<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آج تمام سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں، رضا ربانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217395/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی سویلین ڈھانچے پر اس حد تک چھائی ہوئی ہے کہ اس کے پورے وجود پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1792872/all-parties-are-looking-towards-establishment-today-says-raza-rabbani"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اتوار کو کراچی میں دو روزہ ادب فیسٹیول کے اختتام پر کتاب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے تجربہ کار سیاستدان کا کہنا تھا کہ ویسے تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ 1980 اور 1990 میں بھی سیاسی منظر نامے کا حصہ تھی مگر اس کی موجودگی اس وقت اتنی واضح نہیں تھی جتنی آج ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر صحافی زاہد حسین کی کتاب ’فیس ٹو فیس ود بینظیر بھٹو‘، جو ان کے دیے گئے انٹرویو کا مجموعہ ہے، کی رونمائی ایک سیشن میں کی گئی جہاں مصنف سمیت پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں شیری رحمٰن اور رضا ربانی نے پینل گفتگو میں حصہ لیا اور اسے صحافی غازی صلاح الدین نے موڈریٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر بات کرتے ہوئے رضا ربانی نے یاد کیا کہ بینظیر بھٹو نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور نظریے اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کی، وقت کے ساتھ پاکستانی سیاست نے نظریے اور جدو جہد کی سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ 1980 اور 1990 میں بھی سیاسی منظر نامے کا حصہ تھی مگر اس کی موجودگی اس وقت اتنی واضح نہیں تھی جتنی آج ہوگئی ہے، انہیں یقین ہے کہ یہ اس لیے ہوا کیونکہ سیاستدان شفاف نہیں رہے اور انہوں نے سمجھوتہ کرنا شروع کردیا ہے اور سمجھوتے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1138403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی کابینہ پر کرپشن کے کیسز بنوانے کی کوشش کی مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگئے، بدقسمتی سے آج تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں، اگر وہ (اسٹیبلشمنٹ) ان کی جماعت کی حمایت کریں تو وہ انہیں قابل قبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ اگر بینظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا جاتا تو آج پاکستانی سیاست کی صورتحال بہتر ہوتی، ان کا کہنا تھا کہ جب بینظیر بھٹو آخری دفعہ پاکستان آئیں تو وہ ایک بدلی ہوئی انسان تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضا ربانی نے کہا کہ وہ جس طرز کی سیاست کرنا چاہتی تھی، اس میں نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست کی نہیں بلکہ صرف اصولوں کی جگہ ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمٰن نے بھی حاضرین کو بینظیر بھٹو کی ’جذباتی سخاوت‘ کے بارے میں آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام سے خود کو دور رکھنا بینظیربھٹو کی پالیسی تھی کیونکہ وہ اپنی زندگی سے منفی چیزوں کو ختم کرنا چاہتی تھی اور صرف مثبت پہلوؤں پر دھیان مرکوز رکھنا چاہتی تھی جس نے انہیں مشکل وقتوں کو برداشت کرنے کے لیے طاقت دی اور ہم سب اس کے گواہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="بینظیر-بھٹو-نے-پاکستان-کے-سیاسی-محرکات-تبدیل-کیے" href="#بینظیر-بھٹو-نے-پاکستان-کے-سیاسی-محرکات-تبدیل-کیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بینظیر بھٹو نے پاکستان کے سیاسی محرکات تبدیل کیے‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;مسلم دنیا میں بینظیر بھٹو کے لیے خاتون رہنما اور پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے بتایا کہ جب وہ وزیر اعظم تھیں، تب قاہرہ میں ایک کانفرنس تھی اور میں ان کے ساتھ بطور صحافی وہاں تشریف لے گئی، جب ان کو کانفرنس لے جانے کے لیے منصوبہ بنایا گیا تو مذہبی/سیاسی دھڑوں نے ان کے خلاف فتوے جاری کردیے، ان حلقوں نے مزید کہا ہم ایک خاتون رہنما کی قیادت قبول نہیں کریں گے، مگر بینظیر بھٹو نے دلیرانہ فیصلہ کیا اور اس کانفرنس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216808"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے صنفی نقطہ نظر سے پاکستانی سیاست کی محرکات کو تبدیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زاہد حسین نے بتایا کہ اپنے پہلے انٹرویو میں بینظیر بھٹو نے ثابت کیا کہ ان کی سیاست اور پالیسیاں حالات کے مطابق ہوں گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو پہلی بار وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں ان چیلنجز کے بارے میں بات کی تھی جن کا انہیں سامنا تھا اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ہونے والی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حاضرین کو 1999 کے بعد ایک واقعے کے حوالے سے بتایا جب وہ لندن میں سابق وزیر اعظم سے ملے تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کے معاشی فیصلوں اور ان کی اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ تنازع پر کڑی تنقید کی، انہوں نے تمام تنقید کو کھلے دل سے سنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال مایوس کن ہے، یہ پہلے بھی ایسی ہی تھی لیکن فرق یہ تھا کہ اس وقت کچھ امیدیں باقی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار صرف سیاستدانوں کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، پاکستان ایک منظم تباہی سے گزر رہا ہے اور اسے کوئی ایک شخص ٹھیک نہیں کر سکتا، ہم مسیحا کا انتظار نہیں کر سکتے، ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اسے ٹھیک کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی سویلین ڈھانچے پر اس حد تک چھائی ہوئی ہے کہ اس کے پورے وجود پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1792872/all-parties-are-looking-towards-establishment-today-says-raza-rabbani">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اتوار کو کراچی میں دو روزہ ادب فیسٹیول کے اختتام پر کتاب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے تجربہ کار سیاستدان کا کہنا تھا کہ ویسے تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ 1980 اور 1990 میں بھی سیاسی منظر نامے کا حصہ تھی مگر اس کی موجودگی اس وقت اتنی واضح نہیں تھی جتنی آج ہوگئی ہے۔</p>
