<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 10:40:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 10:40:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری کے معاملے پر ایس پی کینٹ طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1221404/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے معاملے پر ایس پی کینٹ کو طلب کر لیا، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ  پولیس کہہ رہی ہے، ہم نے گرفتار نہیں کیا، تو کیا جنات یا فرشتوں نےگرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق جسٹس شکیل احمد اور جسٹس وقار احمد کی عدالت میں لاجبرخان ایڈووکیٹ  پیش  ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاجبر خان ایڈووکیٹ  نے عدالت کو بتایا کہ آفتاب عالم کو عدالت کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے آج پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آفتاب عالم کیس کا ریکارڈ منگو الیا، اور جسٹس شکیل احمد نے ہدایت دی کہ آفتاب عالم کو عدالت میں پیش کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں،  پشاور پولیس نے آفتاب عالم ایڈووکیٹ کو ہائی کورٹ میں پیش کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکندر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جن مقدمات میں گرفتار کیا گیا، آفتاب عالم کو ان میں ضمانت مل چکی، اب پولیس کہہ رہی ہےکہ غلط فہمی ہوئی،کسی مقدمےمیں مطلوب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شکیل  نے ریمارکس دیے کہ  احاطہ عدالت سےگرفتاری پرآپ نے توہین عدالت کیس کیوں نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس وقار احمد نے استفسار  کیا کہ ایک وکیل کو احاطہ عدالت سے کیوں گرفتار کیا، ملک میں کونسا قانون رائج کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  نے عدالت کو بتایا کہ اگرپولیس کارروائی نہیں کرتی تویہ سسٹم کہیں اورچلاجائےگا، جس پر  جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ  ایک غلط چیز کا دفاع نہ کریں پھر جنگل کا قانون بن جائے گا،  ایک وکیل عدالت آتا ہے اور آپ تگڑے بن کرگرفتار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شکیل نے کہا کہ  پولیس کہہ رہی ہے، ہم نے گرفتار نہیں کیا، تو کیا جنات یا فرشتوں نےگرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور ہائیکورٹ نے ایس پی کینٹ کو طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے معاملے پر ایس پی کینٹ کو طلب کر لیا، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ  پولیس کہہ رہی ہے، ہم نے گرفتار نہیں کیا، تو کیا جنات یا فرشتوں نےگرفتار کیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق جسٹس شکیل احمد اور جسٹس وقار احمد کی عدالت میں لاجبرخان ایڈووکیٹ  پیش  ہوئے۔</p>
<p>لاجبر خان ایڈووکیٹ  نے عدالت کو بتایا کہ آفتاب عالم کو عدالت کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے آج پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے آفتاب عالم کیس کا ریکارڈ منگو الیا، اور جسٹس شکیل احمد نے ہدایت دی کہ آفتاب عالم کو عدالت میں پیش کر دیں۔</p>
<p>بعد ازاں،  پشاور پولیس نے آفتاب عالم ایڈووکیٹ کو ہائی کورٹ میں پیش کر دیا۔</p>
<p>سکندر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جن مقدمات میں گرفتار کیا گیا، آفتاب عالم کو ان میں ضمانت مل چکی، اب پولیس کہہ رہی ہےکہ غلط فہمی ہوئی،کسی مقدمےمیں مطلوب نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس شکیل  نے ریمارکس دیے کہ  احاطہ عدالت سےگرفتاری پرآپ نے توہین عدالت کیس کیوں نہیں کی۔</p>
<p>جسٹس وقار احمد نے استفسار  کیا کہ ایک وکیل کو احاطہ عدالت سے کیوں گرفتار کیا، ملک میں کونسا قانون رائج کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  نے عدالت کو بتایا کہ اگرپولیس کارروائی نہیں کرتی تویہ سسٹم کہیں اورچلاجائےگا، جس پر  جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ  ایک غلط چیز کا دفاع نہ کریں پھر جنگل کا قانون بن جائے گا،  ایک وکیل عدالت آتا ہے اور آپ تگڑے بن کرگرفتار کرتے ہیں۔</p>
<p>جسٹس شکیل نے کہا کہ  پولیس کہہ رہی ہے، ہم نے گرفتار نہیں کیا، تو کیا جنات یا فرشتوں نےگرفتار کیا۔</p>
<p>پشاور ہائیکورٹ نے ایس پی کینٹ کو طلب کرلیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1221404</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jan 2024 10:13:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/12100609e9a9ace.jpg?r=100615" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/12100609e9a9ace.jpg?r=100615"/>
        <media:title>—فائل فوٹو:ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
