<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:05:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:05:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئرلینڈ: اسکول میں چاقو زنی کی واردات کے بعد پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217243/</link>
      <description>&lt;p&gt;آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ایک شخص کی جانب سے تین بچوں اور ایک اسکول کیئر اسسٹنٹ پر چاقو  سے حملے کے بعد پُرتشدد احتجاج  پھوٹ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1792326/school-stabbing-in-dublin-sparks-violence-riots"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  اس واقعے کو برطانوی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا تھا، مگر چند نشریاتی اداروں نے تشدد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوسن ڈیلی کی مینیجنگ ایڈیٹر نے ڈان کو بتایا کہ چاقو زنی کے واقعے پر  غم و غصہ اور خوف تھا لیکن  بہت جلد آن لائن ایسے بیانات اور اصطلاحات دیکھنے میں آئے جو نسل پرستانہ بیانیے سے منسلک تھے،  ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس بات کا اشارہ ملا کہ اس واقعے میں کوئی غیر ملکی ملوث ہے،کچھ مخصوص برے افراد نمودار ہوئے، جنہوں نے دوسرے علاقوں میں احتجاج کو منظم کر دیا، انہوں نے حملہ آور کا تعلق الجزائر سے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک شہری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ کے صحافی اور براڈکاسٹر یونا ملالی نے ڈیجیٹل پروگرام میں کہا کہ ہمیں حملے کے پیچھے وجوہات کا علم نہیں لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس میں نسل پرستی اور ’زینو فوبیا‘ (دوسرے ممالک کے لوگوں کو  پسند نہ کرنا) شامل ہے کیونکہ لوگ مجرم کی قومیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی کے حوالے سے آئرلینڈ اور ڈبلن میں ایک سیاق و سباق رہا ہے،  مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب کسی جرم کا ارتکاب ہوتا ہے اور جب لوگ قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ اس  کا تعلق کہاں  سے ہے تو آپ کو نسل پرستانہ ردعمل ملتا ہے جو کہ موقع پرست ہے اور متاثرین کے ساتھ اس کا تعلق  بہت کم  ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو وراڈکر کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی میں 500 افراد ملوث تھے اور پولیس نے 34 افراد کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے، انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ آئرلینڈ کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں اور ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہفتوں کے اندر نئے قوانین بنانے کا وعدہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ پولیس کے سربراہ ڈریو ہیرس کے مطابق تشدد  ایک پاگل، انتہائی دائیں بازو کے نظریے سے چلنے والے غنڈہ گروہ نے کیا، اسکول میں چاقو زنی کے واقعے کے بعد فسادیوں نے پولیس کی 11 گاڑیوں کو تباہ کر دیا، مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم ازکم 13 دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس سے کئی زیادہ تعداد میں گاڑیوں کو لوٹا گیا، انہوں نے بتایا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تشدد کے دوران تین بسوں اور ایک ٹرام کو تباہ کر دیا گیا اور ساتھ ہی متعدد پولیس اہلکار  بھی زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1170732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ حملہ آور کے غیر ملکی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے گئے اور کہا کہ یہ عندیہ ملا ہے کہ وہ 20 سال سے ملک میں مقیم آئرش شہری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو نیوز نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھا کہ منظم نسل پرست گروہ نے  انتشار پھیلانے کے لیے  امیگریشن معاملے کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈریو ہیرس نے  ایک پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر تارکین وطن کے خلاف کشیدگی کے باوجود پولیس کے ردعمل کا دفاع کیا، انہوں بڑی تعداد میں دکانیں لوٹنے والوں کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ کہنا پڑے گا کہ پہلے مظاہرین کے ہجوم کا غم و غصہ (گردا سیوچانا) پولیس کی طرف تھا، پھر یہ ان لوگوں کے ساتھ مل گئے جو صرف جرم، بدامنی اور  لوٹ مار کے ارادے سے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ایک شخص کی جانب سے تین بچوں اور ایک اسکول کیئر اسسٹنٹ پر چاقو  سے حملے کے بعد پُرتشدد احتجاج  پھوٹ پڑے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1792326/school-stabbing-in-dublin-sparks-violence-riots">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  اس واقعے کو برطانوی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا تھا، مگر چند نشریاتی اداروں نے تشدد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔</p>
