<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:56:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:56:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوہستان: جرگے کے حکم پر ایک اور لڑکی قتل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217380/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے کوہستان میں مقامی جرگے کے حکم پر ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1792847/another-kohistan-girl-killed-on-jirgas-orders"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق افسوسناک واقعہ کی مقامی پولیس افسر نے تصدیق کی جب کہ  واقعہ نے 2011 میں ملک کے اس خطے سے تعلق رکھنے والی پانچ لڑکیوں کی ہلاکت کی دردناک یادیں تازہ کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانسہرہ سے تقریباً 150 کلومیٹر شمال مغرب میں کولائی پلاس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) مسعود خان نے بتایا کہ مقتولہ دو لڑکیوں میں سے ایک تھی جنہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مقامی لڑکوں کے ساتھ رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس پی نے بتایا کہ مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جائے وقوع سے قریبی مرکز صحت منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044251"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دوسری لڑکی کو پولیس نے اس کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنی تحویل میں لے لیا تھا لیکن ایک سینئر سول جج نے اسے اس کے والد کے ہمراہ گھر بھیج دیا جب کہ لڑکی نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے خدشات کو مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل ویڈیوز میں نظر آنے والے لڑکے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے روپوش ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس پی مسعود خان نے کہا کہ بظاہر ایڈٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر تین سے چار دن قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر کا کہنا تھا کہ مقامی روایت کے مطابق جرگے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں نظر آنے والے نوجوانوں کو ’چور‘قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کا حکم جاری کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اہلکار نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور مجرم جنہوں نے قتل کا حکم نامہ جاری کیا اور جن لوگوں نے اس پر عمل درآمد کیا ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خاندان نے مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس سے رابطہ نہیں کیا، اس لیے ایف آئی آر کولائی پلاس تھانے کے ایس ایچ او نور محمد خان کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1046658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 ، 302  اور 311 شامل کی گئی ہیں،
ایف آئی آر کے مطابق پوسٹ مارٹم سمیت لیگو میڈیکل کارروائیاں کولائی پالاس پولیس نے کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کا ایک واقعہ ایک دہائی قبل بھی اسی علاقے میں پیش آیا تھا جب کہ 2011 میں ڈانس کرنے والے لڑکے کے ہمراہ مقامی لڑکیوں کی خوشی منانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں خواتین کو مبینہ طور پر مقامی جرگے کے حکم پر لڑکے کے چار بھائیوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ  قتل نے عالمی توجہ حاصل کی تھی اور سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے کوہستان میں مقامی جرگے کے حکم پر ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1792847/another-kohistan-girl-killed-on-jirgas-orders">رپورٹ</a></strong> کے مطابق افسوسناک واقعہ کی مقامی پولیس افسر نے تصدیق کی جب کہ  واقعہ نے 2011 میں ملک کے اس خطے سے تعلق رکھنے والی پانچ لڑکیوں کی ہلاکت کی دردناک یادیں تازہ کردیں۔</p>
<p>مانسہرہ سے تقریباً 150 کلومیٹر شمال مغرب میں کولائی پلاس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) مسعود خان نے بتایا کہ مقتولہ دو لڑکیوں میں سے ایک تھی جنہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مقامی لڑکوں کے ساتھ رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ڈی ایس پی نے بتایا کہ مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جائے وقوع سے قریبی مرکز صحت منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044251"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ دوسری لڑکی کو پولیس نے اس کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنی تحویل میں لے لیا تھا لیکن ایک سینئر سول جج نے اسے اس کے والد کے ہمراہ گھر بھیج دیا جب کہ لڑکی نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے خدشات کو مسترد کردیا تھا۔</p>
<p>وائرل ویڈیوز میں نظر آنے والے لڑکے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے روپوش ہو گئے ہیں۔</p>
<p>ڈی ایس پی مسعود خان نے کہا کہ بظاہر ایڈٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر تین سے چار دن قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔</p>
<p>پولیس افسر کا کہنا تھا کہ مقامی روایت کے مطابق جرگے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں نظر آنے والے نوجوانوں کو ’چور‘قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کا حکم جاری کردیا تھا۔</p>
<p>پولیس اہلکار نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور مجرم جنہوں نے قتل کا حکم نامہ جاری کیا اور جن لوگوں نے اس پر عمل درآمد کیا ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p>متاثرہ خاندان نے مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس سے رابطہ نہیں کیا، اس لیے ایف آئی آر کولائی پلاس تھانے کے ایس ایچ او نور محمد خان کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1046658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 ، 302  اور 311 شامل کی گئی ہیں،
ایف آئی آر کے مطابق پوسٹ مارٹم سمیت لیگو میڈیکل کارروائیاں کولائی پالاس پولیس نے کیں۔</p>
<p>اسی طرح کا ایک واقعہ ایک دہائی قبل بھی اسی علاقے میں پیش آیا تھا جب کہ 2011 میں ڈانس کرنے والے لڑکے کے ہمراہ مقامی لڑکیوں کی خوشی منانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔</p>
<p>ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں خواتین کو مبینہ طور پر مقامی جرگے کے حکم پر لڑکے کے چار بھائیوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>مبینہ  قتل نے عالمی توجہ حاصل کی تھی اور سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217380</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Nov 2023 10:58:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نثار احمد خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/27093859874e0c7.jpg?r=093906" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/27093859874e0c7.jpg?r=093906"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
