<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 03 May 2026 18:52:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 03 May 2026 18:52:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کیلئے ’بائنڈنگ‘ فریم ورک کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217240/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیکریٹری خارجہ سائرس قاضی نے مصنوعی ذہانت اور سائبر اسپیس کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضمانت کے لیے ایک ’بائنڈنگ‘ عالمی فریم ورک پر زور دیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک رسائی پر غیر منصفانہ پابندیوں کے خلاف خبردار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1792350/pakistan-calls-for-binding-framework-on-ethical-ai-use"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ایک ورک شاپ کے اختتامی سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سائبر اسپیس اور مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضمانت کے لیے ایک عالمی فریم ورک قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز  میں بتایا گیا کہ اس تقریب کی میزبانی مشترکہ طور پر جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیف اسلحہ کی تحقیق ( یو این آئی ڈی آئی آر) کے تعاون سے سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز ( سی آئی ایس ایس) نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکشاپ نے عالمی سلامتی کے تناظر میں مصنوعی ذہانت اور سائبر اسپیس کی ہم آہنگی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حفاظتی اثرات کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1179834"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائرس قاضی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ’قواعد پر مبنی بین الاقوامی احکامات‘ پر بھروسہ رکھتا ہے، جو شفافیت، احتساب اور اہم سویلین انفرااسٹرکچر کے تحفظ کو فروغ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت پر پاکستان کی پوزیشن ’ٹیکنالوجی کی دوہری نوعیت کی پہچان، ذمہ دارانہ طرز حکمرانی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے عزم، عالمی مباحثوں میں فعال شرکت، پالیسی سازی کے لیے ایک جامع نقطہ نظر، اور تمام ریاستوں بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز  تک مساوی رسائی‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز کی دوہری نوعیت کو تسلیم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائرس قاضی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا غیر منظم فوجی استعمال عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے اور انہوں نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے مضبوط عزائم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری خارجہ کے مطابق پاکستان تمام ممالک کے لیے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک منصفانہ، غیر مشروط اور مساوی رسائی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز  پر غیر ضروری پابندیوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائرس قاضی نے بتایا کہ حکومت ایک جامع نقطہ نظر کی بھی وکالت کر رہی ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومتیں، نجی ادارے، جامعات اور سول سوسائٹیز شامل ہوں تاکہ محفوظ، مستحکم اور کھلے سائبر اسپیس کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="غیر-ضروری-پابندیاں" href="#غیر-ضروری-پابندیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’غیر ضروری پابندیاں‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ان  کے مطابق خاص طور پر سیکیورٹی کے نام اس قسم کی پابندیاں سائنس اور ٹیکنالوجی کے دائرے میں ملکوں کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرسکتی ہیں, جس سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان امتیاز کی  ایک نئی سطح کے قائم ہونے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیف اسلحہ کی تحقیق کے سینئر محقق ڈونگ یون چو کا کہنا تھا کہ حالیہ تمام ترقیوں کا بنیادی محرک مصنوعی ذہانت ہے مگر اس سے کئی اخلاقی مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونگ یون چو نے کہا کہ یہ اخلاقی اور انسانی مسائل پیدا کر سکتا ہے کیونکہ یہ نامکمل، غیر معیاری یا غلط ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر علی سرور نقوی کا کہنا تھا کہ تکنیکی ترقی زندگی کے تمام پہلوؤں پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور سیکیورٹی کے بارے میں ہماری سمجھ کو تشکیل دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی میں ان نئے فرنٹیئرز کی طرف سے پیش کردہ چیلنجوں کو سمجھنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ان تکنیکی تبدیلیوں سے درپیش چیلنجوں کو نیویگیٹ کرنے کے لیے ’ایک فعال اور باخبر ردعمل‘ کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیکریٹری خارجہ سائرس