<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:22:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:22:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا زری پالیسی اجلاس آج، شرح سود 22 فیصد برقرار رہنے کی توقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218501/</link>
      <description>&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے آج ہونے والے پالیسی اجلاس میں مسلسل چوتھی بار بنیادی شرح کو 22 فیصد پر برقرار رکھے جانے کی توقع ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں افراط زر میں کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے معیشت کو فروغ دینے کے لیے شرح میں کمی کی راہ ہموار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1797181/sbp-may-leave-rate-untouched-today"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ملک جولائی میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے قرضوں کی منظوری کے بعد عبوری حکومت کی نگرانی میں معاشی بحالی کے مشکل سفر پر گامزن ہے، جس نے ڈیفالٹ کو روکنے میں مدد کی لیکن اس میں ایسی شرائط موجود ہیں، جو افراط زر کو روکنے کی کوششوں کو مشکل بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریٹ جون میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا اور گزشتہ 3 جائزہ اجلاسوں میں اس میں ردو بدل نہیں کیا گیا، رائٹرز کے سروے میں شامل  12 تجزیہ کاروں کی اوسط پیش گوئی کے مطابق شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی جبکہ ایک تجزیہ کار نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214815"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں اتفاق رائے ہے کہ اگلے سال کی پہلی ششماہی میں شرح سود میں بتدریج نرمی شروع ہو جائے گی، جس کا انحصار مہنگائی کی رفتار پر ہے، اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ عثمان زاہد کا کہنا ہے کہ مہنگائی اب بھی بہت زیادہ ہے اور منفی حقیقی شرح سود اس وقت کسی نرمی کا جواز پیش نہیں کرتے، امریکا جیسے ہمارے تجارتی پارٹنرز پہلے ہی مثبت حقیقی شرح سود پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان زاہد نے مزید کہا کہ دیگر مصنوعات سمیت گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نومبر میں افراط زر میں 2.7 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا لیکن فروری 2024 تک سالانہ مہنگائی میں کمی آنا شروع ہوجائے گی، نومبر میں سالانہ مہنگائی 29.2 فیصد تھی، جو اکتوبر کے مقابلے تھوڑی زیادہ مگر مئی کے 38 فیصد سے بہت کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل  کا کہنا تھا کہ مستحکم کرنسی، کم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور آنے والے مہینوں میں افراط زر  میں کمی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کو شرح کو کم کرنے کے لیے راغب کرنے کی کوشش کرے گی، انہوں نے کہا کہ کلیدی شرح منگل کو ہی 100 بیس پوائنٹس تک گر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے آج ہونے والے پالیسی اجلاس میں مسلسل چوتھی بار بنیادی شرح کو 22 فیصد پر برقرار رکھے جانے کی توقع ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں افراط زر میں کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے معیشت کو فروغ دینے کے لیے شرح میں کمی کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1797181/sbp-may-leave-rate-untouched-today">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ملک جولائی میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے قرضوں کی منظوری کے بعد عبوری حکومت کی نگرانی میں معاشی بحالی کے مشکل سفر پر گامزن ہے، جس نے ڈیفالٹ کو روکنے میں مدد کی لیکن اس میں ایسی شرائط موجود ہیں، جو افراط زر کو روکنے کی کوششوں کو مشکل بناتی ہیں۔</p>
<p>پالیسی ریٹ جون میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا اور گزشتہ 3 جائزہ اجلاسوں میں اس میں ردو بدل نہیں کیا گیا، رائٹرز کے سروے میں شامل  12 تجزیہ کاروں کی اوسط پیش گوئی کے مطابق شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی جبکہ ایک تجزیہ کار نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214815"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مارکیٹ میں اتفاق رائے ہے کہ اگلے سال کی پہلی ششماہی میں شرح سود میں بتدریج نرمی شروع ہو جائے گی، جس کا انحصار مہنگائی کی رفتار پر ہے، اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ عثمان زاہد کا کہنا ہے کہ مہنگائی اب بھی بہت زیادہ ہے اور منفی حقیقی شرح سود اس وقت کسی نرمی کا جواز پیش نہیں کرتے، امریکا جیسے ہمارے تجارتی پارٹنرز پہلے ہی مثبت حقیقی شرح سود پر ہیں۔</p>
<p>عثمان زاہد نے مزید کہا کہ دیگر مصنوعات سمیت گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نومبر میں افراط زر میں 2.7 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا لیکن فروری 2024 تک سالانہ مہنگائی میں کمی آنا شروع ہوجائے گی، نومبر میں سالانہ مہنگائی 29.2 فیصد تھی، جو اکتوبر کے مقابلے تھوڑی زیادہ مگر مئی کے 38 فیصد سے بہت کم تھی۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل  کا کہنا تھا کہ مستحکم کرنسی، کم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور آنے والے مہینوں میں افراط زر  میں کمی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کو شرح کو کم کرنے کے لیے راغب کرنے کی کوشش کرے گی، انہوں نے کہا کہ کلیدی شرح منگل کو ہی 100 بیس پوائنٹس تک گر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218501</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Dec 2023 12:41:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/12114216e9061fd.jpg?r=114227" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/12114216e9061fd.jpg?r=114227"/>
        <media:title>اسٹیٹ بینک پاکستان کا پالیسی ریٹ جون میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
