<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 01:48:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 01:48:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ فلیکس پر فلم نہ چلائے جانے پر ڈپریشن ہوگیا، دو دل کے دورے پڑے، انوراگ کشیپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216948/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف بولی وڈ فلم ساز اور اداکار انوراگ کشیپ نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’نیٹ فلیکس‘ کی جانب سے عین وقت پر فلم کو نہ چلائے جانے کے فیصلے پر وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئے، یہاں تک انہیں دو بار دل کے دورے بھی پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار  &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/world/2023/11/20/india-netflix-amazon-movies-self-censorship/"&gt;&lt;strong&gt;’واشنگٹن پوسٹ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے انوراگ کشیپ نے پہلی بار نیٹ فلیکس کی جانب سے فلم کو چلانے کے انکار سے صحت پر پڑنے والے اثرات پر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم ساز کے مطابق انہوں نے نیٹ فلیکس کی مدد سے انتہائی محنت اور دل لگی سے ’میکسیمم سٹی‘ نامی فلم تیار کی تھی لیکن اس کی تیاری کے دوران ہی اسٹریمنگ پلیٹ فارم پیچھے ہٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نیٹ فلیکس نے خود کو ان کی فلم سے الگ کرلیا اور پلیٹ فارم نے کوئی ٹھوس اور اچھا جواز پیش نہیں کیا، انہیں ایسا محسوس ہوا کہ شاید انہوں نے انتہائی حساس انداز میں فلم کی عکس بندی کی ہے یا پھر وہ نیٹ فلیکس کے لیے انتہائی حساس شخص بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1143546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انتہائی محنت، دل لگی اور رات دن ایک کرکے ’میکسیمم سٹی‘ نامی فلم کو تیار کیا تھا، انہوں نے اس سے قبل کبھی کسی فلم پر اتنی محنت نہیں کی تھی، وہ دل سے مذکورہ منصوبے سے جڑ گئے تھے لیکن نیٹ فلیکس عین وقت پر منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انوراگ کشیپ کے مطابق نیٹ فلیکس کے انکار کے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا، وہ ڈپریشن میں چلے گئے، انہوں نے حد سے زیادہ شراب نوشی شروع کردی، یہاں تک کہ اس سارے عمل کی وجہ سے انہیں دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میکسیمم سٹی‘ نامی فلم کو چلانے کے لیے نیٹ فلیکس نے انکار کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پلیٹ فارم نے ایسا انکار کیوں کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ اس وقت اسٹریمنگ ویب سائٹس کے خلاف بھارت میں سیاسی طور پر طاقت کا استعمال دیکھا جا رہا تھا اور مختلف جواز بنا کر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مثال دی کہ اس وقت سیف علی خان کی ویب سیریز ’تانڈو‘ پر تنازع تھا اور بھارت بھر میں ’ایمیزون پرائم‘ کےخلاف مظاہرے جاری تھی اور حکومت کی جانب سے بھی اسٹریمنگ ویب سائٹ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’تانڈو‘ کا تنازع ان کی فلم کو بھی لے ڈوبا اور نیٹ فلیکس ان کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا، جس وجہ سے وہ ڈپریشن میں چلے گئے اور زیادہ شراب نوشی کرنے کی وجہ سے انہیں دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ’تانڈو‘ نامی ویب سیریز کے خلاف بھارت بھر میں فروری 2021 میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1142098"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تانڈو‘ میں شامل متنازع مواد پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان سمیت دیگر افراد نے ’تانڈو‘ کی ٹیم کے خلاف توہین مذہب کے تحت متعدد پولیس تھانوں میں درخواستیں دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگوں کی جانب سے ’تانڈو‘ سیریز کے ایک سین پر اعتراض کرنے کے بعد ’تانڈو‘ کی ٹیم نے عوام سے معافی بھی مانگی تھی اور مذکورہ سین کو ہٹانے کا اعلان بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگوں نے ’تانڈو‘ کے ایک سین پر اعتراض کیا تھا جس میں اداکار ذیشان ایوب کو اسٹیج پرفارمنس کے دوران ہندو دیوتا ’شیو‘ کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ سین میں اداکار نے ’شیو‘ بن کر کچھ نامناسب جملے ادا کیے تھے، جس پر ہندو مذہب کے پیروکاروں نے احتجاج کیا اور مذکورہ سین کو ہندو مذہب اور دیوتاؤن کی توہین قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف بولی وڈ فلم ساز اور اداکار انوراگ کشیپ نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’نیٹ فلیکس‘ کی جانب سے عین وقت پر فلم کو نہ چلائے جانے کے فیصلے پر وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئے، یہاں تک انہیں دو بار دل کے دورے بھی پڑے۔</p>
