<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:25:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:25:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، شان مسعود</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217601/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، بابر اعظم ہمارے بہترین بلے باز ہیں، ان کی پوزیشن کو کوئی نہیں چھیڑے گا، ان کا نمبر 4 ہے اور ٹیم ہمیشہ اپنے بہترین بلے باز کے گرد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شان مسعود کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، ایسا نہیں ہے کہ ایک نئی ٹیم بنی ہے اور ہم ایک نئی شروعات کر رہے ہیں، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو چیز طے شدہ ہے اس کو ایسے ہی لے کر چلیں، چاہے وہ ڈومیسٹک کرکٹ ہو یا بین الاقوامی کرکٹ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/1729744170472907262"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے نمبر 3 پر کرکٹ کھیلی اور میری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلوں، تیسرے نمبر پر ہی کھیلوں تاکہ مجھے اس پوزیشن کی عادت ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صائم ایوب کے حوالے سے شان مسعود نے بتایا کہ صائم ایوب نے پوری ڈومیسٹک کرکٹ کو کھیلنے کے آئیڈیل طریقے کے حوالے سے ایک میسیج دیا تو ہم چاہیں گے کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ کر رہے ہیں، ان کی بلے بازی کا طرز عمل اس طرح کا ہونا چاہیے، صائم ایوب کو ایک طریقے سے اس محنت کا پھل ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو پیغام ہے کہ جب ٹیم کو ضرورت ہوگی، جگہ بنے گی، آپ ٹاپ کریں گے تو اس کا پھل آپ کو ضرور ملے گا، یہی انعام میر حمزہ کو بھی ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش تھی کہ حارث رؤف کو شامل کریں، ان کے پاس پیس ہے، جن کے پاس رفتار ہوتی ہے وہ آسٹریلیا میں کافی کامیاب ہوتے ہیں، تاہم اگر وہ موجود نہیں ہیں تو ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور ہماری یہ کوشش ہوگی کہ جو فاسٹ باؤلرز ہم لے کر جارہے ہیں، ان کو  استعمال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شان مسعود نے کہا کہ لیکن جہاں ہمیں ضرورت ہوگی اور جس طرح ہمارا کرکٹ کھیلنے کا ارادہ ہوگا تو جو کھلاڑی اس حساب سے ہوں گے ان کو ہم ضرور ساتھ لے کر چلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جب ٹیم سیٹلڈ ہوتی ہے تو آپ ضرورت کے حساب سے چلتے ہیں یا جب خدانخواستہ کوئی انجری ہوتی ہے تو پھر ہی آپ اس کو دیکھتے ہیں، اگر ہمیں کوئی اضافی بیٹسمین کو کھلانا پڑا جو ہو سکتا ہے کہ آسٹریلیا میں ایسی صورتحال ہمیں ملے کہ اسپنر کو چھوڑ کر ایک اضافی بیٹسمین کو کھلانا پڑے تو ہم پھر غور کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میچ میں 20 کھلاڑی آؤٹ کرنے ہوتے ہیں، آپ کو کہیں نہ کہیں اسپنرز بھی چاہئیں، تو 20 کھلاڑی آؤٹ کرنے کے لیے 5 باؤلرز بھی درکار ہیں، اس لیے جو 18 کا اسکواڈ ہم نے بنایا اس میں ہمارا دھیان اس پر  تھا کہ کس طریقے سے ہم 20 کھلاڑی آؤٹ کرسکتے ہیں اور رنز بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شان مسعود نے بتایا کہ  آسٹریلیا جاکر صورتحال زیادہ واضح ہوگی، یہاں بیٹھ کر کچھ بھی کہنا آسان