<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:17:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:17:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سکھ علیحدگی پسند کے قتل کی سازش، جمہوریہ چیک کا بھارتی شخص کی امریکا حوالگی کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222180/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمہوریہ چیک کی عدالت نے امریکی سرزمین پر سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے بھارتی شخص کو امریکا کو حوالے کرنے کے حق میں فیصلہ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جمہوریہ چیک کی وزارت انصاف نے بتایا کہ ایک اپیل کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ جمہوریہ چیک قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کو امریکا کے حوالے کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت انصاف کے ترجمان نے بتایا کہ جب فیصلہ تمام فریقین کے سپرد کیا جائے گا تو 52 سالہ نکھل گپتا کی حوالگی کا حتمی فیصلہ وزیر انصاف پاول بلیزیک کے ہاتھ میں ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216982"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نکھل گپتا پر امریکی استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ وہ ایک بھارتی حکومت کے اہلکار کے ساتھ مل کر نیویارک شہر کے ایک رہائشی کو قتل کرنے کی سازش پر کام کر رہا تھا جو بھارت میں ایک خودمختار سکھ ریاست کے قیام کا حامی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نکھل گپتا کو جمہوریہ چیک کے حکام نے گزشتہ سال جون میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ہندوستان سے پراگ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں نکھل گپتا نے کیس کو سیاسی قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ ان کی غلط شناخت کی گئی ہے اور وہ، وہ شخص نہیں جس کی امریکا کو تلاش ہے کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت انصاف کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وزیر کب تک فیصلہ سنائیں گے اور اس دوران نکھل گپتا سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حوالگی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ وزیر کے پاس نچلی عدالت کے فیصلوں پر شک کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراگ ہائی کورٹ نے زیریں عدالت کے دسمبر کے فیصلے کے خلاف نکھل گپتا کی اپیل مسترد کر دی جہاں اس عدالت نے بھی حوالگی کی اجازت دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمہوریہ چیک کی عدالت نے امریکی سرزمین پر سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے بھارتی شخص کو امریکا کو حوالے کرنے کے حق میں فیصلہ دے دیا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جمہوریہ چیک کی وزارت انصاف نے بتایا کہ ایک اپیل کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ جمہوریہ چیک قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کو امریکا کے حوالے کر سکتا ہے۔</p>
<p>وزارت انصاف کے ترجمان نے بتایا کہ جب فیصلہ تمام فریقین کے سپرد کیا جائے گا تو 52 سالہ نکھل گپتا کی حوالگی کا حتمی فیصلہ وزیر انصاف پاول بلیزیک کے ہاتھ میں ہو گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216982"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نکھل گپتا پر امریکی استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ وہ ایک بھارتی حکومت کے اہلکار کے ساتھ مل کر نیویارک شہر کے ایک رہائشی کو قتل کرنے کی سازش پر کام کر رہا تھا جو بھارت میں ایک خودمختار سکھ ریاست کے قیام کا حامی ہے۔</p>
<p>نکھل گپتا کو جمہوریہ چیک کے حکام نے گزشتہ سال جون میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ہندوستان سے پراگ گئے تھے۔</p>
<p>عدالت میں نکھل گپتا نے کیس کو سیاسی قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ ان کی غلط شناخت کی گئی ہے اور وہ، وہ شخص نہیں جس کی امریکا کو تلاش ہے کر رہا تھا۔</p>
<p>وزارت انصاف کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وزیر کب تک فیصلہ سنائیں گے اور اس دوران نکھل گپتا سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حوالگی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ وزیر کے پاس نچلی عدالت کے فیصلوں پر شک کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔</p>
<p>پراگ ہائی کورٹ نے زیریں عدالت کے دسمبر کے فیصلے کے خلاف نکھل گپتا کی اپیل مسترد کر دی جہاں اس عدالت نے بھی حوالگی کی اجازت دے دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222180</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Jan 2024 20:41:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/19203643fc0e7b8.jpg?r=204034" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/19203643fc0e7b8.jpg?r=204034"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