قاضی نے مصنوعی ذہانت اور سائبر اسپیس کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضمانت کے لیے ایک ’بائنڈنگ‘ عالمی فریم ورک پر زور دیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک رسائی پر غیر منصفانہ پابندیوں کے خلاف خبردار کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1792350/pakistan-calls-for-binding-framework-on-ethical-ai-use">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ایک ورک شاپ کے اختتامی سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سائبر اسپیس اور مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضمانت کے لیے ایک عالمی فریم ورک قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز  میں بتایا گیا کہ اس تقریب کی میزبانی مشترکہ طور پر جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیف اسلحہ کی تحقیق ( یو این آئی ڈی آئی آر) کے تعاون سے سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز ( سی آئی ایس ایس) نے کی۔</p>
<p>ورکشاپ نے عالمی سلامتی کے تناظر میں مصنوعی ذہانت اور سائبر اسپیس کی ہم آہنگی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حفاظتی اثرات کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1179834"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سائرس قاضی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ’قواعد پر مبنی بین الاقوامی احکامات‘ پر بھروسہ رکھتا ہے، جو شفافیت، احتساب اور اہم سویلین انفرااسٹرکچر کے تحفظ کو فروغ دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت پر پاکستان کی پوزیشن ’ٹیکنالوجی کی دوہری نوعیت کی پہچان، ذمہ دارانہ طرز حکمرانی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے عزم، عالمی مباحثوں میں فعال شرکت، پالیسی سازی کے لیے ایک جامع نقطہ نظر، اور تمام ریاستوں بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز  تک مساوی رسائی‘ ہے۔</p>
<p>سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز کی دوہری نوعیت کو تسلیم کرتا ہے۔</p>
<p>سائرس قاضی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا غیر منظم فوجی استعمال عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے اور انہوں نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے مضبوط عزائم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>سیکریٹری خارجہ کے مطابق پاکستان تمام ممالک کے لیے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک منصفانہ، غیر مشروط اور مساوی رسائی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز  پر غیر ضروری پابندیوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سائرس قاضی نے بتایا کہ حکومت ایک جامع نقطہ نظر کی بھی وکالت کر رہی ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومتیں، نجی ادارے، جامعات اور سول سوسائٹیز شامل ہوں تاکہ محفوظ، مستحکم اور کھلے سائبر اسپیس کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جاسکے۔</p>
<h3><a id="غیر-ضروری-پابندیاں" href="#غیر-ضروری-پابندیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’غیر ضروری پابندیاں‘</h3>
<p>ان  کے مطابق خاص طور پر سیکیورٹی کے نام اس قسم کی پابندیاں سائنس اور ٹیکنالوجی کے دائرے میں ملکوں کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرسکتی ہیں, جس سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان امتیاز کی  ایک نئی سطح کے قائم ہونے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیف اسلحہ کی تحقیق کے سینئر محقق ڈونگ یون چو کا کہنا تھا کہ حالیہ تمام ترقیوں کا بنیادی محرک مصنوعی ذہانت ہے مگر اس سے کئی اخلاقی مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ڈونگ یون چو نے کہا کہ یہ اخلاقی اور انسانی مسائل پیدا کر سکتا ہے کیونکہ یہ نامکمل، غیر معیاری یا غلط ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر علی سرور نقوی کا کہنا تھا کہ تکنیکی ترقی زندگی کے تمام پہلوؤں پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور سیکیورٹی کے بارے میں ہماری سمجھ کو تشکیل دے رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی میں ان نئے فرنٹیئرز کی طرف سے پیش کردہ چیلنجوں کو سمجھنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے</p>
<p>انہوں نے ان تکنیکی تبدیلیوں سے درپیش چیلنجوں کو نیویگیٹ کرنے کے لیے ’ایک فعال اور باخبر ردعمل‘ کا مطالبہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217240</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Nov 2023 13:34:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/2511385623867a6.jpg?r=124915" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/2511385623867a6.jpg?r=124915"/>
        <media:title>سینئر محقق ڈونگ یون چو نے کہا کہ یہ اخلاقی اور انسانی مسائل پیدا کر سکتا ہے— فائل فوٹو: آئی اسٹکا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
