیکن اس باوجود وہاں پر موجود 80 فیصد پانی میٹھا اور پینے کے قابل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹارکٹیکا ہمیشہ ہی دنیا کے تمام افراد اور سائنسدانوں کے لیے حیرت کا مرکز رہا ہے، کہتے ہیں کہ اسے پہلی بار سن 1800 کے بعد دریافت کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/realpeacenotwar/status/1725393835038269580"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ماضی میں بھی انٹارکٹیکا میں طیارے اور ہیلی کاپٹرز اترتے اور جاتے رہے ہیں لیکن اب پہلی بار وہاں بھاری اور بڑے طیارے کو لے جایا گیا اور ماہرین مذکورہ طیارے کی لینڈنگ کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/travel/boeing-787-dreamliner-lands-antarctica/index.html"&gt;&lt;strong&gt;’سی این این‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق معروف کمپنی ڈریم لائنر کا بوئنگ 787 پہلی بار 16 نومبر کو انٹارکٹیکا سے کامیاب پرواز کے بعد واپس آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ طیارہ 13 نومبر کو ناروے کے شہر اوسلو سے انٹارکٹیکا کے لیے روانہ ہوا تھا اور طیارہ جنوبی افریقی شہر کیپ ٹاؤن سے ہوتا ہوا برفارنی براعظم گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے کو کیپ ٹاؤن میں 48 گھنٹوں تک رکھنے کے بعد انٹارکٹیکا لے جایا گیا، جہاں وہ 16 نومبر کے آغاز میں دن کے ٹائم برفانی رن وے پر اترا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے فضائی معلومات سے متعلق &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.flightradar24.com/blog/787-in-antarctica/"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جس برفانی رن وے پر بھاری طیارہ اترا وہ تین ہزار میٹر لمبی اور 60 میٹر چوڑی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/11/17192356a17a702.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹارکٹیکا کے برفانی رن وے پر اترنے والے جہاز میں 40 کے قریب افراد سوار تھے اور اس میں 12 ٹن تک سائنسی تحقیق کی مشینیں اور دیگر آلات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے نے کیپ ٹاؤن سے انٹارکٹیکا کا سفر پانچ گھنٹے میں طے کیا اور برفانی براعظم پر اترنے کے بعد 4 گھنٹے کے وقفے سے طیارے نے واپسی کا سفر شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی بار انٹارکٹیکا میں وزنی طیارے کے اترنے کے بعد خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سائنسدان وہاں سیاحوں کو لے جانے کے لیے منظم انتظامات کریں گے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ انٹارکٹیکا میں چھوٹے اور درمیانے طیارے جاتے رہے ہیں، تاہم پہلی بار بڑے اور وزنی طیارے کو وہاں لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/realpeacenotwar/status/1725394773966815277"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تاریخ میں پہلی بار  برفانی براعظم انٹارکٹیکا میں برف پر بنے رن روے پر انتہائی وزن طیارہ لینڈ کر گیا، جسے تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انٹارکٹیکا قطب جنوب میں واقع ہے، اسے دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا ترین براعظم کہا جاتا ہے، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے لیکن کئی سال سے مذکورہ براعظم سائنسدانوں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
<p>مذکورہ براعظم کا 98 فیصد برف اور پانی سے بھرا ہوا ہے، جس وجہ سے وہاں انسانی آبادی نہیں لیکن انٹارکٹیکا سائنسی تحقیق کا مرکز ہے اور وہاں متعدد سائنسی اور تجرباتی اسٹیشنز موجود ہیں۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ 20 لاکھ سال سے انٹارکٹیکا میں بارشیں نہیں ہوئیں لیکن اس باوجود وہاں پر موجود 80 فیصد پانی میٹھا اور پینے کے قابل ہے۔</p>
<p>انٹارکٹیکا ہمیشہ ہی دنیا کے تمام افراد اور سائنسدانوں کے لیے حیرت کا مرکز رہا ہے، کہتے ہیں کہ اسے پہلی بار سن 1800 کے بعد دریافت کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/realpeacenotwar/status/1725393835038269580"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ ماضی میں بھی انٹارکٹیکا میں طیارے اور ہیلی کاپٹرز اترتے اور جاتے رہے ہیں لیکن اب پہلی بار وہاں بھاری اور بڑے طیارے کو لے جایا گیا اور ماہرین مذکورہ طیارے کی لینڈنگ کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/travel/boeing-787-dreamliner-lands-antarctica/index.html"><strong>’سی این این‘</strong></a> کے مطابق معروف کمپنی ڈریم لائنر کا بوئنگ 787 پہلی بار 16 نومبر کو انٹارکٹیکا سے کامیاب پرواز کے بعد واپس آگیا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ طیارہ 13 نومبر کو ناروے کے شہر اوسلو سے انٹارکٹیکا کے لیے روانہ ہوا تھا اور طیارہ جنوبی افریقی شہر کیپ ٹاؤن سے ہوتا ہوا برفارنی براعظم گیا۔</p>
<p>طیارے کو کیپ ٹاؤن میں 48 گھنٹوں تک رکھنے کے بعد انٹارکٹیکا لے جایا گیا، جہاں وہ 16 نومبر کے آغاز میں دن کے ٹائم برفانی رن وے پر اترا۔</p>
<p>اسی حوالے سے فضائی معلومات سے متعلق <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.flightradar24.com/blog/787-in-antarctica/"><strong>ویب سائٹ</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جس برفانی رن وے پر بھاری طیارہ اترا وہ تین ہزار میٹر لمبی اور 60 میٹر چوڑی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/11/17192356a17a702.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹارکٹیکا کے برفانی رن وے پر اترنے والے جہاز میں 40 کے قریب افراد سوار تھے اور اس میں 12 ٹن تک سائنسی تحقیق کی مشینیں اور دیگر آلات تھے۔</p>
<p>طیارے نے کیپ ٹاؤن سے انٹارکٹیکا کا سفر پانچ گھنٹے میں طے کیا اور برفانی براعظم پر اترنے کے بعد 4 گھنٹے کے وقفے سے طیارے نے واپسی کا سفر شروع کیا۔</p>
<p>پہلی بار انٹارکٹیکا میں وزنی طیارے کے اترنے کے بعد خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سائنسدان وہاں سیاحوں کو لے جانے کے لیے منظم انتظامات کریں گے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ انٹارکٹیکا میں چھوٹے اور درمیانے طیارے جاتے رہے ہیں، تاہم پہلی بار بڑے اور وزنی طیارے کو وہاں لے جایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/realpeacenotwar/status/1725394773966815277"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216545</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Nov 2023 21:12:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/171920532666b98.jpg?r=192351" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/171920532666b98.jpg?r=192351"/>
        <media:title>—فوٹو: نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
