<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 13:26:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 13:26:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کا استعمال ناجائز اور حرام ہے، جامعہ بنوریہ کا فتویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1219388/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی معروف دینی درس گاہ جامعہ بنوری ٹاؤن نے ٹک ٹاک کو دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے اس کا استعمال ناجائز اور حرام قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں بھی ٹک ٹاک کو مذہبی علما بے حیائی پھیلانے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور پاکستان میں وقتا بوقتا ٹک ٹاک پر جزوی پابندی عائد بھی ہوتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جامعہ بنوری ٹاؤن نے ٹک ٹاک کے استعمال کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے اسے دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعہ بنوری نے فتویٰ نمبر ( &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.banuri.edu.pk/readquestion/to-tok-estmal-krny-ka-hukm-144211200409/19-06-2021"&gt;&lt;strong&gt;144211200409&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) میں ٹک ٹاک کے ناجائز اور حرام ہونے کے تقریبا 10 اسباب بھی بتائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعہ کی جانب سے جاری کردہ آن لائن فتویٰ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک سے متعلق دستیاب معلومات  کے مطابق یہ ایپ دورِ حاضر میں بڑھتا ہوا خطرناک فتنہ ہے، اس ایپ کا شرعی نقطہ نظر سے استعمال ناجائز اور حرام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فتویٰ کے مطابق ایپ میں جان داروں کی تصویر اور ویڈیو سازی ہوتی ہے، جو شرعاً حرام ہے جب کہ ایپ میں عورتیں بے ہودہ ویڈیوز بناکر پھیلاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درسگاہ کے مطابق ٹک ٹاک پر مرد و زن ناچ گانے پر مشتمل ویڈیوز بناتے ہیں اور یہ فحاشی اور عریانی پھیلانے کا ذریعہ ہے جب کہ یہ وقت کا ضیاع اور لہو لعب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فتویٰ میں بتایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پرنہ علماء اور مذہب کے مذاق اور استہزا پر مشتمل ویڈیوز موجود ہیں بلکہ اس پر ہر چیز کا مذاق اور استہزا کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فتویٰ کے مطابق مذکورہ اسباب شرعاً ناجائز ہیں اور اس ایپ کو استعمال کرنے والا لامحالہ ان گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے، لہذا ٹک ٹاک کا استعمال جائز نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی معروف دینی درس گاہ جامعہ بنوری ٹاؤن نے ٹک ٹاک کو دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے اس کا استعمال ناجائز اور حرام قرار دے دیا۔</p>
<p>ماضی میں بھی ٹک ٹاک کو مذہبی علما بے حیائی پھیلانے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور پاکستان میں وقتا بوقتا ٹک ٹاک پر جزوی پابندی عائد بھی ہوتی رہی ہے۔</p>
<p>اب جامعہ بنوری ٹاؤن نے ٹک ٹاک کے استعمال کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے اسے دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے۔</p>
<p>جامعہ بنوری نے فتویٰ نمبر ( <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.banuri.edu.pk/readquestion/to-tok-estmal-krny-ka-hukm-144211200409/19-06-2021"><strong>144211200409</strong></a>) میں ٹک ٹاک کے ناجائز اور حرام ہونے کے تقریبا 10 اسباب بھی بتائے۔</p>
<p>جامعہ کی جانب سے جاری کردہ آن لائن فتویٰ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک سے متعلق دستیاب معلومات  کے مطابق یہ ایپ دورِ حاضر میں بڑھتا ہوا خطرناک فتنہ ہے، اس ایپ کا شرعی نقطہ نظر سے استعمال ناجائز اور حرام ہے۔</p>
<p>فتویٰ کے مطابق ایپ میں جان داروں کی تصویر اور ویڈیو سازی ہوتی ہے، جو شرعاً حرام ہے جب کہ ایپ میں عورتیں بے ہودہ ویڈیوز بناکر پھیلاتی ہیں۔</p>
<p>درسگاہ کے مطابق ٹک ٹاک پر مرد و زن ناچ گانے پر مشتمل ویڈیوز بناتے ہیں اور یہ فحاشی اور عریانی پھیلانے کا ذریعہ ہے جب کہ یہ وقت کا ضیاع اور لہو لعب ہے۔</p>
<p>فتویٰ میں بتایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پرنہ علماء اور مذہب کے مذاق اور استہزا پر مشتمل ویڈیوز موجود ہیں بلکہ اس پر ہر چیز کا مذاق اور استہزا کیا جاتا ہے۔</p>
<p>فتویٰ کے مطابق مذکورہ اسباب شرعاً ناجائز ہیں اور اس ایپ کو استعمال کرنے والا لامحالہ ان گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے، لہذا ٹک ٹاک کا استعمال جائز نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1219388</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Dec 2023 17:50:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/231721314d5d3d4.jpg?r=172145" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/231721314d5d3d4.jpg?r=172145"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
