<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 00:02:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 00:02:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی انتخابی نشان کیس: الیکشن کمیشن کی پشاور ہائیکورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1220054/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ڈان نیوز ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں استدعا کی گئی کہ معاملے پر خصوصی 2 رکنی بینچ بنا کر جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں پشاور ہائی کورٹ سے حکم امتناع ختم کرنے اور کیس کے لیے ڈویژنل بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219578"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے &lt;strong&gt;23 نومبر&lt;/strong&gt; کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف بلے کو اپنے انتخابی نشان کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے 20 دن کے اندر اندر پارٹی انتخابات کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ عمران خان قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور گوہر خان ان کی جگہ چیئرمین کا الیکشن لڑیں گے، بعدازاں پی ٹی آئی نے &lt;strong&gt;2 دسمبر&lt;/strong&gt; کو انٹراپارٹی انتخابات کرائے تھے جہاں بیرسٹر گوہر خان کو عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1219298/"&gt;&lt;strong&gt;22 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 دسمبرکو پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ’بلے‘ کا نشان واپس لینے کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انٹراپارٹی انتخابات سےمتعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کاسرٹیفکیٹ ویب سائٹ پرجاری کرنے کےاحکامات دیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔</p>
<p>’ڈان نیوز ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی۔</p>
<p>درخواست میں استدعا کی گئی کہ معاملے پر خصوصی 2 رکنی بینچ بنا کر جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔</p>
<p>درخواست میں پشاور ہائی کورٹ سے حکم امتناع ختم کرنے اور کیس کے لیے ڈویژنل بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219578"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے <strong>23 نومبر</strong> کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف بلے کو اپنے انتخابی نشان کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے 20 دن کے اندر اندر پارٹی انتخابات کرائے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ عمران خان قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور گوہر خان ان کی جگہ چیئرمین کا الیکشن لڑیں گے، بعدازاں پی ٹی آئی نے <strong>2 دسمبر</strong> کو انٹراپارٹی انتخابات کرائے تھے جہاں بیرسٹر گوہر خان کو عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔</p>
<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1219298/"><strong>22 دسمبر</strong></a> کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔</p>
<p>26 دسمبرکو پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ’بلے‘ کا نشان واپس لینے کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔</p>
<p>پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انٹراپارٹی انتخابات سےمتعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کاسرٹیفکیٹ ویب سائٹ پرجاری کرنے کےاحکامات دیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1220054</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Dec 2023 14:39:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد امدادویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/30141426740b29b.jpg?r=143525" type="image/jpeg" medium="image" height="384" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/30141426740b29b.jpg?r=143525"/>
        <media:title>درخواست الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
