<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 19:17:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 19:17:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ رواں مالی سال میں پہلی بار سرپلس ہو گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218893/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ کیا ہے کہ  رواں مالی سال کے دوران نومبر میں پہلی بار  پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1799059/current-account-turns-positive-on-back-of-falling-imports"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈالرز کی کم آمد اور قرضوں اور سود کی بُلند ادائیگی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ نومبر میں 90 لاکھ ڈالر سرپلس میں چلا گیا، گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مالی سال 2024 میں جولائی تا نومبر  کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 63 فیصد کمی کے بعد ایک ارب 16 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران یہ خسارہ 3 ارب 26 کروڑ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمایاں اثر درآمدات میں کمی کی وجہ سے نظر آیا، رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران اشیا کی درآمدات  4 ارب ڈالر سے زائد کمی کے بعد 21 ارب 30 کروڑ ڈالر رہ گئی، جبکہ 59 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے معمولی اضافے کے بعد برآمدات 12 ارب 50 کروڑ ڈالر ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210038"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے مطابق خدمات کی برآمدات 10 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمی کے بعد 2 ارب 99 کروڑ ڈالر رہی، جبکہ خدمات کی درآمدات میں 70 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا، کرنٹ اکاؤنٹ میں تجارتی خسارہ ایک اہم عنصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالر ہوسکتا ہے،  جبکہ مرکزی بینک کے گورنر نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد کو عبور نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال 2023 کی آخری دو سہ ماہیوں میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا تھا، تیسری سہ ماہی میں 57 کروڑ 90 لاکھ جبکہ چوتھی سہ ماہی میں 81 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا سرپلس رہا تھا، یہ حوصلہ افزا رجحان تھا لیکن یہ رواں مالی سال میں جاری نہیں رہ سکا تھا، تاہم نومبر میں اس میں سرپلس دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ ترسیلات زر میں بھی گزشتہ دو ماہ میں بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن مجموعی طور پر جولائی تا نومبر 2024 کے دوران اس میں 10.3 فیصد کی تنزلی ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ کیا ہے کہ  رواں مالی سال کے دوران نومبر میں پہلی بار  پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1799059/current-account-turns-positive-on-back-of-falling-imports"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ڈالرز کی کم آمد اور قرضوں اور سود کی بُلند ادائیگی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ نومبر میں 90 لاکھ ڈالر سرپلس میں چلا گیا، گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم مالی سال 2024 میں جولائی تا نومبر  کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 63 فیصد کمی کے بعد ایک ارب 16 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران یہ خسارہ 3 ارب 26 کروڑ ڈالر رہا تھا۔</p>
<p>نمایاں اثر درآمدات میں کمی کی وجہ سے نظر آیا، رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران اشیا کی درآمدات  4 ارب ڈالر سے زائد کمی کے بعد 21 ارب 30 کروڑ ڈالر رہ گئی، جبکہ 59 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے معمولی اضافے کے بعد برآمدات 12 ارب 50 کروڑ ڈالر ہو گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210038"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مرکزی بینک کے مطابق خدمات کی برآمدات 10 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمی کے بعد 2 ارب 99 کروڑ ڈالر رہی، جبکہ خدمات کی درآمدات میں 70 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا، کرنٹ اکاؤنٹ میں تجارتی خسارہ ایک اہم عنصر ہے۔</p>
<p>ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالر ہوسکتا ہے،  جبکہ مرکزی بینک کے گورنر نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد کو عبور نہیں کرے گا۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال 2023 کی آخری دو سہ ماہیوں میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا تھا، تیسری سہ ماہی میں 57 کروڑ 90 لاکھ جبکہ چوتھی سہ ماہی میں 81 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا سرپلس رہا تھا، یہ حوصلہ افزا رجحان تھا لیکن یہ رواں مالی سال میں جاری نہیں رہ سکا تھا، تاہم نومبر میں اس میں سرپلس دیکھا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے بتایا کہ ترسیلات زر میں بھی گزشتہ دو ماہ میں بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن مجموعی طور پر جولائی تا نومبر 2024 کے دوران اس میں 10.3 فیصد کی تنزلی ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218893</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Dec 2023 09:24:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/19091958fbb9c64.jpg?r=092047" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/19091958fbb9c64.jpg?r=092047"/>
        <media:title>فروری 2021 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/19092026e3b5fbb.png?r=092047" type="image/png" medium="image" height="480" width="798">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/19092026e3b5fbb.png?r=092047"/>
        <media:title>— فوٹو: عرفان خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
