<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 04:21:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 04:21:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوشل میڈیا پر عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222013/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر عدلیہ بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق  ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کی روک تھام کے لیے تشکیل کردہ  جے آئی ٹی کا اجلاس وفاقی تحقیقاتی ادارے  (ایف آئی اے) کے اسلام آباد ہیڈکوارٹر  میں منعقد ہوا، اس جے آئی ٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران اجلاس میں سوشل میڈیا پر عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا، حساس اداروں کے افسران نے بھی پلان آف ایکشن سربراہ جے آئی ٹی کو  پیش کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکھٹی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی، ساتھ ہی مواد اپلوڈ، شیئر اور کمنٹ کرنے والوں کی بھی تمام تفصیلات حاصل کرنے کے احکامات دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کی روک تھام کے اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221823"&gt;16 جنوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو عدلیہ مخالف مہم کے خلاف جے آئی ٹی بنائی گئی تھی، اس کا مقصد  ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مذموم مہم میں ملوث ذمہ داران کا تعین کرنا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تجاویز بھی مرتب کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221489/"&gt;چند روز قبل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; طویل سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان نہ دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی اور قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ اور اس کے ججز کے خلاف باقاعدہ مذموم مہم شروع کردی گئی تھی اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے جے آئی ٹی تشکیل دے کر معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوشل میڈیا پر عدلیہ بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق  ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کی روک تھام کے لیے تشکیل کردہ  جے آئی ٹی کا اجلاس وفاقی تحقیقاتی ادارے  (ایف آئی اے) کے اسلام آباد ہیڈکوارٹر  میں منعقد ہوا، اس جے آئی ٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوران اجلاس میں سوشل میڈیا پر عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا، حساس اداروں کے افسران نے بھی پلان آف ایکشن سربراہ جے آئی ٹی کو  پیش کردیا۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکھٹی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی، ساتھ ہی مواد اپلوڈ، شیئر اور کمنٹ کرنے والوں کی بھی تمام تفصیلات حاصل کرنے کے احکامات دیے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کی روک تھام کے اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221823">16 جنوری</a></strong> کو عدلیہ مخالف مہم کے خلاف جے آئی ٹی بنائی گئی تھی، اس کا مقصد  ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مذموم مہم میں ملوث ذمہ داران کا تعین کرنا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تجاویز بھی مرتب کرنا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221489/">چند روز قبل</a></strong> طویل سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان نہ دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>سیاسی اور قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ اور اس کے ججز کے خلاف باقاعدہ مذموم مہم شروع کردی گئی تھی اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے جے آئی ٹی تشکیل دے کر معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222013</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jan 2024 13:39:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار شیرازی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/181315198f43715.jpg?r=131618" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/181315198f43715.jpg?r=131618"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
