<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:24:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:24:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف سے کیے وعدے پورے کرنے کیلئے آرڈیننس جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217780/</link>
      <description>&lt;p&gt;صدر پاکستان نے  آئی ایم ایف سے کیے وعدوں کے مطابق 4 حکومتی اداروں کی منتظمیت کے نظام کی تشکیل نو کے لیے آرڈیننس جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1794096"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں بتایا گیا ہے کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی پریس ریلیز کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (ترامیم) آرڈیننس 2023، پاکستان پوسٹل سروس منیجمنٹ بورڈ (ترامیم) آرڈیننس 2023، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (ترامیم) آرڈیننس 2023، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ترامیم) آرڈیننس 2023 متعقلہ سیکریٹریز کی جانب سے صدر پاکستان کو اس ’معاملے کی فوری نوعیت پر بریفنگ‘ کے بعد جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی طور پر بہترین طریقوں کے مطابق اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ترامیم کے بعد این ایچ اے، پاکستان پوسٹ، پی این ایس سی اور پی بی سی کے چیئرپرسن اور چیف ایگزیکیٹو کے عہدوں کو الگ کردیا جائے گا، آزاد اراکین کو بھی ان کے بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ترامیم ان اداروں کو  جنوری میں جاری ہونے والے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 کے مطابق لانے کے لیے کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق یہ ترامیم حکومت پاکستان اور عالمی شراکت داروں کے درمیان طے کیے گئے ریاستی ملکیتی اداروں میں اصلاحات کا حصہ ہیں اور یہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے  اسٹینڈ بائی معاہدے میں بطور اسٹرکچرل بینچ مارک شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس او ای ایکٹ کی دیگر شقوں میں مثال کے طور پر  سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کو ادارے کی کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹنگ، سالانہ بنیادوں پر منصوبوں کی تیاری، اور عوام کو بہتر طور پر مطلع کرنے کے لیے تیاری کی رپورٹس وغیرہ اب ان اداروں پر بھی لاگو ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ریاستی ملکیتی اداروں کے قوانین میں ترامیم بہتر گورننس، سہولیات کی فراہمی اور عوام کو جوابدہی کا باعث بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ**&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1206811"&gt;29 جون&lt;/a&gt;** کو آئی ایم ایف اور پاکستان نے ملک کا معاشی بحران کم کرنے کے لیے عملے کی سطح پر 3 ارب ڈالر اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت 13 جولائی کو عالمی مالیاتی فنڈ سے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1216377"&gt;15 نومبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے کہا  کہ پاکستان کے ساتھ پہلے جائزے میں عملے کی سطح پر معاہدہ طے پاگیا ہے اور ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے 70 کروڑ ڈالر جاری کردیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری پر پاکستان کی 70 کروڑ ڈالر تک رسائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صدر پاکستان نے  آئی ایم ایف سے کیے وعدوں کے مطابق 4 حکومتی اداروں کی منتظمیت کے نظام کی تشکیل نو کے لیے آرڈیننس جاری کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1794096">رپورٹ</a></strong> میں بتایا گیا ہے کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی پریس ریلیز کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (ترامیم) آرڈیننس 2023، پاکستان پوسٹل سروس منیجمنٹ بورڈ (ترامیم) آرڈیننس 2023، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (ترامیم) آرڈیننس 2023، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ترامیم) آرڈیننس 2023 متعقلہ سیکریٹریز کی جانب سے صدر پاکستان کو اس ’معاملے کی فوری نوعیت پر بریفنگ‘ کے بعد جاری کیے گئے۔</p>
<p>عالمی طور پر بہترین طریقوں کے مطابق اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ترامیم کے بعد این ایچ اے، پاکستان پوسٹ، پی این ایس سی اور پی بی سی کے چیئرپرسن اور چیف ایگزیکیٹو کے عہدوں کو الگ کردیا جائے گا، آزاد اراکین کو بھی ان کے بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ ترامیم ان اداروں کو  جنوری میں جاری ہونے والے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 کے مطابق لانے کے لیے کی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق یہ ترامیم حکومت پاکستان اور عالمی شراکت داروں کے درمیان طے کیے گئے ریاستی ملکیتی اداروں میں اصلاحات کا حصہ ہیں اور یہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے  اسٹینڈ بائی معاہدے میں بطور اسٹرکچرل بینچ مارک شامل ہے۔</p>
<p>ایس او ای ایکٹ کی دیگر شقوں میں مثال کے طور پر  سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کو ادارے کی کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹنگ، سالانہ بنیادوں پر منصوبوں کی تیاری، اور عوام کو بہتر طور پر مطلع کرنے کے لیے تیاری کی رپورٹس وغیرہ اب ان اداروں پر بھی لاگو ہوں گے۔</p>
<p>مزید میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ریاستی ملکیتی اداروں کے قوانین میں ترامیم بہتر گورننس، سہولیات کی فراہمی اور عوام کو جوابدہی کا باعث بنے گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ**<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1206811">29 جون</a>** کو آئی ایم ایف اور پاکستان نے ملک کا معاشی بحران کم کرنے کے لیے عملے کی سطح پر 3 ارب ڈالر اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کیا تھا۔</p>
<p>معاہدے کے تحت 13 جولائی کو عالمی مالیاتی فنڈ سے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1216377">15 نومبر</a></strong> کو عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے کہا  کہ پاکستان کے ساتھ پہلے جائزے میں عملے کی سطح پر معاہدہ طے پاگیا ہے اور ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے 70 کروڑ ڈالر جاری کردیے جائیں گے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری پر پاکستان کی 70 کروڑ ڈالر تک رسائی ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217780</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Dec 2023 12:07:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/0111322060b1da3.png?r=120704" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/0111322060b1da3.png?r=120704"/>
        <media:title>ترامیم کے بعد آزاد اراکین کو بھی ریاستی اداروں کے  بورڈ میں شامل کیا جائے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
