<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:29:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:29:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہفتہ وار مہنگائی بدستور 42.60 فیصد کی بُلند سطح پر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1219250/</link>
      <description>&lt;p&gt;قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 21  دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بدستور 42.60 فیصد کی بُلند سطح پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/price_statistics/weekly_spi/SPI%20Executive%20Sumary%26SPI%20Report_21122023.pdf"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ ہفتہ وار مہنگائی مسلسل چھٹے ہفتے 41 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر قلیل مدتی مہنگائی میں 0.51 فیصد کی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت میں سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (1108.59 فیصد)، سگریٹ (93.22 فیصد)، پسی مرچ (81.74 فیصد)، گندم کا آٹا (78.80 فیصد)، لہسن (72.48 فیصد)، چاول باسمتی ٹوٹا (62.52 فیصد)، چاول ایری 6/9 (59.45 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، ٹماٹر (56.89 فیصد)، مردانہ سینڈل (53.37 فیصد)، چینی (50.33 فیصد)، گڑ (49.86 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، اس میں پیاز (23.92 فیصد)، سرسوں کا تیل (4.24 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ایک کلو(1.59 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ڈھائی کلو (0.62 فیصد) اور کیلے (0.06 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدتی یا ہفتہ وار مہنگائی کی پیمائش حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) کے ذریعے کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس پی آئی کے تحت 51 ضروری اشیا کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جائزہ لینے کے لیے حاصل کی جاتی ہیں، زیر جائزہ مدت کے دوران 18 مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،  9کی قیمتوں میں کمی جبکہ باقی اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا، ان میں انڈے (10.42 فیصد)، آگ جلانے والی لکڑی (1.23 فیصد)، پیاز (1.19 فیصد)، دال مونگ (0.88 فیصد)، دال چنا (0.79 فیصد)، لہسن اور چاول ایری 6/9 (0.40 فیصد)، دال مسور (0.30 فیصد)، ایل پی جی (0.26 فیصد)، کیلے (0.19 فیصد)، شرٹنگ کا کپڑا (0.15 فیصد) شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم زیر جائزہ مدت کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں تنزلی ہوئی، ان میں آلو (13.17)، پیٹرول سپر (4.97 فیصد)، ڈیزل (4.68 فیصد)، ٹماٹر (3.45 فیصد)، چینی (1.16 فیصد)، گندم کے آٹے کا تھیلا (0.33 فیصد)، مرغی کا گوشت (0.13 فیصد)، چاول باسمتی ٹوٹا (0.11 فیصد) اور خوردنی تیل 5 لیٹر (0.07) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح رواں برس مئی کے آغاز میں ریکارڈ 48.35 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن پھر اگست کے آخر میں 24.4 فیصد تک کم ہوگئی تھی، تاہم 16 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 40 فیصد کو عبور کرگئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 21  دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بدستور 42.60 فیصد کی بُلند سطح پر موجود ہے۔</p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/price_statistics/weekly_spi/SPI%20Executive%20Sumary%26SPI%20Report_21122023.pdf"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ ہفتہ وار مہنگائی مسلسل چھٹے ہفتے 41 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر قلیل مدتی مہنگائی میں 0.51 فیصد کی کمی ہوئی۔</p>
<p>زیر جائزہ مدت میں سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (1108.59 فیصد)، سگریٹ (93.22 فیصد)، پسی مرچ (81.74 فیصد)، گندم کا آٹا (78.80 فیصد)، لہسن (72.48 فیصد)، چاول باسمتی ٹوٹا (62.52 فیصد)، چاول ایری 6/9 (59.45 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، ٹماٹر (56.89 فیصد)، مردانہ سینڈل (53.37 فیصد)، چینی (50.33 فیصد)، گڑ (49.86 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، اس میں پیاز (23.92 فیصد)، سرسوں کا تیل (4.24 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ایک کلو(1.59 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ڈھائی کلو (0.62 فیصد) اور کیلے (0.06 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>قلیل مدتی یا ہفتہ وار مہنگائی کی پیمائش حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) کے ذریعے کی جاتی ہے۔</p>
<p>ایس پی آئی کے تحت 51 ضروری اشیا کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جائزہ لینے کے لیے حاصل کی جاتی ہیں، زیر جائزہ مدت کے دوران 18 مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،  9کی قیمتوں میں کمی جبکہ باقی اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا، ان میں انڈے (10.42 فیصد)، آگ جلانے والی لکڑی (1.23 فیصد)، پیاز (1.19 فیصد)، دال مونگ (0.88 فیصد)، دال چنا (0.79 فیصد)، لہسن اور چاول ایری 6/9 (0.40 فیصد)، دال مسور (0.30 فیصد)، ایل پی جی (0.26 فیصد)، کیلے (0.19 فیصد)، شرٹنگ کا کپڑا (0.15 فیصد) شامل ہے۔</p>
<p>تاہم زیر جائزہ مدت کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں تنزلی ہوئی، ان میں آلو (13.17)، پیٹرول سپر (4.97 فیصد)، ڈیزل (4.68 فیصد)، ٹماٹر (3.45 فیصد)، چینی (1.16 فیصد)، گندم کے آٹے کا تھیلا (0.33 فیصد)، مرغی کا گوشت (0.13 فیصد)، چاول باسمتی ٹوٹا (0.11 فیصد) اور خوردنی تیل 5 لیٹر (0.07) شامل ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح رواں برس مئی کے آغاز میں ریکارڈ 48.35 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن پھر اگست کے آخر میں 24.4 فیصد تک کم ہوگئی تھی، تاہم 16 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 40 فیصد کو عبور کرگئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1219250</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Dec 2023 15:40:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاصم علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/22153315115ae64.jpg?r=153654" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/22153315115ae64.jpg?r=153654"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: آن لائن/ملک سجاد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
