<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:43:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:43:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سے پہلے ٹیسٹ کیلئے آسٹریلین اسکواڈ کا اعلان، وارنر کی شمولیت پر جانسن برہم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217968/</link>
      <description>&lt;p&gt;آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے لیے 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے اور تجربہ کار اوپننگ بلے باز ڈیوڈ وارنر کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جس پر سابق کرکٹر مچل جانسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سلیکشن پر سوالات اٹھائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ وارنر اپنے 12سال پر محیط ٹیسٹ کیریئر کا اختتام پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں سڈنی کے مقام پر کرنے کے خواہاں تھے جو ان کا ہوم گراؤنڈ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ عرصے کے دوران ان کی فارم اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور وہ گزشتہ دو سال کے دوران صرف ایک سنچری کی مدد سے 30 سے بھی کم کی اوسط سے رنز بنا سکے جس کی وجہ سے ان کی پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے اسکواڈ میں شمولیت مشکل نظر آتی تھی لیکن حالیہ ورلڈ کپ میں ان کی پرفارمنس اور آسٹریلیا کے لیے خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اسکواڈ میں منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 14 سے 18 دسمبر تک پرتھ میں کھیلا جائے گا اور پرتھ کی تیز وکٹ کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے اضافی پیس کے حامل ویسٹرن آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر لانس مورس کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسکواڈ میں تجربہ کار آف اسپنر نیتھن لائن کی بھی واپسی ہوئی ہے جو گزشتہ سال ایشز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پنڈلی کی انجری کا شکار ہو کر سیریز سے باہر ہو گئے تھے، نیتھن لائن کی شمولیت کی وجہ سے ٹوڈ مرفی اسکواڈ میں جگہ نہ بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آسٹریلیا نے کوئی تبدیلی نہیں کی اور انگلینڈ میں ایشز کے ساتھ ساتھ رواں سال ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ جیتنے والے اسکواڈ کا برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف سلیکٹرز جارج بیلی نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف میلبرن اور سڈنی ٹیسٹ میچ کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والی دو میچوں کی سیریز میں مزید کھلاڑیوں کو بھی مواقع دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے تقریباً گزشتہ تین دہائی سے آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا اور 1999 سے اب تک آسٹریلین سرزمین پر کھیلی جانے والی تمام سیریز میں پاکستان کو میزبان کے ہاتھوں کلین سوئپ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کوئی میچ ڈرا تک کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے آسٹریلین اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹ کمنز (کپتان)، ڈیوڈ وارنر، عثمان خواجہ، مارنس لبوشین، اسٹیو اسمتھ, ٹریوس ہیڈ، مچل مارش، ایلکس کیری، مچل اسٹارک، نیتھن لائن، جوش ہیزل وُڈ، اسکاٹ بولینڈ، کیمرون گرین اور لانس مورس۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وارنر-کو-فیئرویل-دینے-پر-مچل-جانسن-برہم" href="#وارنر-کو-فیئرویل-دینے-پر-مچل-جانسن-برہم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وارنر کو فیئرویل دینے پر مچل جانسن برہم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مچل جانسن نے بال ٹیمپرنگ کے سینڈ پیر گیٹ اسکینڈل میں سزا یافتہ مچل جانسن کو خراب فارم کے باوجود آسٹریلیا کے اسکواڈ میں شامل کیے جانے پر اوپننگ بلے باز