<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 18:33:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 18:33:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کیلئے لفظ ’صاحب‘ کے استعمال پر پابندی عائد کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216847/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ کسی کے عہدے کے ساتھ لفظ ’صاحب‘ شامل کرنے کی روایت کو بند کرنا چاہیے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر سرکاری ملازمین کے درجے کو بلند کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میریم ویبسٹر لغت کے مطابق لفظ صاحب کا &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.merriam-webster.com/dictionary/sahib"&gt;&lt;strong&gt;مطلب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سر یا ماسٹر ہے، یہ خاص طور پر نوآبادیاتی بھارت کے مقامی باشندوں کے درمیان استعمال کیا جاتا تھا، جب وہ سماجی یا سرکاری حیثیت کے کسی یورپی فرد سے خطاب یا بات کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے درخواست ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایک حکم میں اس لفظ کے استعمال کو روک دیا، زیر سماعت کیس گزشتہ سال پشاور میں ایک بچے کے قتل کا معاملہ ہے، پولیس نے متاثرہ بچے کے لواحقین کے بیانات کی بنیاد پر درخواست گزار جاوید خان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں پٹیشنر نے ضمانت کی درخواست دیتے ہوئے  استدعا کی کہ لواحقین کے بیانات درست نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان نے اپیل پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1104816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے کے مطابق چیف جسٹس نے  مشاہدہ کیا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ڈی ایس پی صاحب کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔
 
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کسی عہدے کے ساتھ لفظ ’صاحب‘ کا استعمال  روکا جائے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر سرکاری ملازمین  کے درجے کو بلند کردیتا ہے اور یہ ان میں عظمت کا وہم اور غیر احتسابی کا احساس پیدا کرسکتا ہے جو ناقابل قبول ہے، کیونکہ یہ عوامی مفادات کے خلاف ہے جن کی خدمت کرنا ان افسران کا فرض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ دوران سماعت یہ بات سامنے آئی کہ کیس کا چالان محض 2 بیانات پر مبنی ہے اور معلومات کرنے کے لیے مناسب تفتیش نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ یہ نااہلی سے کی گئی تحقیقات کی ایک بہترین مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کے بجائے جرم کی تفتیش کرنے والے 2 تفتیشی افسران پشاور سے سفر کر کے ایسے دستاویزات لائے، جسے ای میل، فیکس یا واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا جاسکتا تھا اور پھر  متعلقہ دستاویزات پیش کی جاسکتی تھیں، جو درخواست ضمانت کے نتائج کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست گزار کو ضمانت دے دی اور حکم دیا کہ مزید تحقیقات کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ کسی کے عہدے کے ساتھ لفظ ’صاحب‘ شامل کرنے کی روایت کو بند کرنا چاہیے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر سرکاری ملازمین کے درجے کو بلند کر دیتا ہے۔</p>
<p>میریم ویبسٹر لغت کے مطابق لفظ صاحب کا <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.merriam-webster.com/dictionary/sahib"><strong>مطلب</strong></a> سر یا ماسٹر ہے، یہ خاص طور پر نوآبادیاتی بھارت کے مقامی باشندوں کے درمیان استعمال کیا جاتا تھا، جب وہ سماجی یا سرکاری حیثیت کے کسی یورپی فرد سے خطاب یا بات کرتے تھے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے درخواست ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایک حکم میں اس لفظ کے استعمال کو روک دیا، زیر سماعت کیس گزشتہ سال پشاور میں ایک بچے کے قتل کا معاملہ ہے، پولیس نے متاثرہ بچے کے لواحقین کے بیانات کی بنیاد پر درخواست گزار جاوید خان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا تھا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں پٹیشنر نے ضمانت کی درخواست دیتے ہوئے  استدعا کی کہ لواحقین کے بیانات درست نہیں ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان نے اپیل پر سماعت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1104816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے کے مطابق چیف جسٹس نے  مشاہدہ کیا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ڈی ایس پی صاحب کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔
 
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کسی عہدے کے ساتھ لفظ ’صاحب‘ کا استعمال  روکا جائے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر سرکاری ملازمین  کے درجے کو بلند کردیتا ہے اور یہ ان میں عظمت کا وہم اور غیر احتسابی کا احساس پیدا کرسکتا ہے جو ناقابل قبول ہے، کیونکہ یہ عوامی مفادات کے خلاف ہے جن کی خدمت کرنا ان افسران کا فرض ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ دوران سماعت یہ بات سامنے آئی کہ کیس کا چالان محض 2 بیانات پر مبنی ہے اور معلومات کرنے کے لیے مناسب تفتیش نہیں کی گئی۔</p>
<p>چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ یہ نااہلی سے کی گئی تحقیقات کی ایک بہترین مثال ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کے بجائے جرم کی تفتیش کرنے والے 2 تفتیشی افسران پشاور سے سفر کر کے ایسے دستاویزات لائے، جسے ای میل، فیکس یا واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا جاسکتا تھا اور پھر  متعلقہ دستاویزات پیش کی جاسکتی تھیں، جو درخواست ضمانت کے نتائج کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔</p>
<p>چیف جسٹس نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست گزار کو ضمانت دے دی اور حکم دیا کہ مزید تحقیقات کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216847</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Nov 2023 17:02:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/21143757ba596fc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/21143757ba596fc.jpg"/>
        <media:title>چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ یہ لفظ غیر ضروری طور پر سرکاری ملازمین کے درجے کو بلند کردیتا ہے —فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
