<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 00:57:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 00:57:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان، اسد عمر کی 25 مئی سے متعلق تشدد کیس میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218948/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی سیشن عدالت نے بانی چیئرمین عمران خان اور اسد عمر کے خلاف 25 مئی 2022 سے متعلق درج تشدد کیس میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر کو جرم کی حوصلہ افزائی کے زمرے میں نامزد کیا گیا تھا، تاہم ایف آئی آر میں حوصلہ افزائی کے ذرائع تحریر نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ استغاثہ نے کبھی ملزمان کی جائے وقوع پر موجودگی کا دعویٰ بھی نہیں کیا، عمران خان اور اسد عمر کا تعلق جرم سے جوڑنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں، بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر پر مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر کی بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، عمران خان اور اسد عمر کو مقدمے سے بری قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ سال 25 مئی کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد کی طرف ’آزادی مارچ‘ کیا تھا جس میں پرتشدد واقعات بھی ہوئے جبکہ عوامی و سرکاری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا جس پر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے 25 مئی 2022 کو ہونے والے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کو روکنے کے لیے حکام نے دفعہ 144 نافذ کی تھی جس کے تحت 4 سے زائد افراد جمع نہیں ہو سکتے جس کا مقصد اجتماعات کو روکنا ہے، تاہم حکام نے عمران خان کے مارچ کو روکنے کے لیے اہم شاہراہوں پر شپنگ کنٹینرز رکھ کر انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کی طرف سے لگائے کنٹنیرز کے باوجود مارچ کے شرکا تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد میں داخل ہوئے جس پر پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ساتھ آنسوں گیس کا استعمال اور شیلنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے فوٹیج میں اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں سے ملحقہ گرین بیلٹس کو آگ لگادی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ آگ تحریک انصاف کے حامیوں نے لگائی تھی جب کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ آگ پولیس کی شیلنگ کی وجہ سے لگی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی سیشن عدالت نے بانی چیئرمین عمران خان اور اسد عمر کے خلاف 25 مئی 2022 سے متعلق درج تشدد کیس میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔</p>
<p>تحریری فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر کو جرم کی حوصلہ افزائی کے زمرے میں نامزد کیا گیا تھا، تاہم ایف آئی آر میں حوصلہ افزائی کے ذرائع تحریر نہیں کیے گئے۔</p>
<p>اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ استغاثہ نے کبھی ملزمان کی جائے وقوع پر موجودگی کا دعویٰ بھی نہیں کیا، عمران خان اور اسد عمر کا تعلق جرم سے جوڑنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں، بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر پر مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر کی بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، عمران خان اور اسد عمر کو مقدمے سے بری قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ سال 25 مئی کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد کی طرف ’آزادی مارچ‘ کیا تھا جس میں پرتشدد واقعات بھی ہوئے جبکہ عوامی و سرکاری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا جس پر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>عمران خان کے 25 مئی 2022 کو ہونے والے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کو روکنے کے لیے حکام نے دفعہ 144 نافذ کی تھی جس کے تحت 4 سے زائد افراد جمع نہیں ہو سکتے جس کا مقصد اجتماعات کو روکنا ہے، تاہم حکام نے عمران خان کے مارچ کو روکنے کے لیے اہم شاہراہوں پر شپنگ کنٹینرز رکھ کر انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>حکام کی طرف سے لگائے کنٹنیرز کے باوجود مارچ کے شرکا تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد میں داخل ہوئے جس پر پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ساتھ آنسوں گیس کا استعمال اور شیلنگ کی۔</p>
<p>اس دوران ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے فوٹیج میں اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں سے ملحقہ گرین بیلٹس کو آگ لگادی گئی۔</p>
<p>حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ آگ تحریک انصاف کے حامیوں نے لگائی تھی جب کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ آگ پولیس کی شیلنگ کی وجہ سے لگی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218948</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Dec 2023 21:43:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/19174709184a673.jpg?r=214331" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/19174709184a673.jpg?r=214331"/>
        <media:title>تحریری حکم نامے کے مطابق عمران خان  اور اسد عمر پر مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا — فائل فوٹو: شکیل قرار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