نہیں ہے، کیونکہ آخری بار ہم 4 سال پہلے آسٹریلیا گئے تھے، 4 سال میں بہت کچھ بدل گیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک تنقید کی بات ہے تو تنقید تو ہوگی، تعمیری تنقید بھی ہوگی، ہم ہر مثبت تنقید کا خیر مقدم کریں گے لیکن ٹیم کے تحت ہمارا ایک مقصد ہے، ایک ہدف ہے، ہم اس پر ہی رہیں گے اور جو بھی نتائج ہوں گے اس کی ذمہ داری ہم لیں گے اور کوشش کریں گے کہ جو چیزیں اچھی نہیں ہو رہیں ان کو بہتر کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1217068"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم نے کوشش کی کہ جو آسٹریلیا کی کنڈیشنز ہیں، ویسی ہی پاکستان میں بنائیں، ہم نے وکٹس پر تھوڑی گھاس چھوڑی اور پنڈی ہی وہ سینٹر ہے جہاں  آپ کو تھوڑی رفتار اور باؤنس مل سکتا ہے، لیکن ہم اس کا موازنہ آسٹریلیا سے نہیں کرسکتے کیونکہ یہ پاکستان کے حساب سے بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ ہم نے آسٹریلیا میں میچ بھی کھیلا، ہم نے ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمنگ فاسٹ باؤلرز کو بھی بلایا، تو ہم نے اپنی طرف سے بیٹنگ یونٹ ہونے کے تحت کافی کوششیں کی کہ کسی طرح سے آسٹریلیا کے حالات کی نقل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈراپ ان پچز کا خیال بہت اچھا ہے، مگر یہ کرکٹ کی خوبصورتی ہے کہ ہر جگہ کنڈیشنز الگ ہوتی ہیں، آپ پاکستان کو آسٹریلیا نہیں بنا سکتے، انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، سری لنکا سب کی کنڈیشنز  الگ الگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ایکسپوژر کی بات ہے تو اس میں انڈر 19 دورے آتے ہیں اور بہت ساری ٹیمیں عام طور پر آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی اپنی اے ٹیم کے ساتھ دورہ کرتی ہیں، جونئیرز ٹیم کے ساتھ جاتی ہیں تو ہم کنڈیشنز کی نقل نہیں کرسکتے، پر یہ کرسکتے ہیں کہ اے ٹیم، شاہین ٹیم آسٹریلیا جائیں اور وہاں کھیلیں، ہم کوشش کریں کہ ہمارے کھلاڑی وہاں جاکر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اور ان کنڈیشنز کے عادی ہوں تاکہ ہم پرفارم کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شان مسعود نے بطور نائب کپتان پلیئنگ 11 کا حصہ نہ بننے پر مایوسی اور ریڈ بال کرکٹ میں بطور کپتان بننے  سے متعلق سوال کے جواب پر  کہا کہ کوئی مایوسی نہیں ہے، سب سے پہلے پاکستان کی ٹیم آتی ہے، چاہے وہ نائب کپتان ہی کیوں نہ ہو، اگر اس کی جگہ نہیں ہے تو نہیں ہے، جو بھی سلیکشن کا فیصلہ ہوتا ہے اسے ہمیشہ عزت دی، جہاں تک کپتانی کا تعلق ہے تو پاکستان کے لیے کھیلنا بہت فخر کی بات ہے اور اس کی کپتانی تو اور بڑی بات ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے، ملک کی ساکھ آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، کھلاڑیوں کے کیریئرز آپ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ میں سینئر پلیئرز کے لیے دروازے  کھلے ہیں، کوشش یہ ہے کہ اوپر سے ہم یہ دکھائیں کہ یہ طریقہ ہے کھیلنے کا، یہ ایک پہچان ہے پاکستان ٹیم کی تو جو بھی کھلاڑی اس طریقے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرتا ہے وہ ضرور ٹیم میں آئے گا لیکن پہلے ہم اپنے طے شدہ یونٹ کو پورا موقع دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، بابر اعظم ہمارے بہترین بلے باز ہیں، ان کی پوزیشن کو کوئی نہیں چھیڑے گا، ان کا نمبر 4 ہے اور ٹیم ہمیشہ اپنے بہترین بلے باز کے گرد بنتی ہے۔</p>
