<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:45:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:45:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکنگ مارکیٹ میں متوازی شرح تبادلہ دوبارہ نمایاں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216686/</link>
      <description>&lt;p&gt;بینکنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں متوازی شرح تبادلہ دوبارہ نمایاں ہوگئی ہے جہاں ڈالر سرکاری شرح تبادلہ کے برعکس زائد نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، اس سے خاص طور پر چھوٹے درآمد کنندگان متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1790590/dual-exchange-rate-resurfaces-in-banking-market"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق درآمدات یا لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے پر اب کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے، اس کے باوجود یہ فرق سامنے آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں کرنسی ڈیلر عاطف احمد نے کہا کہ کچھ درآمد کنندگان اب بھی سرکاری نرخ پر ڈالر حاصل کر سکتے ہیں لیکن بالخصوص چھوٹے درآمد کنندگان سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے طے کردہ سرکاری نرخ سے 2 روپے سے 3 روپے فی ڈالر زیادہ وصول کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکرز کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حکومت کی حالیہ بات چیت کے دوران ایل سیز کھولنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی شرح تبادلہ سے متعلق پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کرنسی کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کے خلاف مشورہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ سیکٹر، کرنسی مارکیٹ میں اسٹیٹ بینک کی مداخلت کی تردید کرتا ہے لیکن بینکرز الزام لگاتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک سے زبانی ہدایات موصول ہوتی ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ بعض اوقات اسٹیٹ بینک صبح کے وقت ایکسچینج ریٹ جاری کرتا ہے اور بینک اس نرخ کے پابند ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر سے قبل اوپن مارکیٹ کے ساتھ ایک متوازی مارکیٹ بھی فعال ہوگئی تھی جس نے سرکاری شرح تبادلہ کو بری طرح متاثر کیا، تقریباً 4 ارب ڈالر کی ترسیلات کو غیر قانونی چینلز کی جانب موڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ستمبر کے اوائل میں اس غیر قانونی مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ میں نمایاں کمی واقع ہوئی، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط ہوا اور ڈالر کی قدر 330 سے کم ہوکر 277 پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی قدر میں حال ہی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ 2 سیشنز میں 1.64 روپے کی کمی سے پہلے مسلسل 17 سیشنز میں بڑھتی رہی، کرنسی کے ماہرین اور تجزیہ کار موجودہ شرح تبادلہ کے بنیادی اصولوں کی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ماہر اور کرنسی تجزیہ کار نے کہا کہ جیسے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا، مالیاتی شعبے کی اعلیٰ مشینری نے درآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کو نیچے لانے کے لیے مارکیٹ میں اپنائے جانے والے حربوں کے ساتھ مداخلت کی گئی، مبینہ طور پر درآمدی ادائیگیاں ملتوی کر دی گئیں، نئی ایل سی کا اجرا محدود کر دیا گیا اور مارکیٹ ٹریڈنگ میں کڑی نگرانی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مداخلت کے نتیجے میں روپیہ 17 دن کے مسلسل خسارے کے بعد سنبھلا اور ڈالر کے مقابلے میں 288 سے 286.50 تک آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب مارکیٹ میں تخمینہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید مضبوط ہوجائے گا اور تقریباً 282 پر آجائے گا، توقع ہے کہ اُس وقت اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری دوبارہ شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ کثیرالجہتی اداروں کی جانب سے قرضے اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے قرض کی قسط کی منظوری سے روپے کی قدر میں بہتری کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بینکنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں متوازی شرح تبادلہ دوبارہ نمایاں ہوگئی ہے جہاں ڈالر سرکاری شرح تبادلہ کے برعکس زائد نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، اس سے خاص طور پر چھوٹے درآمد کنندگان متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1790590/dual-exchange-rate-resurfaces-in-banking-market"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق درآمدات یا لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے پر اب کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے، اس کے باوجود یہ فرق سامنے آرہا ہے۔</p>
<p>انٹربینک مارکیٹ میں کرنسی ڈیلر عاطف احمد نے کہا کہ کچھ درآمد کنندگان اب بھی سرکاری نرخ پر ڈالر حاصل کر سکتے ہیں لیکن بالخصوص چھوٹے درآمد کنندگان سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے طے کردہ سرکاری نرخ سے 2 روپے سے 3 روپے فی ڈالر زیادہ وصول کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>بینکرز کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حکومت کی حالیہ بات چیت کے دوران ایل سیز کھولنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی شرح تبادلہ سے متعلق پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کرنسی کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کے خلاف مشورہ دیا ہے۔</p>
<p>بینکنگ سیکٹر، کرنسی مارکیٹ میں اسٹیٹ بینک کی مداخلت کی تردید کرتا ہے لیکن بینکرز الزام لگاتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک سے زبانی ہدایات موصول ہوتی ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ بعض اوقات اسٹیٹ بینک صبح کے وقت ایکسچینج ریٹ جاری کرتا ہے اور بینک اس نرخ کے پابند ہوتے ہیں۔</p>
<p>ستمبر سے قبل اوپن مارکیٹ کے ساتھ ایک متوازی مارکیٹ بھی فعال ہوگئی تھی جس نے سرکاری شرح تبادلہ کو بری طرح متاثر کیا، تقریباً 4 ارب ڈالر کی ترسیلات کو غیر قانونی چینلز کی جانب موڑ دیا گیا۔</p>
<p>تاہم ستمبر کے اوائل میں اس غیر قانونی مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ میں نمایاں کمی واقع ہوئی، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط ہوا اور ڈالر کی قدر 330 سے کم ہوکر 277 پر آگئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈالر کی قدر میں حال ہی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ 2 سیشنز میں 1.64 روپے کی کمی سے پہلے مسلسل 17 سیشنز میں بڑھتی رہی، کرنسی کے ماہرین اور تجزیہ کار موجودہ شرح تبادلہ کے بنیادی اصولوں کی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>ایک ماہر اور کرنسی تجزیہ کار نے کہا کہ جیسے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا، مالیاتی شعبے کی اعلیٰ مشینری نے درآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔</p>
<p>ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کو نیچے لانے کے لیے مارکیٹ میں اپنائے جانے والے حربوں کے ساتھ مداخلت کی گئی، مبینہ طور پر درآمدی ادائیگیاں ملتوی کر دی گئیں، نئی ایل سی کا اجرا محدود کر دیا گیا اور مارکیٹ ٹریڈنگ میں کڑی نگرانی کی گئی۔</p>
<p>اس مداخلت کے نتیجے میں روپیہ 17 دن کے مسلسل خسارے کے بعد سنبھلا اور ڈالر کے مقابلے میں 288 سے 286.50 تک آگیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب مارکیٹ میں تخمینہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید مضبوط ہوجائے گا اور تقریباً 282 پر آجائے گا، توقع ہے کہ اُس وقت اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری دوبارہ شروع کی جائے گی۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ کثیرالجہتی اداروں کی جانب سے قرضے اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے قرض کی قسط کی منظوری سے روپے کی قدر میں بہتری کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216686</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Nov 2023 14:19:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/191114287b70313.jpg?r=141952" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/191114287b70313.jpg?r=141952"/>
        <media:title>ڈالر کی قدر میں حال ہی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے — فائل فوٹو: ڈان آرکائیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