<p>سوسن ڈیلی کی مینیجنگ ایڈیٹر نے ڈان کو بتایا کہ چاقو زنی کے واقعے پر  غم و غصہ اور خوف تھا لیکن  بہت جلد آن لائن ایسے بیانات اور اصطلاحات دیکھنے میں آئے جو نسل پرستانہ بیانیے سے منسلک تھے،  ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس بات کا اشارہ ملا کہ اس واقعے میں کوئی غیر ملکی ملوث ہے،کچھ مخصوص برے افراد نمودار ہوئے، جنہوں نے دوسرے علاقوں میں احتجاج کو منظم کر دیا، انہوں نے حملہ آور کا تعلق الجزائر سے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک شہری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئرلینڈ کے صحافی اور براڈکاسٹر یونا ملالی نے ڈیجیٹل پروگرام میں کہا کہ ہمیں حملے کے پیچھے وجوہات کا علم نہیں لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس میں نسل پرستی اور ’زینو فوبیا‘ (دوسرے ممالک کے لوگوں کو  پسند نہ کرنا) شامل ہے کیونکہ لوگ مجرم کی قومیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی کے حوالے سے آئرلینڈ اور ڈبلن میں ایک سیاق و سباق رہا ہے،  مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب کسی جرم کا ارتکاب ہوتا ہے اور جب لوگ قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ اس  کا تعلق کہاں  سے ہے تو آپ کو نسل پرستانہ ردعمل ملتا ہے جو کہ موقع پرست ہے اور متاثرین کے ساتھ اس کا تعلق  بہت کم  ہوتا ہے۔</p>
<p>آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو وراڈکر کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی میں 500 افراد ملوث تھے اور پولیس نے 34 افراد کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے، انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ آئرلینڈ کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں اور ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہفتوں کے اندر نئے قوانین بنانے کا وعدہ کیا۔</p>
<p>آئرلینڈ پولیس کے سربراہ ڈریو ہیرس کے مطابق تشدد  ایک پاگل، انتہائی دائیں بازو کے نظریے سے چلنے والے غنڈہ گروہ نے کیا، اسکول میں چاقو زنی کے واقعے کے بعد فسادیوں نے پولیس کی 11 گاڑیوں کو تباہ کر دیا، مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم ازکم 13 دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس سے کئی زیادہ تعداد میں گاڑیوں کو لوٹا گیا، انہوں نے بتایا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تشدد کے دوران تین بسوں اور ایک ٹرام کو تباہ کر دیا گیا اور ساتھ ہی متعدد پولیس اہلکار  بھی زخمی ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1170732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ حملہ آور کے غیر ملکی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے گئے اور کہا کہ یہ عندیہ ملا ہے کہ وہ 20 سال سے ملک میں مقیم آئرش شہری ہے۔</p>
<p>یورو نیوز نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھا کہ منظم نسل پرست گروہ نے  انتشار پھیلانے کے لیے  امیگریشن معاملے کا استعمال کیا۔</p>
<p>ڈریو ہیرس نے  ایک پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر تارکین وطن کے خلاف کشیدگی کے باوجود پولیس کے ردعمل کا دفاع کیا، انہوں بڑی تعداد میں دکانیں لوٹنے والوں کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ کہنا پڑے گا کہ پہلے مظاہرین کے ہجوم کا غم و غصہ (گردا سیوچانا) پولیس کی طرف تھا، پھر یہ ان لوگوں کے ساتھ مل گئے جو صرف جرم، بدامنی اور  لوٹ مار کے ارادے سے آئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217243</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Nov 2023 13:39:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاتکہ رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/2512434827231dd.jpg?r=132740" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/2512434827231dd.jpg?r=132740"/>
        <media:title>آئرش وزیر اعظم نےاحتجاج میں ملوث افراد کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہفتوں کے اندر نئے قوانین بنانے کا وعدہ کیا— فوٹو / اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
