<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:15:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:15:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی خدشات کے شکار علاقوں میں انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں، رہنما پیپلزپارٹی کی تجویز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218406/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر و رہنما پیپلزپارٹی عبدالقادر بلوچ نے سیکیورٹی خدشات کے شکار علاقوں میں انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حلقوں میں بعد میں ضمنی انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں انٹرویو کے دوران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ انتخابات مکمل طور پر ملتوی کرنے کے بجائے حساس علاقوں میں انتخابات مؤخر کرنا زیادہ مناسب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ 6 یا 7 نشستوں پر سیکیورٹی خدشات کے باعث پورے ملک میں انتخابات نہ کروا کے جمہوریت کو ڈی ریل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان کو بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/nguramani/status/1733747613541994629"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملے بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں سے کہیں زیادہ ہیں، قلات، مستونگ اور گردونواح کے علاقوں کو اکثر کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خطرات تو واقعی موجود ہیں، علیحدگی پسند عناصر پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، یہ عناصر صوبے میں انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو میڈیا پر آکر مولانا فضل الرحمٰن کو درپیش سیکیورٹی خدشات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کے بجائے وہ اُن سے براہ راست اس بارے میں بات کر لیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ملک میں سیاستدانوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئندہ برس 8 فروری 2024 کو انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا تھا، اس پیش رفت کے سبب بیشتر سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں مشکل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سربراہ جے یو آئی (ف) فضل الرحمٰن نے بھی امن و امان کی ناقص صورتحال کے دوران انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 روز قبل نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے واضح کیا تھا کہ پُرامن عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے حکومت پوری طرح تیار ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اعتراف کیا کہ فروری میں عام انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی کے خطرات درپیش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1218330"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے سیاسی رہنماؤں، بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے تھریٹ الرٹ کا ذکر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وفاقی وزیر و رہنما پیپلزپارٹی عبدالقادر بلوچ نے سیکیورٹی خدشات کے شکار علاقوں میں انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حلقوں میں بعد میں ضمنی انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں انٹرویو کے دوران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ انتخابات مکمل طور پر ملتوی کرنے کے بجائے حساس علاقوں میں انتخابات مؤخر کرنا زیادہ مناسب ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ 6 یا 7 نشستوں پر سیکیورٹی خدشات کے باعث پورے ملک میں انتخابات نہ کروا کے جمہوریت کو ڈی ریل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان کو بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے خطرہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/nguramani/status/1733747613541994629"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملے بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں سے کہیں زیادہ ہیں، قلات، مستونگ اور گردونواح کے علاقوں کو اکثر کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خطرات تو واقعی موجود ہیں، علیحدگی پسند عناصر پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، یہ عناصر صوبے میں انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔</p>
<p>رہنما پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو میڈیا پر آکر مولانا فضل الرحمٰن کو درپیش سیکیورٹی خدشات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کے بجائے وہ اُن سے براہ راست اس بارے میں بات کر لیتے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ملک میں سیاستدانوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئندہ برس 8 فروری 2024 کو انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا تھا، اس پیش رفت کے سبب بیشتر سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔</p>
<p>تاہم گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں مشکل ہیں۔</p>
<p>اسی طرح سربراہ جے یو آئی (ف) فضل الرحمٰن نے بھی امن و امان کی ناقص صورتحال کے دوران انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p>2 روز قبل نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے واضح کیا تھا کہ پُرامن عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے حکومت پوری طرح تیار ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اعتراف کیا کہ فروری میں عام انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی کے خطرات درپیش ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1218330"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے سیاسی رہنماؤں، بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے تھریٹ الرٹ کا ذکر کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218406</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Dec 2023 17:37:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نادر گُرامانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/10134455b7927d3.png?r=173754" type="image/png" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/10134455b7927d3.png?r=173754"/>
        <media:title>عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ حکومت کو سیاستدانوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنی چاہیے— فائل فوٹو اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