<p>لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شان مسعود کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، ایسا نہیں ہے کہ ایک نئی ٹیم بنی ہے اور ہم ایک نئی شروعات کر رہے ہیں، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو چیز طے شدہ ہے اس کو ایسے ہی لے کر چلیں، چاہے وہ ڈومیسٹک کرکٹ ہو یا بین الاقوامی کرکٹ ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/1729744170472907262"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے نمبر 3 پر کرکٹ کھیلی اور میری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلوں، تیسرے نمبر پر ہی کھیلوں تاکہ مجھے اس پوزیشن کی عادت ہوجائے۔</p>
<p>صائم ایوب کے حوالے سے شان مسعود نے بتایا کہ صائم ایوب نے پوری ڈومیسٹک کرکٹ کو کھیلنے کے آئیڈیل طریقے کے حوالے سے ایک میسیج دیا تو ہم چاہیں گے کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ کر رہے ہیں، ان کی بلے بازی کا طرز عمل اس طرح کا ہونا چاہیے، صائم ایوب کو ایک طریقے سے اس محنت کا پھل ملا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو پیغام ہے کہ جب ٹیم کو ضرورت ہوگی، جگہ بنے گی، آپ ٹاپ کریں گے تو اس کا پھل آپ کو ضرور ملے گا، یہی انعام میر حمزہ کو بھی ملا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش تھی کہ حارث رؤف کو شامل کریں، ان کے پاس پیس ہے، جن کے پاس رفتار ہوتی ہے وہ آسٹریلیا میں کافی کامیاب ہوتے ہیں، تاہم اگر وہ موجود نہیں ہیں تو ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور ہماری یہ کوشش ہوگی کہ جو فاسٹ باؤلرز ہم لے کر جارہے ہیں، ان کو  استعمال کر سکیں۔</p>
<p>شان مسعود نے کہا کہ لیکن جہاں ہمیں ضرورت ہوگی اور جس طرح ہمارا کرکٹ کھیلنے کا ارادہ ہوگا تو جو کھلاڑی اس حساب سے ہوں گے ان کو ہم ضرور ساتھ لے کر چلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جب ٹیم سیٹلڈ ہوتی ہے تو آپ ضرورت کے حساب سے چلتے ہیں یا جب خدانخواستہ کوئی انجری ہوتی ہے تو پھر ہی آپ اس کو دیکھتے ہیں، اگر ہمیں کوئی اضافی بیٹسمین کو کھلانا پڑا جو ہو سکتا ہے کہ آسٹریلیا میں ایسی صورتحال ہمیں ملے کہ اسپنر کو چھوڑ کر ایک اضافی بیٹسمین کو کھلانا پڑے تو ہم پھر غور کریں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میچ میں 20 کھلاڑی آؤٹ کرنے ہوتے ہیں، آپ کو کہیں نہ کہیں اسپنرز بھی چاہئیں، تو 20 کھلاڑی آؤٹ کرنے کے لیے 5 باؤلرز بھی درکار ہیں، اس لیے جو 18 کا اسکواڈ ہم نے بنایا اس میں ہمارا دھیان اس پر  تھا کہ کس طریقے سے ہم 20 کھلاڑی آؤٹ کرسکتے ہیں اور رنز بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>شان مسعود نے بتایا کہ  آسٹریلیا جاکر صورتحال زیادہ واضح ہوگی، یہاں بیٹھ کر کچھ بھی کہنا آسان نہیں ہے، کیونکہ آخری بار ہم 4 سال پہلے آسٹریلیا گئے تھے، 4 سال میں بہت کچھ بدل گیا ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک تنقید کی بات ہے تو تنقید تو ہوگی، تعمیری تنقید بھی ہوگی، ہم ہر مثبت تنقید کا خیر مقدم کریں گے لیکن ٹیم کے تحت ہمارا ایک مقصد ہے، ایک ہدف ہے، ہم اس پر ہی رہیں گے اور جو بھی نتائج ہوں گے اس کی ذمہ داری ہم لیں گے اور کوشش کریں گے کہ جو چیزیں