کے ساتھ ساتھ چیف سلیکٹر جارج بیلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا وارنر کھیل اور آسٹریلین کرکٹ ٹیم سے بڑھ کر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دی ویسٹ آسٹریلین‘ میں لکھے گئے اپنے کالم میں مچل جانسن نے گزشتہ 36 ٹیسٹ اننگز میں 26.74 کی اوسط سے رنز بنانے والے ڈیوڈ وارنر کی جانب سے ٹیسٹ فیئرویل کی خواہش اور سلیکٹرز کی جانب سے اس خواہش کو پورا کرنے پر سوالات اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1075669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک وارنر نے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں اپنے کردار کو قبول نہیں کیا، اب اسی تکبر اور آسٹریلین کرکٹ کی تضحیک کے ساتھ کھیل سے رخصت ہو رہے ہیں، لیکن کیا کوئی بتائے گا کہ ہم وارنر کو فیئرویل کیوں دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسلسل جدوجہد کرنے والے اوپننگ بلے باز نے اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا خود انتخاب کیا اور آسٹریلین کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈل کے مرکزی کردار کو اس طرح سے الوداع کیوں کہا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانسن نے کہا کہ وارنر آسٹریلین ٹیم کے کپتان ہیں اور نہ ہی اس عہدے کے مستحق ہیں، وہ ایک اچھے اوپننگ بلے باز ہیں لیکن گزشتہ تین سال میں ان کی کارکردگی بہت واجبی رہی ہے اور بیٹنگ اوسط ایسی رہی ہے جس پر صرف ٹیل اینڈرز ہی خوش رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سینڈپیپر اسکینڈل سے آسٹریلیا کی بدنامی کا سبب بننے والے وارنر اس وقت ٹیم کے اہم رکن تھے تو کیا وہ ایسے میں فیئر ویل کے حقدار ہیں، ان کو پاکستان کے خلاف سیریز میں اس طرح سے الوداع کہا جا رہا ہے تو کیا وہ کھیل اور آسٹریلین کرکٹ ٹیم سے بھی بڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق فاسٹ باؤلر نے چیف سلیکٹر جارج بیلی پر بھی ڈیوڈ وارنر سے دوستی کے سبب ان کو نوازنے اور بلاوجہ ٹیم میں منتخب کرنے کے الزامات لگائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے لیے 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے اور تجربہ کار اوپننگ بلے باز ڈیوڈ وارنر کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جس پر سابق کرکٹر مچل جانسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سلیکشن پر سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p>ڈیوڈ وارنر اپنے 12سال پر محیط ٹیسٹ کیریئر کا اختتام پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں سڈنی کے مقام پر کرنے کے خواہاں تھے جو ان کا ہوم گراؤنڈ بھی ہے۔</p>
<p>تاہم حالیہ عرصے کے دوران ان کی فارم اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور وہ گزشتہ دو سال کے دوران صرف ایک سنچری کی مدد سے 30 سے بھی کم کی اوسط سے رنز بنا سکے جس کی وجہ سے ان کی پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے اسکواڈ میں شمولیت مشکل نظر آتی تھی لیکن حالیہ ورلڈ کپ میں ان کی پرفارمنس اور آسٹریلیا کے لیے خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اسکواڈ میں منتخب کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 14 سے 18 دسمبر تک پرتھ میں کھیلا جائے گا اور پرتھ کی تیز وکٹ کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے اضافی پیس کے حامل ویسٹرن آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر لانس مورس کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ اسکواڈ میں تجربہ کار آف اسپنر نیتھن لائن کی بھی واپسی ہوئی ہے جو گزشتہ سال ایشز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پنڈلی کی انجری کا شکار ہو کر سیریز سے باہر ہو گئے تھے، نیتھن لائن کی شمولیت کی وجہ سے ٹوڈ مرفی اسکواڈ میں جگہ نہ بنا سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ آسٹریلیا نے کوئی تبدیلی نہیں کی اور انگلینڈ میں ایشز کے ساتھ ساتھ رواں سال ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ جیتنے والے اسکواڈ کا برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>چیف سلیکٹرز جارج بیلی نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف میلبرن اور سڈنی ٹیسٹ میچ کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والی دو میچوں کی سیریز میں مزید کھلاڑیوں کو بھی مواقع دیں گے۔</p>
