<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 02:58:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 02:58:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلے کا انتخابی نشان واپس، پی ٹی آئی کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1219304/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیے جانے اور بلا کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پر ہمارے پہلے دن سے بہت سارے تحفظات تھے اور الیکشن کمیشن جس باریک بینی سے ہمارے کیس کو دیکھ رہا تھا، 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی اور کے کیس کو اس طریقے سے نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آئین اور قانون کے تحت الیکشن کرائے تھے، ہر چیز کو اسی مناسبت سے پرکھا تھا اور ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ کونسے رول یا سیکشن کی خلاف ورزی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جو پشاور ہائی کورٹ میں جواب فائل کیا، اس میں ایک لفظ نہیں بولا کہ کونسے رول یا شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، پاکستان کے الیکشن ایکٹ 2017 کا کونسے رول یا سیکشن کی خلاف ورزی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق کیا ہے لیکن یہ فیصلہ ذاتیات پر مبنی ہے، یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور الیکشن کمیشن نے یہ بلے کا نشان ہم سے لینے کا پہلے سے تہیا کیا ہوا تھا، یہ ایک سازش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک بڑی پارٹی سے نشان لے کر سارے کے سارے امیدواروں کو آزاد بنا رہے ہیں، اس وقت 70 ریزرو نشستیں قومی اسمبلی میں ہیں، باقی پورے پاکستان میں ملا کر 227 ریزرو نشستیں ہیں اور یہ سیٹیں ان جماعتوں کے پاس جاتی ہیں جن کے پاس نشان ہے اور جو اپنے نشان پر الیکشن لڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان 227 ریزرو نشستوں کے امیدواروں کا صدارت اور سینیٹ کے الیکشن میں بہت اہم کردار ہوتا ہے، ان کا وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے انتخاب میں بہت اہم کردار ہوتا ہے، آپ ہمارے 70 ووٹ کسی اور پارٹی کو دے رہے ہیں جو اس کے حقدار ہی نہیں ہیں، صرف سازش یہ ہے کہ ہم سے بلا لے لیں اور ہمارے امیدوار اور ووٹر کنفیوژ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اور ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوہر خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیے جانے اور بلا کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پر ہمارے پہلے دن سے بہت سارے تحفظات تھے اور الیکشن کمیشن جس باریک بینی سے ہمارے کیس کو دیکھ رہا تھا، 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی اور کے کیس کو اس طریقے سے نہیں دیکھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آئین اور قانون کے تحت الیکشن کرائے تھے، ہر چیز کو اسی مناسبت سے پرکھا تھا اور ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ کونسے رول یا سیکشن کی خلاف ورزی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جو پشاور ہائی کورٹ میں جواب فائل کیا، اس میں ایک لفظ نہیں بولا کہ کونسے رول یا شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، پاکستان کے الیکشن ایکٹ 2017 کا کونسے رول یا سیکشن کی خلاف ورزی ہوئی۔</p>
<p>بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق کیا ہے لیکن یہ فیصلہ ذاتیات پر مبنی ہے، یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور الیکشن کمیشن نے یہ بلے کا نشان ہم سے لینے کا پہلے سے تہیا کیا ہوا تھا، یہ ایک سازش ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک بڑی پارٹی سے نشان لے کر سارے کے سارے امیدواروں کو آزاد بنا رہے ہیں، اس وقت 70 ریزرو نشستیں قومی اسمبلی میں ہیں، باقی پورے پاکستان میں ملا کر 227 ریزرو نشستیں ہیں اور یہ سیٹیں ان جماعتوں کے پاس جاتی ہیں جن کے پاس نشان ہے اور جو اپنے نشان پر الیکشن لڑتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان 227 ریزرو نشستوں کے امیدواروں کا صدارت اور سینیٹ کے الیکشن میں بہت اہم کردار ہوتا ہے، ان کا وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے انتخاب میں بہت اہم کردار ہوتا ہے، آپ ہمارے 70 ووٹ کسی اور پارٹی کو دے رہے ہیں جو اس کے حقدار ہی نہیں ہیں، صرف سازش یہ ہے کہ ہم سے بلا لے لیں اور ہمارے امیدوار اور ووٹر کنفیوژ ہوں۔</p>
<p>پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اور ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔</p>
<p>گوہر خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1219304</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Dec 2023 22:01:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/22215938251204d.jpg?r=215948" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/22215938251204d.jpg?r=215948"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/2221592831283b1.jpg?r=220033" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/2221592831283b1.jpg?r=220033"/>
        <media:title>رہنما پی ٹی آئی گوہر خان— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
