<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 11:26:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 11:26:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدت کے دوران نکاح کیس: اسلام آبادہائیکورٹ نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے سے روک دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222116/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے سے روکتے ہوئے خاور مانیکا کو 25 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آباد باد ہائی کورٹ عامر فاروق کیس کی سماعت کی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ  ساری ڈسٹرکٹ جوڈیشری اڈیالہ جیل میں موجود ہے، ‏آج انہوں نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں،  چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏گواہوں کے بیان ریکارڈ کرانے کو روک دیتے ہیں کیس بتائیں ہے کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ عدت کی مدت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،  جس پر چیف جسٹس عامر فاروق  نے استفسار کیا کہ فرض کریں کہ اس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود نہ ہو،  قانون کے مطابق تو نکاح اگر عدت میں ہوا تو وہ بعد میں ریگولرائز ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عامر فاروق  نے سوال اٹھایا کہ اگر نکاح باقاعدہ بھی نہیں ہوتا تو اس میں جرم کیا ہے؟ آپ نے اس درخواست میں کیا چیلنج کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو جاری سمن چیلنج کیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ عمومی طور پر عدت کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے ؟  جس پر سلمان اکرم راجا  نے بتایا کہ عمومی طور پر 90 روز دورانیہ ہوتا ہے لیکن تقی عثمانی صاحب نے اس میں وضاحت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل سلمان اکرم راجا نے مؤقف اپنایا کہ  ان کے بیان کو بھی مان لیا جائے تو 48 دنوں کے بعد نکاح ہوا، اس ججمنٹ کے ہوتے ہوئے کمپلینٹ سرے سے بنتی ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ کونسل زوہیب گوندل  نے بتایا کہ اس میں راجا رضوان عباسی صاحب وکیل ہیں، وہ آجائیں پھر ان کو سن لیا جائے، تب تک اسٹے نہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کیا کہ انہوں نے اپنا کیس بیان کیا ہے آپ اپنا فتوی لے آئیں دیکھ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے سے روکتے ہوئے خاور مانیکا کو 25 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسی روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں مقدمے کی  سماعت کی جس میں وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع سے متعلق آگاہ کیا اور مختصر فیصلہ جمع کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس کی سماعت بغیر کارروائی 29 جنوری تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ چند روز قبل غیر شرعی نکاح کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے سے روکتے ہوئے خاور مانیکا کو 25 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا۔</p>
<p>چیف جسٹس اسلام آباد باد ہائی کورٹ عامر فاروق کیس کی سماعت کی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔</p>
<p>وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ  ساری ڈسٹرکٹ جوڈیشری اڈیالہ جیل میں موجود ہے، ‏آج انہوں نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں،  چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏گواہوں کے بیان ریکارڈ کرانے کو روک دیتے ہیں کیس بتائیں ہے کیا؟</p>
<p>وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ عدت کی مدت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،  جس پر چیف جسٹس عامر فاروق  نے استفسار کیا کہ فرض کریں کہ اس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود نہ ہو،  قانون کے مطابق تو نکاح اگر عدت میں ہوا تو وہ بعد میں ریگولرائز ہو جاتا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس عامر فاروق  نے سوال اٹھایا کہ اگر نکاح باقاعدہ بھی نہیں ہوتا تو اس میں جرم کیا ہے؟ آپ نے اس درخواست میں کیا چیلنج کیا ہے؟</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو جاری سمن چیلنج کیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ عمومی طور پر عدت کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے ؟  جس پر سلمان اکرم راجا  نے بتایا کہ عمومی طور پر 90 روز دورانیہ ہوتا ہے لیکن تقی عثمانی صاحب نے اس میں وضاحت کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وکیل سلمان اکرم راجا نے مؤقف اپنایا کہ  ان کے بیان کو بھی مان لیا جائے تو 48 دنوں کے بعد نکاح ہوا، اس ججمنٹ کے ہوتے ہوئے کمپلینٹ سرے سے بنتی ہی نہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ کونسل زوہیب گوندل  نے بتایا کہ اس میں راجا رضوان عباسی صاحب وکیل ہیں، وہ آجائیں پھر ان کو سن لیا جائے، تب تک اسٹے نہ دیا جائے۔</p>
<p>عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کیا کہ انہوں نے اپنا کیس بیان کیا ہے آپ اپنا فتوی لے آئیں دیکھ لیں گے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے سے روکتے ہوئے خاور مانیکا کو 25 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا۔</p>
<p>بعد ازاں اسی روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں مقدمے کی  سماعت کی جس میں وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع سے متعلق آگاہ کیا اور مختصر فیصلہ جمع کرایا۔</p>
<p>عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس کی سماعت بغیر کارروائی 29 جنوری تک ملتوی کردی۔</p>
<p>خیال رہے کہ چند روز قبل غیر شرعی نکاح کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222116</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jan 2024 18:00:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/191017367e0450e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/191017367e0450e.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو / ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