<p>پاکستان نے تقریباً گزشتہ تین دہائی سے آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا اور 1999 سے اب تک آسٹریلین سرزمین پر کھیلی جانے والی تمام سیریز میں پاکستان کو میزبان کے ہاتھوں کلین سوئپ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کوئی میچ ڈرا تک کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔</p>
<p>پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے آسٹریلین اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>پیٹ کمنز (کپتان)، ڈیوڈ وارنر، عثمان خواجہ، مارنس لبوشین، اسٹیو اسمتھ, ٹریوس ہیڈ، مچل مارش، ایلکس کیری، مچل اسٹارک، نیتھن لائن، جوش ہیزل وُڈ، اسکاٹ بولینڈ، کیمرون گرین اور لانس مورس۔</p>
<h1><a id="وارنر-کو-فیئرویل-دینے-پر-مچل-جانسن-برہم" href="#وارنر-کو-فیئرویل-دینے-پر-مچل-جانسن-برہم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وارنر کو فیئرویل دینے پر مچل جانسن برہم</h1>
<p>مچل جانسن نے بال ٹیمپرنگ کے سینڈ پیر گیٹ اسکینڈل میں سزا یافتہ مچل جانسن کو خراب فارم کے باوجود آسٹریلیا کے اسکواڈ میں شامل کیے جانے پر اوپننگ بلے باز کے ساتھ ساتھ چیف سلیکٹر جارج بیلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا وارنر کھیل اور آسٹریلین کرکٹ ٹیم سے بڑھ کر ہیں۔</p>
<p>’دی ویسٹ آسٹریلین‘ میں لکھے گئے اپنے کالم میں مچل جانسن نے گزشتہ 36 ٹیسٹ اننگز میں 26.74 کی اوسط سے رنز بنانے والے ڈیوڈ وارنر کی جانب سے ٹیسٹ فیئرویل کی خواہش اور سلیکٹرز کی جانب سے اس خواہش کو پورا کرنے پر سوالات اٹھائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1075669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک وارنر نے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں اپنے کردار کو قبول نہیں کیا، اب اسی تکبر اور آسٹریلین کرکٹ کی تضحیک کے ساتھ کھیل سے رخصت ہو رہے ہیں، لیکن کیا کوئی بتائے گا کہ ہم وارنر کو فیئرویل کیوں دے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مسلسل جدوجہد کرنے والے اوپننگ بلے باز نے اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا خود انتخاب کیا اور آسٹریلین کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈل کے مرکزی کردار کو اس طرح سے الوداع کیوں کہا جا رہا ہے۔</p>
<p>جانسن نے کہا کہ وارنر آسٹریلین ٹیم کے کپتان ہیں اور نہ ہی اس عہدے کے مستحق ہیں، وہ ایک اچھے اوپننگ بلے باز ہیں لیکن گزشتہ تین سال میں ان کی کارکردگی بہت واجبی رہی ہے اور بیٹنگ اوسط ایسی رہی ہے جس پر صرف ٹیل اینڈرز ہی خوش رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سینڈپیپر اسکینڈل سے آسٹریلیا کی بدنامی کا سبب بننے والے وارنر اس وقت ٹیم کے اہم رکن تھے تو کیا وہ ایسے میں فیئر ویل کے حقدار ہیں، ان کو پاکستان کے خلاف سیریز میں اس طرح سے الوداع کہا جا رہا ہے تو کیا وہ کھیل اور آسٹریلین کرکٹ ٹیم سے بھی بڑے ہیں۔</p>
<p>سابق فاسٹ باؤلر نے چیف سلیکٹر جارج بیلی پر بھی ڈیوڈ وارنر سے دوستی کے سبب ان کو نوازنے اور بلاوجہ ٹیم میں منتخب کرنے کے الزامات لگائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217968</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Dec 2023 19:58:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/031928144a45dd0.jpg?r=195830" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/031928144a45dd0.jpg?r=195830"/>
        <media:title>وارنر گزشتہ کچھ عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
