<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:36:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 08:36:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال کا مواد موجود ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217891/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک سمیت انسٹاگرام پر اب بھی بچوں کے جنسی استحصال، ان پر جنسی تشدد اور تضحیک کے مواد کی نہ صرف حوصلہ افزائی جا رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر اسے وہاں شیئر بھی کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.wsj.com/tech/meta-facebook-instagram-pedophiles-enforcement-struggles-dceb3548"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کینیڈین سینٹر فار چلڈرن پروٹیکشن کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام پر کی جانے والی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاحال دونوں پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کا مواد موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دونوں پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے ہیش ٹیگز کے ساتھ بھی ویڈیوز کو شیئر کیا جا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر صارفین تشدد آمیز مواد دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1166843"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ انسٹاگرام کے بعض ایک کروڑ فالوورز رکھنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے بھی بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق براہ راست ویڈیوز نشر کیے جاتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح نشاندہی کی گئی کہ فیس بک پر بھی ایسے گروپس موجود ہیں، جن میں نہ صرف بچوں کے جنسی استحصال اور تضحیک کا مواد شیئر کیے جاتا ہے جب کہ اپنے ہی خاندان میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کا مواد بھی شیئر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا کہ میٹا کی جانب سے بعض گروپس کو بلاک کردیا گیا تاہم اس باوجود بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے مواد کو روکنے میں کمپنی ناکام ہے یا پھر وہ سست روی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میٹا نے رپورٹ پر فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا، اس سے قبل بھی میٹا پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ کمپنی کے فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کا مواد بڑے پیمانے پر پھیلایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک سمیت انسٹاگرام پر اب بھی بچوں کے جنسی استحصال، ان پر جنسی تشدد اور تضحیک کے مواد کی نہ صرف حوصلہ افزائی جا رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر اسے وہاں شیئر بھی کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.wsj.com/tech/meta-facebook-instagram-pedophiles-enforcement-struggles-dceb3548"><strong>مطابق</strong></a> کینیڈین سینٹر فار چلڈرن پروٹیکشن کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام پر کی جانے والی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاحال دونوں پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کا مواد موجود ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق دونوں پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے ہیش ٹیگز کے ساتھ بھی ویڈیوز کو شیئر کیا جا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر صارفین تشدد آمیز مواد دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1166843"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ انسٹاگرام کے بعض ایک کروڑ فالوورز رکھنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے بھی بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق براہ راست ویڈیوز نشر کیے جاتے رہے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح نشاندہی کی گئی کہ فیس بک پر بھی ایسے گروپس موجود ہیں، جن میں نہ صرف بچوں کے جنسی استحصال اور تضحیک کا مواد شیئر کیے جاتا ہے جب کہ اپنے ہی خاندان میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کا مواد بھی شیئر ہوتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا کہ میٹا کی جانب سے بعض گروپس کو بلاک کردیا گیا تاہم اس باوجود بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے مواد کو روکنے میں کمپنی ناکام ہے یا پھر وہ سست روی کا شکار ہے۔</p>
<p>دوسری جانب میٹا نے رپورٹ پر فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا، اس سے قبل بھی میٹا پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ کمپنی کے فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کا مواد بڑے پیمانے پر پھیلایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217891</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Dec 2023 18:15:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/02170738ebcaa32.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/02170738ebcaa32.jpg"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
