<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 04:29:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 04:29:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نصف صدی بعد چاند پر بھیجے جانے والا مشن سمندر میں گر کر تباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222123/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے نصف صدی بعد چاند پر اترنے کے لیے روانہ کیا گیا امریکی مشن  بحر الکاہل میں گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 8 جنوری آسٹرو بائیوٹک ٹیکنالوجی نامی کمپنی کے پیریگرین (Peregrine) لینڈر کو چاند کی جانب روانہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ لینڈنگ کامیاب نہ ہوسکی تھی، لانچ ہونے کے فوری بعد اسپیس کرافٹ کا ایندھن لیک ہونے لگا تھا جس کی وجہ سے خلائی جہاز کا زیادہ دیر تک خلا میں رہنا ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن بھیجنے کا مقصد سائنسی آلات کو چاند پر واقع گروتھوئزن ڈومز کے علاقے تک پہنچانا تھا، مشن میں موجود آلات کا مقصد اہم ریڈنگز کو اکٹھا کرنا ہے جو خطرات کو کم کرنے اور ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے بنیادی کام میں تعاون کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کو جب معلوم ہوا کہ مشن ناکام ہوگیا ہے تو مشن کو چلانے والی کمپنی آسٹرو بائیوٹک  نے خلائی جہاز کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا، بعدازاں خلائی جہاز بحر الکاہل میں گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے ٹریکنگ اسٹیشن نے خلائی جہاز کے سگنل منقطع ہونے کی تصدیق  کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دسمبر 1972 میں انسانوں نے آخری بار اپولو 17 کے ذریعے چاند کا سفر کیا تھا، خلاباز پہلی بار 1969 میں چاند پر اترے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاند پر بھیجے جانے والا یہ مشن 50 سال بعد بھیجا گیا تھا، اس سے قبل تین بار کوشش ناکام ہوچکی ہے، ناسا کے پاس فی الحال ایسا نظام موجود نہیں جو کہ خلابازوں کو چاند کی سطح پر اُتار سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ ہفتے نصف صدی بعد چاند پر اترنے کے لیے روانہ کیا گیا امریکی مشن  بحر الکاہل میں گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 8 جنوری آسٹرو بائیوٹک ٹیکنالوجی نامی کمپنی کے پیریگرین (Peregrine) لینڈر کو چاند کی جانب روانہ کیا تھا۔</p>
<p>تاہم یہ لینڈنگ کامیاب نہ ہوسکی تھی، لانچ ہونے کے فوری بعد اسپیس کرافٹ کا ایندھن لیک ہونے لگا تھا جس کی وجہ سے خلائی جہاز کا زیادہ دیر تک خلا میں رہنا ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ مشن بھیجنے کا مقصد سائنسی آلات کو چاند پر واقع گروتھوئزن ڈومز کے علاقے تک پہنچانا تھا، مشن میں موجود آلات کا مقصد اہم ریڈنگز کو اکٹھا کرنا ہے جو خطرات کو کم کرنے اور ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے بنیادی کام میں تعاون کر سکتے ہیں۔</p>
<p>سائنسدانوں کو جب معلوم ہوا کہ مشن ناکام ہوگیا ہے تو مشن کو چلانے والی کمپنی آسٹرو بائیوٹک  نے خلائی جہاز کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا، بعدازاں خلائی جہاز بحر الکاہل میں گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے ٹریکنگ اسٹیشن نے خلائی جہاز کے سگنل منقطع ہونے کی تصدیق  کی تھی۔</p>
<p>یاد رہے کہ دسمبر 1972 میں انسانوں نے آخری بار اپولو 17 کے ذریعے چاند کا سفر کیا تھا، خلاباز پہلی بار 1969 میں چاند پر اترے تھے۔</p>
<p>چاند پر بھیجے جانے والا یہ مشن 50 سال بعد بھیجا گیا تھا، اس سے قبل تین بار کوشش ناکام ہوچکی ہے، ناسا کے پاس فی الحال ایسا نظام موجود نہیں جو کہ خلابازوں کو چاند کی سطح پر اُتار سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222123</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jan 2024 11:54:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/191154075acf3ec.jpg?r=115422" type="image/jpeg" medium="image" height="498" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/191154075acf3ec.jpg?r=115422"/>
        <media:title>فوٹو: آسٹرو بائیوٹک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
