<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:51:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:51:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں صنفی تفریق، خواتین کی آمدنی مردوں کی نسبت 18 فیصد کم‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222127/</link>
      <description>&lt;p&gt;جرمن نشریاتی ادارے ’ڈی ڈبلیو‘ نے ادارہ برائے شماریات کے اعداوشمار کے حوالے سے بتایا  ہے کہ جرمنی میں مردوں کی نسبت خواتین کی کمائی اوسطا18 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اے پی پی‘ کی خبر کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں گزشتہ سال خواتین کی آمدن مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 18 فیصد کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں صنفی تنخواہوں کا فرق 2020 سے بدستور برقرار ہے تاہم مردوں اور عورتوں کی کمائی میں فرق کی موجودہ شرح 2006 کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ سال تھا جب جرمنی صنفی بنیادوں پر کمائی میں فرق کو ریکارڈ کیا جانا شروع کیا گیا،
جرمنی میں 2006 سے صنفی بنیاد پر آمدنی میں فرق کو ریکارڈ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1093711"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے کہا کہ خواتین کی کمائی 30 سال کی عمر سے رکنا شروع ہو جاتی ہے، یہ جرمنی میں خواتین کی اپنے پہلے بچے کو جنم دینے کی اوسط عمر ہے جبکہ مرد اس دوران پیسے کمانا جاری رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات نے کہا کہ فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین کو پیشہ وارانہ زندگی کے دوران خاندانی وجوہات کی بنا پر  اپنے کیریئر میں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ پارٹ ٹائم کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق گزشتہ برس مردوں کے 25.30 یورو کے مقابلے میں خواتین نے اوسطاً 20.84 یورو فی گھنٹہ کمایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی کی اعلیٰ ترین کمپنیوں کی سربراہی کرنے والی خواتین کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جرمن نشریاتی ادارے ’ڈی ڈبلیو‘ نے ادارہ برائے شماریات کے اعداوشمار کے حوالے سے بتایا  ہے کہ جرمنی میں مردوں کی نسبت خواتین کی کمائی اوسطا18 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>’اے پی پی‘ کی خبر کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں گزشتہ سال خواتین کی آمدن مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 18 فیصد کم رہی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں صنفی تنخواہوں کا فرق 2020 سے بدستور برقرار ہے تاہم مردوں اور عورتوں کی کمائی میں فرق کی موجودہ شرح 2006 کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہے۔</p>
<p>یہ وہ سال تھا جب جرمنی صنفی بنیادوں پر کمائی میں فرق کو ریکارڈ کیا جانا شروع کیا گیا،
جرمنی میں 2006 سے صنفی بنیاد پر آمدنی میں فرق کو ریکارڈ کیا جارہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1093711"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ادارے نے کہا کہ خواتین کی کمائی 30 سال کی عمر سے رکنا شروع ہو جاتی ہے، یہ جرمنی میں خواتین کی اپنے پہلے بچے کو جنم دینے کی اوسط عمر ہے جبکہ مرد اس دوران پیسے کمانا جاری رکھتے ہیں۔</p>
<p>ادارہ شماریات نے کہا کہ فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین کو پیشہ وارانہ زندگی کے دوران خاندانی وجوہات کی بنا پر  اپنے کیریئر میں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ پارٹ ٹائم کام کرتی ہیں۔</p>
<p>ادارے کے مطابق گزشتہ برس مردوں کے 25.30 یورو کے مقابلے میں خواتین نے اوسطاً 20.84 یورو فی گھنٹہ کمایا۔</p>
<p>ادارہ شماریات نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی کی اعلیٰ ترین کمپنیوں کی سربراہی کرنے والی خواتین کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222127</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jan 2024 16:06:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/19155734f722814.jpg?r=155747" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/19155734f722814.jpg?r=155747"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/191554071f9d995.jpg?r=160747" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/191554071f9d995.jpg?r=160747"/>
        <media:title>خواتین کی کمائی 30 سال کی عمر سے رکنا شروع ہو جاتی ہے، یہ جرمنی میں خواتین کی اپنے پہلے بچے کو جنم دینے کی اوسط عمر ہے—فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
