<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 04:29:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 04:29:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افریقی ملک کیپ ورڈی ملیریا فری قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1221528/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ملیریا سے سب سے متاثرہ براعظم افریقہ کے چھوٹے ملک کیپ ورڈی کو ملیریا فری قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپ ورڈی ملیریا فری قرار پانے والا اب تک کا افریقہ کا تیسرا ملک ہے جب کہ مجموعی طور پر وہ بیماری سے پاک 43 ویں ملک بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/who-declares-cape-verde-free-malaria-2024-01-12/"&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کیپ ورڈی کو ملیریا فری قرار دیے جانے اور اس حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تقریب کو براہ راشت نشر کیا گیا اور افریقی ملک کے وزیر اعظم کو سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں کیپ ورڈی ملیریا سمیت مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں سمیت متعدد وائرسز کا شدید شکار رہا ہے، تاہم اس نے سیاحت کو بڑھانے کے لیے ملیریا پر قابو پالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپ ورڈی میں آخری تین سال میں ملیریا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جس بنیاد پر اسے ملیریا فری قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپ ورڈ سے قبل 1973 میں موریشس وہ پہلا افریقی ملک بنا تھا، جسے ملیریا سے فری قرار دیا گیا تھا جب کہ 2019 میں الجزائر کو ملیریا فری قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے 95 فیصد ملیریا کیسز براعظم افریقہ میں رپورٹ ہوتے ہیں جب کہ سب سے زیادہ اموات بھی وہیں ہوتی ہیں، دوسرے نمبر پر ایشیا کا خطہ ہے اور ایشیا کے جنوبی خطے میں ملیریا کیسز سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں اور اسے خطے میں پاکستان بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت 1953 سے اب تک دنیا کے تمام خطوں کے 43 سے زائد ممالک، ریاستوں اور علاقوں کو ملیریا سے پاک قرار دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ملیریا سے سب سے متاثرہ براعظم افریقہ کے چھوٹے ملک کیپ ورڈی کو ملیریا فری قرار دے دیا۔</p>
<p>کیپ ورڈی ملیریا فری قرار پانے والا اب تک کا افریقہ کا تیسرا ملک ہے جب کہ مجموعی طور پر وہ بیماری سے پاک 43 ویں ملک بن گئے۔</p>
<p>خبر رساں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/who-declares-cape-verde-free-malaria-2024-01-12/"><strong>رائٹرز</strong></a> کے مطابق کیپ ورڈی کو ملیریا فری قرار دیے جانے اور اس حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تقریب کو براہ راشت نشر کیا گیا اور افریقی ملک کے وزیر اعظم کو سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔</p>
<p>ماضی میں کیپ ورڈی ملیریا سمیت مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں سمیت متعدد وائرسز کا شدید شکار رہا ہے، تاہم اس نے سیاحت کو بڑھانے کے لیے ملیریا پر قابو پالیا۔</p>
<p>کیپ ورڈی میں آخری تین سال میں ملیریا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جس بنیاد پر اسے ملیریا فری قرار دے دیا گیا۔</p>
<p>کیپ ورڈ سے قبل 1973 میں موریشس وہ پہلا افریقی ملک بنا تھا، جسے ملیریا سے فری قرار دیا گیا تھا جب کہ 2019 میں الجزائر کو ملیریا فری قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے 95 فیصد ملیریا کیسز براعظم افریقہ میں رپورٹ ہوتے ہیں جب کہ سب سے زیادہ اموات بھی وہیں ہوتی ہیں، دوسرے نمبر پر ایشیا کا خطہ ہے اور ایشیا کے جنوبی خطے میں ملیریا کیسز سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں اور اسے خطے میں پاکستان بھی شامل ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت 1953 سے اب تک دنیا کے تمام خطوں کے 43 سے زائد ممالک، ریاستوں اور علاقوں کو ملیریا سے پاک قرار دے چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1221528</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jan 2024 17:56:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/131634335e8093c.jpg?r=163534" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/131634335e8093c.jpg?r=163534"/>
        <media:title>—فوٹو: ڈبلیو ایچ او
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