اچھی نہیں ہو رہیں ان کو بہتر کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1217068"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم نے کوشش کی کہ جو آسٹریلیا کی کنڈیشنز ہیں، ویسی ہی پاکستان میں بنائیں، ہم نے وکٹس پر تھوڑی گھاس چھوڑی اور پنڈی ہی وہ سینٹر ہے جہاں  آپ کو تھوڑی رفتار اور باؤنس مل سکتا ہے، لیکن ہم اس کا موازنہ آسٹریلیا سے نہیں کرسکتے کیونکہ یہ پاکستان کے حساب سے بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ ہم نے آسٹریلیا میں میچ بھی کھیلا، ہم نے ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمنگ فاسٹ باؤلرز کو بھی بلایا، تو ہم نے اپنی طرف سے بیٹنگ یونٹ ہونے کے تحت کافی کوششیں کی کہ کسی طرح سے آسٹریلیا کے حالات کی نقل کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈراپ ان پچز کا خیال بہت اچھا ہے، مگر یہ کرکٹ کی خوبصورتی ہے کہ ہر جگہ کنڈیشنز الگ ہوتی ہیں، آپ پاکستان کو آسٹریلیا نہیں بنا سکتے، انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، سری لنکا سب کی کنڈیشنز  الگ الگ ہیں۔</p>
<p>قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ایکسپوژر کی بات ہے تو اس میں انڈر 19 دورے آتے ہیں اور بہت ساری ٹیمیں عام طور پر آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی اپنی اے ٹیم کے ساتھ دورہ کرتی ہیں، جونئیرز ٹیم کے ساتھ جاتی ہیں تو ہم کنڈیشنز کی نقل نہیں کرسکتے، پر یہ کرسکتے ہیں کہ اے ٹیم، شاہین ٹیم آسٹریلیا جائیں اور وہاں کھیلیں، ہم کوشش کریں کہ ہمارے کھلاڑی وہاں جاکر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اور ان کنڈیشنز کے عادی ہوں تاکہ ہم پرفارم کرسکیں۔</p>
<p>شان مسعود نے بطور نائب کپتان پلیئنگ 11 کا حصہ نہ بننے پر مایوسی اور ریڈ بال کرکٹ میں بطور کپتان بننے  سے متعلق سوال کے جواب پر  کہا کہ کوئی مایوسی نہیں ہے، سب سے پہلے پاکستان کی ٹیم آتی ہے، چاہے وہ نائب کپتان ہی کیوں نہ ہو، اگر اس کی جگہ نہیں ہے تو نہیں ہے، جو بھی سلیکشن کا فیصلہ ہوتا ہے اسے ہمیشہ عزت دی، جہاں تک کپتانی کا تعلق ہے تو پاکستان کے لیے کھیلنا بہت فخر کی بات ہے اور اس کی کپتانی تو اور بڑی بات ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے، ملک کی ساکھ آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، کھلاڑیوں کے کیریئرز آپ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ میں سینئر پلیئرز کے لیے دروازے  کھلے ہیں، کوشش یہ ہے کہ اوپر سے ہم یہ دکھائیں کہ یہ طریقہ ہے کھیلنے کا، یہ ایک پہچان ہے پاکستان ٹیم کی تو جو بھی کھلاڑی اس طریقے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرتا ہے وہ ضرور ٹیم میں آئے گا لیکن پہلے ہم اپنے طے شدہ یونٹ کو پورا موقع دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217601</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Nov 2023 16:35:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/2913470310f1f9b.png?r=163559" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/2913470310f1f9b.png?r=163559"/>
        <media:title>شان مسعود نے بتایا کہ آخری بار ہم 4 سال پہلے آسٹریلیا گئے تھے، 4 سال میں بہت کچھ بدل گیا ہوگا — فوٹو: ایکس/ پی سی بی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
