<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:13:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:13:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ ہائیکورٹ: میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1219231/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ  نے میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عدالت نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی بنیاد پر جاری داخلوں کا عمل روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  سندھ ہائی کورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں بے قاعدگیوں کے خلاف درخواستوں کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے بتایا کہ سندھ حکومت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ پاس کرنے والے طلبہ  نے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنے والے طلبہ کی فریق بننے کی درخواست منظور کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 10 ستمبر کو سندھ بھر سے 40 ہزار سے زائد طلبہ نے جے ایس ایم یو کی جانب سے منعقدہ ایم ڈی کیٹ میں شرکت کی تھی، پیپر لیک ہونے کے الزامات پر حکومت کو تحقیقات کرنا پڑیں، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پیپر ٹیسٹ شروع ہونے سے پانچ گھنٹے پہلے واقعی لیک ہوا تھا&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ  نے میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع کردی۔</p>
<p>واضح رہے کہ عدالت نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی بنیاد پر جاری داخلوں کا عمل روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  سندھ ہائی کورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں بے قاعدگیوں کے خلاف درخواستوں کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔</p>
<p>عدالت نے بتایا کہ سندھ حکومت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا ہے۔</p>
<p>مزید بتایا کہ ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ پاس کرنے والے طلبہ  نے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنے والے طلبہ کی فریق بننے کی درخواست منظور کرلی۔</p>
<p>بعد ازاں، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کردی۔</p>
<p>یاد رہے کہ 10 ستمبر کو سندھ بھر سے 40 ہزار سے زائد طلبہ نے جے ایس ایم یو کی جانب سے منعقدہ ایم ڈی کیٹ میں شرکت کی تھی، پیپر لیک ہونے کے الزامات پر حکومت کو تحقیقات کرنا پڑیں، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پیپر ٹیسٹ شروع ہونے سے پانچ گھنٹے پہلے واقعی لیک ہوا تھا</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1219231</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Dec 2023 12:05:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/22120249c348c93.jpg?r=120257" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/22120249c348c93.jpg?r=120257"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
