<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 04:41:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 04:41:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ: بینکوں کے منافع پر عائد 40 فیصد ونڈ فال ٹیکس معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217657/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ 2 برس کے دوران بینکوں کو غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے منافع پر عائد کردہ 40 فیصد ٹیکس(ونڈ فال ٹیکس) کا اطلاق معطل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ٹیکس کی معطلی کے حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے جاری اضافی ٹیکس سے متعلق ایس آر او بھی معطل قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216396"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمنامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ اضافی ٹیکس نگران حکومت کی جانب سے لگایا گیا ہے لیکن ٹیکسیشن کے معاملات نگران حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سیکشن 99 ڈی کے تحت اضافی ٹیکس کے اطلاق کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی میں پیش کرنا ضروری ہے اور نوٹیفکیشن کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمنامے میں کہا گیا کہ اگر قومی اسمبلی موجود بھی ہے تو عین ممکن ہے کہ اضافی ٹیکس کے نوٹیفکیشن کی حمایت نہ کرے، اگر قومی اسمبلی اضافی ٹیکس کی حمایت نہیں کرتی تو ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ ونڈ فال آمدن پر اضافی ٹیکس کا ایس آر او آئندہ سماعت تک معطل کیا جاتا ہے اور درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں، اب آئندہ سماعت 8 دسمبر کو ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نگران حکومت نے گزشتہ 2 برس کے دوران بینکوں کو غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے منافع پر 40 فیصد ٹیکس عائد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1217350"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق بینکوں نے 2021 اور 2022 کے دوران روپے اور ڈالر کی سٹہ بازی پر مبنی تجارت سے 110 ارب روپے کا بھاری منافع کمایا گیا تھا جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا تھا اور اسی کے پیش نظر نگران حکومت کی کابینہ نے ونڈ فال ٹیکس کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کابینہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک تجویز کی منظوری دی، جس میں کہا گیا ہے کہ فنانس ایکٹ 2023 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 میں سیکشن 99 ڈی متعارف کرایا گیا تاکہ بینکوں کے منافع پر ونڈ فال ٹیکس عائد کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران حکومت بھی قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کرنسی کے تبادلے سے بینکوں کو حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی خواہاں تھی اور اس ٹیکس سے حکومت کو 40 ارب روپے سے زائد کی آمدن کا اندازہ لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ 2 برس کے دوران بینکوں کو غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے منافع پر عائد کردہ 40 فیصد ٹیکس(ونڈ فال ٹیکس) کا اطلاق معطل کردیا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ٹیکس کی معطلی کے حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے جاری اضافی ٹیکس سے متعلق ایس آر او بھی معطل قرار دے دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216396"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکمنامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ اضافی ٹیکس نگران حکومت کی جانب سے لگایا گیا ہے لیکن ٹیکسیشن کے معاملات نگران حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سیکشن 99 ڈی کے تحت اضافی ٹیکس کے اطلاق کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی میں پیش کرنا ضروری ہے اور نوٹیفکیشن کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>حکمنامے میں کہا گیا کہ اگر قومی اسمبلی موجود بھی ہے تو عین ممکن ہے کہ اضافی ٹیکس کے نوٹیفکیشن کی حمایت نہ کرے، اگر قومی اسمبلی اضافی ٹیکس کی حمایت نہیں کرتی تو ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ ونڈ فال آمدن پر اضافی ٹیکس کا ایس آر او آئندہ سماعت تک معطل کیا جاتا ہے اور درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں، اب آئندہ سماعت 8 دسمبر کو ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نگران حکومت نے گزشتہ 2 برس کے دوران بینکوں کو غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے منافع پر 40 فیصد ٹیکس عائد کردیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1217350"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹس کے مطابق بینکوں نے 2021 اور 2022 کے دوران روپے اور ڈالر کی سٹہ بازی پر مبنی تجارت سے 110 ارب روپے کا بھاری منافع کمایا گیا تھا جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا تھا اور اسی کے پیش نظر نگران حکومت کی کابینہ نے ونڈ فال ٹیکس کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کابینہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک تجویز کی منظوری دی، جس میں کہا گیا ہے کہ فنانس ایکٹ 2023 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 میں سیکشن 99 ڈی متعارف کرایا گیا تاکہ بینکوں کے منافع پر ونڈ فال ٹیکس عائد کیا جا سکے۔</p>
<p>نگران حکومت بھی قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کرنسی کے تبادلے سے بینکوں کو حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی خواہاں تھی اور اس ٹیکس سے حکومت کو 40 ارب روپے سے زائد کی آمدن کا اندازہ لگایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217657</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Nov 2023 00:12:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/2923544150546f8.jpg?r=235623" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/2923544150546f8.jpg?r=235623"/>
        <media:title>اس ونڈ فال ٹیکس سے حکومت کو 40 ارب روپے سے زائد کی آمدن کا اندازہ لگایا گیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
