<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:52:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 15:52:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب پر ہنگامی طبی امداد کے مواد کی تلاش کو آسان بنا دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1221462/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے ہنگامی طبی امداد سے متعلق مواد اور طریقہ کار کی ویڈیوز کو تلاش کرنے کو آسان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویب سائٹ کی جانب سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blog.youtube/news-and-events/first-aid-information-on-youtube-search/"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ 10 جنوری سے یوٹیوب پر کسی بھی ہنگامی طبی امداد کے طریقہ کار سے متعلق مواد کو آسان کردیا گیا اور نئے فیچر میں الگورتھم کو بھی بہتر کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی اب کوئی بھی شخص یوٹیوب پر جیسے ہی کسی بھی طبی ہنگامی امداد سے متعلق مواد تلاش کرے گا تو اسے سب سے پہلے مستند اداروں کی ویڈیوز نظر آئیں گی جب کہ سرچنگ کے دوران سسٹم خود بھی صارفین کو تجاویز پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق جیسے ہی صارفین اب ہارٹ اٹیک لکھیں گے تو اس وقت نہ صرف ہارٹ اٹیک کے وقت طبی امداد دیے جانے کے طریقہ کار کی ویڈیوز نظر آئیں گی بلکہ اس متعلق الگورتھم صارف کو تجاویز بھی دیے گا کہ وہ ہارٹ اٹیک کی طبی امداد کے لیے فلاں فلاں ویڈیوز بھی دیکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق طبی ہنگامی امداد کا مستند مواد صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کی صورت میں صارفین تک پہنچایا جائے گا، اس میں ایسی ویڈیوز کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جو غیر مستند چینلز کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے بتایا کہ صارفین سی پی آر، ہارٹ اٹیک، فالج اور ادویات کے اوور ڈوز جیسے مسائل کی مستند ویڈیوز ترجیحی بنیادوں پر دیکھ اور سرچ کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ تبدیلی کو فوری طور پر 10 جنوری سے نافذ کردیا گیا، تاہم متعدد ممالک میں مذکورہ تبدیلی چند ہفتوں بعد ہونا شروع ہوگی اور ابتدائی طور پر صرف انگریزی زبان کی ویڈیوز صارفین کو نظر آئیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے ہنگامی طبی امداد سے متعلق مواد اور طریقہ کار کی ویڈیوز کو تلاش کرنے کو آسان کردیا۔</p>
<p>ویب سائٹ کی جانب سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blog.youtube/news-and-events/first-aid-information-on-youtube-search/"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں بتایا گیا کہ 10 جنوری سے یوٹیوب پر کسی بھی ہنگامی طبی امداد کے طریقہ کار سے متعلق مواد کو آسان کردیا گیا اور نئے فیچر میں الگورتھم کو بھی بہتر کردیا گیا۔</p>
<p>یعنی اب کوئی بھی شخص یوٹیوب پر جیسے ہی کسی بھی طبی ہنگامی امداد سے متعلق مواد تلاش کرے گا تو اسے سب سے پہلے مستند اداروں کی ویڈیوز نظر آئیں گی جب کہ سرچنگ کے دوران سسٹم خود بھی صارفین کو تجاویز پیش کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یوٹیوب کے مطابق جیسے ہی صارفین اب ہارٹ اٹیک لکھیں گے تو اس وقت نہ صرف ہارٹ اٹیک کے وقت طبی امداد دیے جانے کے طریقہ کار کی ویڈیوز نظر آئیں گی بلکہ اس متعلق الگورتھم صارف کو تجاویز بھی دیے گا کہ وہ ہارٹ اٹیک کی طبی امداد کے لیے فلاں فلاں ویڈیوز بھی دیکھ سکیں گے۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق طبی ہنگامی امداد کا مستند مواد صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کی صورت میں صارفین تک پہنچایا جائے گا، اس میں ایسی ویڈیوز کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جو غیر مستند چینلز کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی ہوں گی۔</p>
<p>یوٹیوب نے بتایا کہ صارفین سی پی آر، ہارٹ اٹیک، فالج اور ادویات کے اوور ڈوز جیسے مسائل کی مستند ویڈیوز ترجیحی بنیادوں پر دیکھ اور سرچ کر سکیں گے۔</p>
<p>مذکورہ تبدیلی کو فوری طور پر 10 جنوری سے نافذ کردیا گیا، تاہم متعدد ممالک میں مذکورہ تبدیلی چند ہفتوں بعد ہونا شروع ہوگی اور ابتدائی طور پر صرف انگریزی زبان کی ویڈیوز صارفین کو نظر آئیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1221462</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jan 2024 22:18:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/122053085e02f87.jpg?r=205325" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/122053085e02f87.jpg?r=205325"/>
        <media:title>—فوٹو: یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
