<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:28:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:28:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاہد خاقان کی ای سی ایل سے نام خارج کرنے کی درخواست پر نیب سے جواب طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222377/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام خارج کرنے کی درخواست پر  سندھ ہائی کورٹ نے نیب اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ڈان نیوز‘ کے مطابق  شاہدخاقان عباسی کی ای سی ایل سے نام خارج کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران نیب اور دیگر  متعلقہ حکام سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ سے درخواست جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہدخاقان عباسی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر سابق ایم ڈی پی ایس او کی غیرقانونی تعیناتی کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے نیب حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت انتیس جنوری تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے قومی احتساب بیورو(نیب) کی درخواست پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت 7 افراد کا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ مذکورہ افراد قومی خزانے کو نقصان پہنچانے، اختیارات کا غلط استعمال کرنے، غیر قانونی اور کرپشن کے طریقوں کو استعمال کرنے اور 36 ارب 96 کروڑ 90 لاکھ روپے کے کیس میں ملوث ہیں جس پر ان کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1102160"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف اس اسکینڈل کی انکوائری کی منظوری 6 جون 2018 میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے خلاف من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کا الزام ہے اور اسی سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیقات کے سلسلے میں شاہد خاقان عباسی کئی مرتبہ نیب میں پیش ہوچکے ہیں، جہاں انہیں 75 سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھی دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام خارج کرنے کی درخواست پر  سندھ ہائی کورٹ نے نیب اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔</p>
<p>’ڈان نیوز‘ کے مطابق  شاہدخاقان عباسی کی ای سی ایل سے نام خارج کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران نیب اور دیگر  متعلقہ حکام سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔</p>
<p>نیب کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ سے درخواست جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی۔</p>
<p>شاہدخاقان عباسی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر سابق ایم ڈی پی ایس او کی غیرقانونی تعیناتی کا الزام ہے۔</p>
<p>عدالت نے نیب حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت انتیس جنوری تک ملتوی کردی۔</p>
<p>واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے قومی احتساب بیورو(نیب) کی درخواست پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت 7 افراد کا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا تھا۔</p>
<p>نیب کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ مذکورہ افراد قومی خزانے کو نقصان پہنچانے، اختیارات کا غلط استعمال کرنے، غیر قانونی اور کرپشن کے طریقوں کو استعمال کرنے اور 36 ارب 96 کروڑ 90 لاکھ روپے کے کیس میں ملوث ہیں جس پر ان کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1102160"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف اس اسکینڈل کی انکوائری کی منظوری 6 جون 2018 میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دی تھی۔</p>
<p>نیب کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے خلاف من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کا الزام ہے اور اسی سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>اس تحقیقات کے سلسلے میں شاہد خاقان عباسی کئی مرتبہ نیب میں پیش ہوچکے ہیں، جہاں انہیں 75 سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھی دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222377</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jan 2024 16:15:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/221122359c8ffda.jpg?r=125427" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/221122359c8ffda.jpg?r=125427"/>
        <media:title>شاہدخاقان عباسی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر سابق ایم ڈی پی ایس او کی غیرقانونی تعیناتی کا الزام ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