<p>امریکی اخبار  <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/world/2023/11/20/india-netflix-amazon-movies-self-censorship/"><strong>’واشنگٹن پوسٹ‘</strong></a> سے بات کرتے ہوئے انوراگ کشیپ نے پہلی بار نیٹ فلیکس کی جانب سے فلم کو چلانے کے انکار سے صحت پر پڑنے والے اثرات پر بات کی۔</p>
<p>فلم ساز کے مطابق انہوں نے نیٹ فلیکس کی مدد سے انتہائی محنت اور دل لگی سے ’میکسیمم سٹی‘ نامی فلم تیار کی تھی لیکن اس کی تیاری کے دوران ہی اسٹریمنگ پلیٹ فارم پیچھے ہٹ گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نیٹ فلیکس نے خود کو ان کی فلم سے الگ کرلیا اور پلیٹ فارم نے کوئی ٹھوس اور اچھا جواز پیش نہیں کیا، انہیں ایسا محسوس ہوا کہ شاید انہوں نے انتہائی حساس انداز میں فلم کی عکس بندی کی ہے یا پھر وہ نیٹ فلیکس کے لیے انتہائی حساس شخص بن چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1143546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انتہائی محنت، دل لگی اور رات دن ایک کرکے ’میکسیمم سٹی‘ نامی فلم کو تیار کیا تھا، انہوں نے اس سے قبل کبھی کسی فلم پر اتنی محنت نہیں کی تھی، وہ دل سے مذکورہ منصوبے سے جڑ گئے تھے لیکن نیٹ فلیکس عین وقت پر منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا۔</p>
<p>انوراگ کشیپ کے مطابق نیٹ فلیکس کے انکار کے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا، وہ ڈپریشن میں چلے گئے، انہوں نے حد سے زیادہ شراب نوشی شروع کردی، یہاں تک کہ اس سارے عمل کی وجہ سے انہیں دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہوا۔</p>
<p>اگرچہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میکسیمم سٹی‘ نامی فلم کو چلانے کے لیے نیٹ فلیکس نے انکار کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پلیٹ فارم نے ایسا انکار کیوں کیا؟</p>
<p>تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ اس وقت اسٹریمنگ ویب سائٹس کے خلاف بھارت میں سیاسی طور پر طاقت کا استعمال دیکھا جا رہا تھا اور مختلف جواز بنا کر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھیں۔</p>
<p>انہوں نے مثال دی کہ اس وقت سیف علی خان کی ویب سیریز ’تانڈو‘ پر تنازع تھا اور بھارت بھر میں ’ایمیزون پرائم‘ کےخلاف مظاہرے جاری تھی اور حکومت کی جانب سے بھی اسٹریمنگ ویب سائٹ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’تانڈو‘ کا تنازع ان کی فلم کو بھی لے ڈوبا اور نیٹ فلیکس ان کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا، جس وجہ سے وہ ڈپریشن میں چلے گئے اور زیادہ شراب نوشی کرنے کی وجہ سے انہیں دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہوا۔</p>
<p>خیال رہے کہ ’تانڈو‘ نامی ویب سیریز کے خلاف بھارت بھر میں فروری 2021 میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1142098"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’تانڈو‘ میں شامل متنازع مواد پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان سمیت دیگر افراد نے ’تانڈو‘ کی ٹیم کے خلاف توہین مذہب کے تحت متعدد پولیس تھانوں میں درخواستیں دی تھیں۔</p>
<p>لوگوں کی جانب سے ’تانڈو‘ سیریز کے ایک سین پر اعتراض کرنے کے بعد ’تانڈو‘ کی ٹیم نے عوام سے معافی بھی مانگی تھی اور مذکورہ سین کو ہٹانے کا اعلان بھی کیا تھا۔</p>
<p>لوگوں نے ’تانڈو‘ کے ایک سین پر اعتراض کیا تھا جس میں اداکار ذیشان ایوب کو اسٹیج پرفارمنس کے دوران ہندو دیوتا ’شیو‘ کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔</p>
<p>مذکورہ سین میں اداکار نے ’شیو‘ بن کر کچھ نامناسب جملے ادا کیے تھے، جس پر ہندو مذہب کے پیروکاروں نے احتجاج کیا اور مذکورہ سین کو ہندو مذہب اور دیوتاؤن کی توہین قرار دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216948</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Nov 2023 18:26:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/221555508665375.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/221555508665375.jpg"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
