<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 01:17:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 01:17:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمپیوٹر کی بورڈ میں 30 سال بعد تبدیلی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1220618/</link>
      <description>&lt;p&gt;کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو آپریٹ کرنے والی کمپنی مائکرو سافٹ نے 30 سال بعد کی بورڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے اس میں نیا بٹن شامل کرنے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں استعمال کیے جانے والے موجودہ کی بورڈ یا لیپ ٹاپ میں نصف کی بورڈ میں آخری تبدیلی 1990 کی دہائی میں کی گئی تھی اور اب 2024 میں اس میں دوبارہ تبدیلی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائکرو سافٹ نے اپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blogs.windows.com/windowsexperience/2024/01/04/introducing-a-new-copilot-key-to-kick-off-the-year-of-ai-powered-windows-pcs/"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا کہ اب کی بورڈ میں موجود ونڈوز کے بٹن کی جگہ نیا بٹن کوپائلٹ (Copilot) شامل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی کی بورڈ میں کوئی اضافی بٹن نہیں دیا جائے گا بلکہ پرانا بٹن نکال کر اس میں نیا بٹن دیا جائے گا اور ممکنہ طور پر 2024 کے وسط کے بعد بننے والے کی بورڈز نئے بٹن کے ساتھ بننا شروع ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1040890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح نئے لیپ ٹاپ بھی نئے بٹن کے ساتھ بنانا شروع کردیے جائیں گے اور اس ضمن میں مائکرو سافٹ نے کی بورڈز سمیت دیگر آلات بنانے والی کمپنیوں سے اشتراک بھی کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے بٹن کوپائلٹ (Copilot) کو کلک کرتے ہی صارفین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز تک رسائی حاصل کر سکیں گے، صارفین اسی بٹن کے تحت ونڈوز کے فیچرز تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے بٹن کے ساتھ ہی مائکرو سافٹ تمام کمپیوٹرز کو اے آئی ٹولز کے ساتھ منسلک کر دے گا اور صارفین بہت سارے کام کرنے کے دوران مصنوعی ذہانت کے فیچرز استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ دنیا میں پہلی بار 1850 کے بعد کی بورڈ ٹائپ رائٹرز کی شکل میں تیار ہوئے تھے اور ان میں کئی دہائیوں تک تبدیلیاں ہوتی رہیں اور کی بورڈ کو مختلف نام دیے جاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ کمپیوٹر کی بورڈز اور لیپ ٹاپ کی بورڈز 1950 کے بعد سامنے آئے اور ان میں 1970 کے بعد مزید بہتری لائی گئی اور 1980 تک مائوس کو کمپیوٹر اور کی بورڈ کا حصہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی بورڈ میں آخری بٹن ونڈوز کا 1990 کے دوران شامل کیا گیا تھا اور اب اس کی جگہ کوپائلٹ (Copilot) کا بٹن دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/S1R08Qx6Fvs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو آپریٹ کرنے والی کمپنی مائکرو سافٹ نے 30 سال بعد کی بورڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے اس میں نیا بٹن شامل کرنے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>دنیا بھر میں استعمال کیے جانے والے موجودہ کی بورڈ یا لیپ ٹاپ میں نصف کی بورڈ میں آخری تبدیلی 1990 کی دہائی میں کی گئی تھی اور اب 2024 میں اس میں دوبارہ تبدیلی کی جائے گی۔</p>
<p>مائکرو سافٹ نے اپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blogs.windows.com/windowsexperience/2024/01/04/introducing-a-new-copilot-key-to-kick-off-the-year-of-ai-powered-windows-pcs/"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں بتایا کہ اب کی بورڈ میں موجود ونڈوز کے بٹن کی جگہ نیا بٹن کوپائلٹ (Copilot) شامل کیا جائے گا۔</p>
<p>یعنی کی بورڈ میں کوئی اضافی بٹن نہیں دیا جائے گا بلکہ پرانا بٹن نکال کر اس میں نیا بٹن دیا جائے گا اور ممکنہ طور پر 2024 کے وسط کے بعد بننے والے کی بورڈز نئے بٹن کے ساتھ بننا شروع ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1040890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح نئے لیپ ٹاپ بھی نئے بٹن کے ساتھ بنانا شروع کردیے جائیں گے اور اس ضمن میں مائکرو سافٹ نے کی بورڈز سمیت دیگر آلات بنانے والی کمپنیوں سے اشتراک بھی کرلیا ہے۔</p>
<p>نئے بٹن کوپائلٹ (Copilot) کو کلک کرتے ہی صارفین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز تک رسائی حاصل کر سکیں گے، صارفین اسی بٹن کے تحت ونڈوز کے فیچرز تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>نئے بٹن کے ساتھ ہی مائکرو سافٹ تمام کمپیوٹرز کو اے آئی ٹولز کے ساتھ منسلک کر دے گا اور صارفین بہت سارے کام کرنے کے دوران مصنوعی ذہانت کے فیچرز استعمال کر سکیں گے۔</p>
<p>خیال رہے کہ دنیا میں پہلی بار 1850 کے بعد کی بورڈ ٹائپ رائٹرز کی شکل میں تیار ہوئے تھے اور ان میں کئی دہائیوں تک تبدیلیاں ہوتی رہیں اور کی بورڈ کو مختلف نام دیے جاتے رہے۔</p>
<p>حالیہ کمپیوٹر کی بورڈز اور لیپ ٹاپ کی بورڈز 1950 کے بعد سامنے آئے اور ان میں 1970 کے بعد مزید بہتری لائی گئی اور 1980 تک مائوس کو کمپیوٹر اور کی بورڈ کا حصہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی بورڈ میں آخری بٹن ونڈوز کا 1990 کے دوران شامل کیا گیا تھا اور اب اس کی جگہ کوپائلٹ (Copilot) کا بٹن دیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/S1R08Qx6Fvs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1220618</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jan 2024 08:48:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/04193031dab9a83.jpg?r=193050" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/04193031dab9a83.jpg?r=193050"/>
        <media:title>—فوٹو: مائکرو سافٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
