<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 16:44:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 16:44:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیویارک ٹائمز نے چیٹ جی پی ٹی اور مائیکروسافٹ کے خلاف کاپی رائٹس کا مقدمہ کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1219755/</link>
      <description>&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سب سے مقبول اوپن اے آئی یعنی چیٹ جی پی ٹی اور مائیکرو سافٹ کے اے آئی پلیٹ فارم پر معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کاپی رائٹس کا مقدمہ دائر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیٹ جی پی ٹی سب سے مقبول ترین اے آئی پلیٹ فارم ہے، جس کے چیٹ بوٹ تقریباً ہر سوال کا جواب سیکنڈز میں دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کے بعد مائیکرو سافٹ سمیت دیگر کمپنیوں نے بھی اپنے اے آئی پلیٹ فارمز متعارف کرائے تھے، جن پر پہلے ہی مواد کو کاپی کرنے کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب پہلی بار نیویارک ٹائمز نے دونوں پلیٹ فارمز پر اپنے لاکھوں آرٹیکلز اور خبروں کا مواد چوری کرکے چیٹ بوٹس کو مواد تیار کرنے کی تربیت دینے سمیت مذکورہ مواد کو دیگر ذرائع کے لیے استعمال کرنے پر کاپی رائٹس کا مقدمہ دائر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/transactional/ny-times-sues-openai-microsoft-infringing-copyrighted-work-2023-12-27/"&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اخبار نے منہٹن کی فیڈرل کورٹ میں اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف کاپی رائٹس کا مقدمہ دائر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں دونوں پلیٹ فارمز پر ہرجانے کا کوئی مخصوص دعویٰ نہیں کیا گیا، تاہم درخواست میں کہا گیا ہے کہ اداروں کو کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر اربوں ڈالرز کا جرمانہ کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے مطابق دونون پلیٹ فارمز نے اخبار کے ایکسکلوژو مواد کو کاپی کرکے اپنے چیٹ بوٹس کو تربیت دی اور بعد ازاں اسی مواد کو حوالوں کے طور پر استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے مقدمے میں یہ درخواست بھی کی ہے کہ دونوں پلیٹ فارمز کو نیویارک ٹائمز کے کاپی شدہ مواد کو ڈیلیٹ کرنے اور اسے مزید استعمال کرنے سے بھی روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز کی درخواست پر عدالت کب سماعت کرتی ہے اور چیٹ جی پی ٹی سمیت مائکروسافٹ پر کتنا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سب سے مقبول اوپن اے آئی یعنی چیٹ جی پی ٹی اور مائیکرو سافٹ کے اے آئی پلیٹ فارم پر معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کاپی رائٹس کا مقدمہ دائر کردیا۔</p>
<p>چیٹ جی پی ٹی سب سے مقبول ترین اے آئی پلیٹ فارم ہے، جس کے چیٹ بوٹ تقریباً ہر سوال کا جواب سیکنڈز میں دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کے بعد مائیکرو سافٹ سمیت دیگر کمپنیوں نے بھی اپنے اے آئی پلیٹ فارمز متعارف کرائے تھے، جن پر پہلے ہی مواد کو کاپی کرنے کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔</p>
<p>لیکن اب پہلی بار نیویارک ٹائمز نے دونوں پلیٹ فارمز پر اپنے لاکھوں آرٹیکلز اور خبروں کا مواد چوری کرکے چیٹ بوٹس کو مواد تیار کرنے کی تربیت دینے سمیت مذکورہ مواد کو دیگر ذرائع کے لیے استعمال کرنے پر کاپی رائٹس کا مقدمہ دائر کردیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/transactional/ny-times-sues-openai-microsoft-infringing-copyrighted-work-2023-12-27/"><strong>رائٹرز</strong></a> کے مطابق اخبار نے منہٹن کی فیڈرل کورٹ میں اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف کاپی رائٹس کا مقدمہ دائر کردیا۔</p>
<p>اخبار کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں دونوں پلیٹ فارمز پر ہرجانے کا کوئی مخصوص دعویٰ نہیں کیا گیا، تاہم درخواست میں کہا گیا ہے کہ اداروں کو کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر اربوں ڈالرز کا جرمانہ کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>مقدمے کے مطابق دونون پلیٹ فارمز نے اخبار کے ایکسکلوژو مواد کو کاپی کرکے اپنے چیٹ بوٹس کو تربیت دی اور بعد ازاں اسی مواد کو حوالوں کے طور پر استعمال کیا۔</p>
<p>اخبار نے مقدمے میں یہ درخواست بھی کی ہے کہ دونوں پلیٹ فارمز کو نیویارک ٹائمز کے کاپی شدہ مواد کو ڈیلیٹ کرنے اور اسے مزید استعمال کرنے سے بھی روکا جائے۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز کی درخواست پر عدالت کب سماعت کرتی ہے اور چیٹ جی پی ٹی سمیت مائکروسافٹ پر کتنا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1219755</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Dec 2023 22:03:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/2720562548f0308.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/2720562548f0308.jpg"/>
        <media:title>فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
