<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 07:41:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 07:41:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی طیارہ افغانستان میں گر کر تباہ، 4 افراد زندہ بچنے میں کامیاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222319/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہوائی نقل و حمل کی ایجنسی روزاویتسیا نے بتایا ہے کہ پہاڑی شمال مشرقی افغانستان میں روسی طیارہ گرنے کے بعد 4 افراد زندہ بچ گئے جبکہ 2 لاپتا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق فالکن 10 بزنس طیارے کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ہسپتال کی پرواز میں چھ افراد کو لے کر بھارت سے ازبکستان اور روس جارہا تھا تاہم ہفتہ کی شام اس سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں روسی سفارتخانے کا حوالہ دیتے ہوئے روزاویتسیا نے کہا کہ ’طیارے پر سوار چھ افراد میں سے چار زندہ بچ گئے ہیں جنہیں گہرے زخم آئے ہیں جبکہ دو کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر آئی اے نووستی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو مسافر روسی تھے، خاتون شدید بیمار تھیں اور دوسرے ان کے شوہر تھے جنہوں نے پرواز کے لیے ادائیگی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو انجنوں والا یہ طیارہ فرانس کی ڈسالٹ کمپنی نے 1978 میں بنایا تھا اور اس کی ملکیت ایتھلیٹک گروپ نامی کمپنی اور ایک نجی فرد کے پاس تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں صوبائی حکومت کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ طیارہ بدخشاں صوبے میں گرا جس کی سرحد چین، تاجکستان اور پاکستان سے ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی محکمہ اطلاعات کے سربراہ ذبیح اللہ امیری نے بتایا کہ حادثے کا علاقہ صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے سڑک کے ذریعے آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی تفتیش کاروں نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاقتور ہندوکش پہاڑی سلسلہ صوبے کو کاٹتا ہے، جو افغانستان کی بلند ترین چوٹی کوہ نوشق کا گھر ہے، جس کی اونچائی 7 ہزار 492 میٹر (24 ہزار 580 فٹ) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TOLOnews/status/1748967708723716396"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہوائی نقل و حمل کی ایجنسی روزاویتسیا نے بتایا ہے کہ پہاڑی شمال مشرقی افغانستان میں روسی طیارہ گرنے کے بعد 4 افراد زندہ بچ گئے جبکہ 2 لاپتا ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق فالکن 10 بزنس طیارے کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ہسپتال کی پرواز میں چھ افراد کو لے کر بھارت سے ازبکستان اور روس جارہا تھا تاہم ہفتہ کی شام اس سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔</p>
<p>افغانستان میں روسی سفارتخانے کا حوالہ دیتے ہوئے روزاویتسیا نے کہا کہ ’طیارے پر سوار چھ افراد میں سے چار زندہ بچ گئے ہیں جنہیں گہرے زخم آئے ہیں جبکہ دو کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی ہے‘۔</p>
<p>آر آئی اے نووستی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو مسافر روسی تھے، خاتون شدید بیمار تھیں اور دوسرے ان کے شوہر تھے جنہوں نے پرواز کے لیے ادائیگی کی تھی۔</p>
<p>دو انجنوں والا یہ طیارہ فرانس کی ڈسالٹ کمپنی نے 1978 میں بنایا تھا اور اس کی ملکیت ایتھلیٹک گروپ نامی کمپنی اور ایک نجی فرد کے پاس تھی۔</p>
<p>افغانستان میں صوبائی حکومت کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ طیارہ بدخشاں صوبے میں گرا جس کی سرحد چین، تاجکستان اور پاکستان سے ملتی ہے۔</p>
<p>صوبائی محکمہ اطلاعات کے سربراہ ذبیح اللہ امیری نے بتایا کہ حادثے کا علاقہ صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے سڑک کے ذریعے آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔</p>
<p>روسی تفتیش کاروں نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>طاقتور ہندوکش پہاڑی سلسلہ صوبے کو کاٹتا ہے، جو افغانستان کی بلند ترین چوٹی کوہ نوشق کا گھر ہے، جس کی اونچائی 7 ہزار 492 میٹر (24 ہزار 580 فٹ) ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TOLOnews/status/1748967708723716396"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222319</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jan 2024 20:57:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/21122957210ea89.jpg?r=133707" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/21122957210ea89.jpg?r=133707"/>
        <media:title>بھارت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ لاپتا ہونے والا طیارہ شیڈول کمرشل فلائیٹ یا بھارتی چارٹرڈ طیارہ نہیں تھا—فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