<p>سینئر صحافی زاہد حسین کی کتاب ’فیس ٹو فیس ود بینظیر بھٹو‘، جو ان کے دیے گئے انٹرویو کا مجموعہ ہے، کی رونمائی ایک سیشن میں کی گئی جہاں مصنف سمیت پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں شیری رحمٰن اور رضا ربانی نے پینل گفتگو میں حصہ لیا اور اسے صحافی غازی صلاح الدین نے موڈریٹ کیا۔</p>
<p>اس موقع پر بات کرتے ہوئے رضا ربانی نے یاد کیا کہ بینظیر بھٹو نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور نظریے اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کی، وقت کے ساتھ پاکستانی سیاست نے نظریے اور جدو جہد کی سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ 1980 اور 1990 میں بھی سیاسی منظر نامے کا حصہ تھی مگر اس کی موجودگی اس وقت اتنی واضح نہیں تھی جتنی آج ہوگئی ہے، انہیں یقین ہے کہ یہ اس لیے ہوا کیونکہ سیاستدان شفاف نہیں رہے اور انہوں نے سمجھوتہ کرنا شروع کردیا ہے اور سمجھوتے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1138403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سابق چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی کابینہ پر کرپشن کے کیسز بنوانے کی کوشش کی مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگئے، بدقسمتی سے آج تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں، اگر وہ (اسٹیبلشمنٹ) ان کی جماعت کی حمایت کریں تو وہ انہیں قابل قبول ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ اگر بینظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا جاتا تو آج پاکستانی سیاست کی صورتحال بہتر ہوتی، ان کا کہنا تھا کہ جب بینظیر بھٹو آخری دفعہ پاکستان آئیں تو وہ ایک بدلی ہوئی انسان تھی۔</p>
<p>رضا ربانی نے کہا کہ وہ جس طرز کی سیاست کرنا چاہتی تھی، اس میں نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست کی نہیں بلکہ صرف اصولوں کی جگہ ہوتی۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمٰن نے بھی حاضرین کو بینظیر بھٹو کی ’جذباتی سخاوت‘ کے بارے میں آگاہ کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام سے خود کو دور رکھنا بینظیربھٹو کی پالیسی تھی کیونکہ وہ اپنی زندگی سے منفی چیزوں کو ختم کرنا چاہتی تھی اور صرف مثبت پہلوؤں پر دھیان مرکوز رکھنا چاہتی تھی جس نے انہیں مشکل وقتوں کو برداشت کرنے کے لیے طاقت دی اور ہم سب اس کے گواہ ہیں۔</p>
<h4><a id="بینظیر-بھٹو-نے-پاکستان-کے-سیاسی-محرکات-تبدیل-کیے" href="#بینظیر-بھٹو-نے-پاکستان-کے-سیاسی-محرکات-تبدیل-کیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بینظیر بھٹو نے پاکستان کے سیاسی محرکات تبدیل کیے‘</h4>
<p>مسلم دنیا میں بینظیر بھٹو کے لیے خاتون رہنما اور پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے بتایا کہ جب وہ وزیر اعظم تھیں، تب قاہرہ میں ایک کانفرنس تھی اور میں ان کے ساتھ بطور صحافی وہاں تشریف لے گئی، جب ان کو کانفرنس لے جانے کے لیے منصوبہ بنایا گیا تو مذہبی/سیاسی دھڑوں نے ان کے خلاف فتوے جاری کردیے، ان حلقوں نے مزید کہا ہم ایک خاتون رہنما کی قیادت قبول نہیں کریں گے، مگر بینظیر بھٹو نے دلیرانہ فیصلہ کیا اور اس کانفرنس میں شرکت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216808"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے صنفی نقطہ نظر سے پاکستانی سیاست کی محرکات کو تبدیل کر دیا۔</p>
<p>زاہد حسین نے بتایا کہ اپنے پہلے انٹرویو میں بینظیر بھٹو نے ثابت کیا کہ ان کی سیاست اور پالیسیاں حالات کے مطابق ہوں گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو پہلی بار وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں ان چیلنجز کے بارے میں بات کی تھی جن کا انہیں سامنا تھا اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ہونے والی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے حاضرین کو 1999 کے بعد ایک واقعے کے حوالے سے بتایا جب وہ لندن میں سابق وزیر اعظم سے ملے تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کے معاشی فیصلوں اور ان کی اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ تنازع پر کڑی تنقید کی، انہوں نے تمام تنقید کو کھلے دل سے سنا۔</p>
<p>زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال مایوس کن ہے، یہ پہلے بھی ایسی ہی تھی لیکن فرق یہ تھا کہ اس وقت کچھ امیدیں باقی تھیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار صرف سیاستدانوں کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، پاکستان ایک منظم تباہی سے گزر رہا ہے اور اسے کوئی ایک شخص ٹھیک نہیں کر سکتا، ہم مسیحا کا انتظار نہیں کر سکتے، ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اسے ٹھیک کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217395</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Nov 2023 16:10:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عثمان ملک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/2712390063ed62c.jpg?r=161056" type="image/jpeg" medium="image" height="501" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/2712390063ed62c.jpg?r=161056"/>
        <media:title>رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے سمجھوتہ کرنا شروع کردیا ہے اور سمجھوتے کی کوئی حد نہیں ہوتی — فوٹو: زاہد حسین/ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
