<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:49:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 10:49:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 22 فیصد پر برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218522/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس میں شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے منگل کو نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا اور ایک مرتبہ پھر شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے میں گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثر کو پیش نظر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے نومبر کے مہینے میں مہنگائی قدرے زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ 12 ماہ کی بنیاد پر حقیقی شرح سود بدستور مثبت ہے اور مہنگائی متوقع طور پر مسلسل کمی کی راہ پر گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی معاہدے کی بدولت سہ ماہی کے لیے جی ڈی پی نمو کا نتیجہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی معتدل معاشی بحالی کی توقع کے مطابق رہا، صارفین اور کاروباری طبقے کے احساسات میں بھی بہتری آئی ہے لیکن مہنگائی اب بھی بلند ترین سطح پر ہے جس میں بتدریج کمی آرہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 24 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی 2.1 فیصد سال بہ سال بڑھی جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں ایک فیصد نمو ہوئی تھی اور توقعات کے عین مطابق زراعت کے شعبے میں نمو اس کا بنیادی محرک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زری پالیسی کمیٹی نے جاری کھاتے کے توازن میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا کیونکہ مالی سال 24 میں جولائی تا اکتوبر خسارہ 65.9 فیصد سال بہ سال گھٹ کر 1.1 ارب ڈالر رہ گیا، اگرچہ درآمدات کم ہوئیں تاہم غذائی اشیا خصوصاً چاول کی وجہ سے برآمدات تھوڑی بڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ باضابطہ چینلز سے رقوم کی منتقلی کی اسٹیٹ بینک کی ترغیبات اور حکومتی اقدامات کی بدولت اکتوبر اور نومبر 2023 کے مقابلے میں ترسیلات زر میں بہتری آئی، البتہ قرضوں کی واپسی کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل سے امکان ہے کہ رقوم کی آمد نیز زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال بہتر ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گیس کے نرخوں میں توقع سے زیادہ اضافے نے نومبر 2023 میں مہنگائی میں 3.2 فیصدی درجے کا حصہ ڈالا اور سال بہ سال 29.2 فیصد پر پہنچا دیا، رواں ماہ مہنگائی 21.5 فیصد کی شرح پر رہی جو مئی 2023 میں 22.7 فیصد کی بلند ترین شرح سے ذرا کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ محدود مجموعی طلب، بہتر ہوتی ہوئی رسدی رکاوٹوں، اجناس کی عالمی قیمتوں میں اعتدال اور سازگار اساسی بنیاد کی وجہ سے مالی سال 24 میں کی دوسری ششماہی میں مجموعی مہنگائی میں خاصی کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 27 جون کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے پیش نظر شرح سود بڑھا کر 22 فیصد کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے اب تک تقریباً چھ ماہ گزرنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کسی قسم کی کمی یا بیشی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپریل 2022 سے جولائی تک شرح سود میں 12.25 اضافہ کردیا تھا جس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس میں شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے منگل کو نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا اور ایک مرتبہ پھر شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے میں گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثر کو پیش نظر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے نومبر کے مہینے میں مہنگائی قدرے زیادہ تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ 12 ماہ کی بنیاد پر حقیقی شرح سود بدستور مثبت ہے اور مہنگائی متوقع طور پر مسلسل کمی کی راہ پر گامزن ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی معاہدے کی بدولت سہ ماہی کے لیے جی ڈی پی نمو کا نتیجہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی معتدل معاشی بحالی کی توقع کے مطابق رہا، صارفین اور کاروباری طبقے کے احساسات میں بھی بہتری آئی ہے لیکن مہنگائی اب بھی بلند ترین سطح پر ہے جس میں بتدریج کمی آرہی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 24 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی 2.1 فیصد سال بہ سال بڑھی جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں ایک فیصد نمو ہوئی تھی اور توقعات کے عین مطابق زراعت کے شعبے میں نمو اس کا بنیادی محرک تھی۔</p>
<p>زری پالیسی کمیٹی نے جاری کھاتے کے توازن میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا کیونکہ مالی سال 24 میں جولائی تا اکتوبر خسارہ 65.9 فیصد سال بہ سال گھٹ کر 1.1 ارب ڈالر رہ گیا، اگرچہ درآمدات کم ہوئیں تاہم غذائی اشیا خصوصاً چاول کی وجہ سے برآمدات تھوڑی بڑھیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ باضابطہ چینلز سے رقوم کی منتقلی کی اسٹیٹ بینک کی ترغیبات اور حکومتی اقدامات کی بدولت اکتوبر اور نومبر 2023 کے مقابلے میں ترسیلات زر میں بہتری آئی، البتہ قرضوں کی واپسی کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل سے امکان ہے کہ رقوم کی آمد نیز زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال بہتر ہو گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گیس کے نرخوں میں توقع سے زیادہ اضافے نے نومبر 2023 میں مہنگائی میں 3.2 فیصدی درجے کا حصہ ڈالا اور سال بہ سال 29.2 فیصد پر پہنچا دیا، رواں ماہ مہنگائی 21.5 فیصد کی شرح پر رہی جو مئی 2023 میں 22.7 فیصد کی بلند ترین شرح سے ذرا کم ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ محدود مجموعی طلب، بہتر ہوتی ہوئی رسدی رکاوٹوں، اجناس کی عالمی قیمتوں میں اعتدال اور سازگار اساسی بنیاد کی وجہ سے مالی سال 24 میں کی دوسری ششماہی میں مجموعی مہنگائی میں خاصی کمی آئے گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 27 جون کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے پیش نظر شرح سود بڑھا کر 22 فیصد کردی تھی۔</p>
<p>اس کے بعد سے اب تک تقریباً چھ ماہ گزرنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کسی قسم کی کمی یا بیشی نہیں کی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپریل 2022 سے جولائی تک شرح سود میں 12.25 اضافہ کردیا تھا جس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218522</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Dec 2023 18:18:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/121716530dec0d0.jpg?r=181703" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/121716530dec0d0.jpg?r=181703"/>
        <media:title>اسٹیٹ بینک نے جولائی سے اب تک شرح سود کو برقرار رکھا ہوا ہے — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
