<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 08:28:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 08:28:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان مندی میں تبدیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1220948/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز ٹریڈنگ کے دوران تیزی کا  رجحان منفی میں تبدیل ہو گیا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 277 پوائنٹس کمی کے بعد 64 ہزار 277 پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق دوپہر تقریباً 11 بج کر 32 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 0.77 فیصد یا 494 پوائنٹس بڑھ کر 65 ہزار 9 کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار کے اختتام تک یہ مثبت رجحان منفی میں تبدیل ہو گیا اور انڈیکس 277 پوائنٹس یا 0.43 فیصد کمی کے بعد 64 ہزار 237 پر آگیا،  جو گزشتہ کاروباری روز 64 ہزار 514 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز (5 جنوری) سینیٹ اجلاس میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور ہونے کے فوری بعد پاکستان اسٹاک ایکسیچنج مثبت کے بعد منفی میں تبدیلی ہوگئی تھی اور انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مارکیٹ کے بند ہونے تک انڈیکس میں کچھ بہتری آگئی اور وہ 124 پوائنٹس یا 0.19 فیصد کمی کے ساتھ 64 ہزار 515 کی سطح پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1220694"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس 2023 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے اچھا سال ثابت ہوا، جس کے آغاز کے ساتھ اختتام بھی مثبت رجحان پر ختم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 جنوری 2023 بروز پیر کے ایس ای-100 انڈیکس 40 ہزار 420 پوائنٹس پر تھا، جو کاروبار کے اختتام تک 395.45 پوائنٹس اضافے کے بعد 40 ہزار 815 پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2023 کے آخری کاروباری روز انڈیکس 62 ہزار 451 کی سطح پر بند ہوا تھا، اس طرح گزشتہ برس بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 22 ہزار 31 پوائنٹس یا 54.50 فیصد اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ سال 2022 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے دباؤ سے بھرپورسال ثابت ہوا تھا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 2021 کے مقابلے میں 9.4 فیصد کمی کے بعد 40 ہزار 420 پوائنٹس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز ٹریڈنگ کے دوران تیزی کا  رجحان منفی میں تبدیل ہو گیا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 277 پوائنٹس کمی کے بعد 64 ہزار 277 پر آگیا۔</p>
<p>پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق دوپہر تقریباً 11 بج کر 32 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 0.77 فیصد یا 494 پوائنٹس بڑھ کر 65 ہزار 9 کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>تاہم کاروبار کے اختتام تک یہ مثبت رجحان منفی میں تبدیل ہو گیا اور انڈیکس 277 پوائنٹس یا 0.43 فیصد کمی کے بعد 64 ہزار 237 پر آگیا،  جو گزشتہ کاروباری روز 64 ہزار 514 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز (5 جنوری) سینیٹ اجلاس میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور ہونے کے فوری بعد پاکستان اسٹاک ایکسیچنج مثبت کے بعد منفی میں تبدیلی ہوگئی تھی اور انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گر گیا تھا۔</p>
<p>تاہم مارکیٹ کے بند ہونے تک انڈیکس میں کچھ بہتری آگئی اور وہ 124 پوائنٹس یا 0.19 فیصد کمی کے ساتھ 64 ہزار 515 کی سطح پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1220694"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ برس 2023 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے اچھا سال ثابت ہوا، جس کے آغاز کے ساتھ اختتام بھی مثبت رجحان پر ختم ہوا تھا۔</p>
<p>2 جنوری 2023 بروز پیر کے ایس ای-100 انڈیکس 40 ہزار 420 پوائنٹس پر تھا، جو کاروبار کے اختتام تک 395.45 پوائنٹس اضافے کے بعد 40 ہزار 815 پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>سال 2023 کے آخری کاروباری روز انڈیکس 62 ہزار 451 کی سطح پر بند ہوا تھا، اس طرح گزشتہ برس بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 22 ہزار 31 پوائنٹس یا 54.50 فیصد اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>جبکہ سال 2022 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے دباؤ سے بھرپورسال ثابت ہوا تھا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 2021 کے مقابلے میں 9.4 فیصد کمی کے بعد 40 ہزار 420 پوائنٹس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1220948</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jan 2024 16:29:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/08113640cc73e8b.png?r=113725" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/08113640cc73e8b.png?r=113725"/>
        <media:title>— فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
