<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:44:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:44:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کیخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1220410/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ  نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ڈان نیوز‘ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر پشاور کے لیے بلے کا نشان دیا گیا ہے، پنجاب کے لیے لاہور ہائی کورٹ حکم جاری کر سکتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلے کا نشان ہو گا اور پنجاب میں یہ نشان نہیں ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کو ایک ریسرچ ونگ بنانا چاہیے جو ریسرچ کر کے کیس فائل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219578"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ناقابلِ سماعت ہے، درخواستگزار متاثرہ فریق نہیں ہے، یہ درخواست تحریک انصاف کی جانب سے دائر نہیں ہوئی، وکیل نے اپنے طور پر دائر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی سے روک رکھا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے 3 اہم سوالات کے جواب مانگ لیے:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;کیا ہائی کورٹ ان معاملات میں دخل اندازی کر سکتی ہے جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو؟&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کیا جو ریلیف کسی اور عدالت سے ملا ہے یہی ریلیف لاہور ہائی کورٹ دے سکتی ہے؟&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کیا سیاسی جماعت نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 ( 5) کو  چیلنج کیا ہے؟&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے درخواست گزار کو اِن سوالات کے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائیکورٹ  نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔</p>
<p>’ڈان نیوز‘ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔</p>
<p>دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر پشاور کے لیے بلے کا نشان دیا گیا ہے، پنجاب کے لیے لاہور ہائی کورٹ حکم جاری کر سکتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلے کا نشان ہو گا اور پنجاب میں یہ نشان نہیں ہو گا۔</p>
<p>عدالت نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کو ایک ریسرچ ونگ بنانا چاہیے جو ریسرچ کر کے کیس فائل کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219578"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ناقابلِ سماعت ہے، درخواستگزار متاثرہ فریق نہیں ہے، یہ درخواست تحریک انصاف کی جانب سے دائر نہیں ہوئی، وکیل نے اپنے طور پر دائر کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی سے روک رکھا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا۔</p>
<p>دریں اثنا لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے 3 اہم سوالات کے جواب مانگ لیے:</p>
<ul>
<li>کیا ہائی کورٹ ان معاملات میں دخل اندازی کر سکتی ہے جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو؟</li>
<li>کیا جو ریلیف کسی اور عدالت سے ملا ہے یہی ریلیف لاہور ہائی کورٹ دے سکتی ہے؟</li>
<li>کیا سیاسی جماعت نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 ( 5) کو  چیلنج کیا ہے؟</li>
</ul>
<p>عدالت نے درخواست گزار کو اِن سوالات کے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1220410</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jan 2024 10:44:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/03120650f25e6c5.png?r=120702" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/03120650f25e6c5.png?r=120702"/>
        <media:title>لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
