<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:22:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:22:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کوئی ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہے‘، عالمی عدالت کے فیصلے پر فلسطین و دیگر کا ردعمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222864/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کو روکے اور شہریوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرے تاہم اپنے فیصلے میں عدالت نے جنوبی افریقہ کی درخواست کے برعکس جنگ بندی کا حکم دینے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق عالمی عدالت کے اس فیصلے میں جنگ بندی کا ذکر نہ ہونے سے جہاں فلسطینیوں کو مایوسی ہوئی وہیں یہ اسرائیل کے لیے بھی قانونی طور پر بڑا دھچکا ہے جسے امید تھی کہ نسل کشی کے کنونشن کے تحت لائے گئے اس کیس کو برطرف کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ فلسطینیوں کو کنونشن کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس بارے میں مقدمہ سنا جائے گا کہ آیا اس لڑائی میں ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس میں بڑے پیمانے پر انسانی نقصان ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1222864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فلسطینی گروپوں سے 7 اکتوبر کے حملوں میں گرفتار کیے گئے یرغمالیوں کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کا جہاں فلسطین اور جنوبی افریقہ کے حکام نے خیر مقدم کیا وہیں اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اس فیصلے کو اسرائیل کے حق میں قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmofa/status/1750870931000447326/history"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کوئی ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ایک سینئر عہدیدار سامی ابو زہری نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ غزہ میں قبضے کے خاتمے اور اسرائیلی جرائم کو بے نقاب کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IsraeliPM/status/1750872237811388734"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ عدالت نے اسرائیل کو سیز فائر کا حکم دینے اور اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے اشتعال انگیز مطالبے کو مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، نہ صرف غلط بلکہ اشتعال انگیز ہے اور عدالت کی اس معاملے پر بحث پر آمادگی ایک ایسی رسوائی ہے جسے نسلوں تک مٹایا نہیں جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنوبی افریقی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی افریقہ کو پوری امید ہے کہ اسرائیل اس حکم نامے کے اطلاق کے حوالے سے مایوس نہیں کرے گا بلکہ وہ اس کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے اس پر عمل کرے گا کیونکہ وہ اس کا پابند بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SaulStaniforth/status/1750874360724836440"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی تعلقات کی وزیر نے کہا کہ اگر اسرائیل عالمی عدالت کے احکامات پر عمل کرنا چاہتا ہے تو اسے محصور غزہ کی پٹی میں لڑائی روکنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نیلیڈی پنڈور نے کہا کہ آپ جنگ بندی کے بغیر امداد اور پانی کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟ اگر آپ حکم کو پڑھتے ہیں تو اس سے اصل معنی یہی اخذ ہوتے ہیں کہ جنگ بندی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کو روکے اور شہریوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرے تاہم اپنے فیصلے میں عدالت نے جنوبی افریقہ کی درخواست کے برعکس جنگ بندی کا حکم دینے سے گریز کیا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق عالمی عدالت کے اس فیصلے میں جنگ بندی کا ذکر نہ ہونے سے جہاں فلسطینیوں کو مایوسی ہوئی وہیں یہ اسرائیل کے لیے بھی قانونی طور پر بڑا دھچکا ہے جسے امید تھی کہ نسل کشی کے کنونشن کے تحت لائے گئے اس کیس کو برطرف کردیا جائے گا۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ فلسطینیوں کو کنونشن کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس بارے میں مقدمہ سنا جائے گا کہ آیا اس لڑائی میں ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس میں بڑے پیمانے پر انسانی نقصان ہو رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1222864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے فلسطینی گروپوں سے 7 اکتوبر کے حملوں میں گرفتار کیے گئے یرغمالیوں کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔</p>
<p>اس فیصلے کا جہاں فلسطین اور جنوبی افریقہ کے حکام نے خیر مقدم کیا وہیں اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اس فیصلے کو اسرائیل کے حق میں قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmofa/status/1750870931000447326/history"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کوئی ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہے۔</p>
<p>حماس کے ایک سینئر عہدیدار سامی ابو زہری نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ غزہ میں قبضے کے خاتمے اور اسرائیلی جرائم کو بے نقاب کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IsraeliPM/status/1750872237811388734"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ عدالت نے اسرائیل کو سیز فائر کا حکم دینے اور اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے اشتعال انگیز مطالبے کو مسترد کر دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، نہ صرف غلط بلکہ اشتعال انگیز ہے اور عدالت کی اس معاملے پر بحث پر آمادگی ایک ایسی رسوائی ہے جسے نسلوں تک مٹایا نہیں جا سکے گا۔</p>
<p>دوسری جانب جنوبی افریقی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی افریقہ کو پوری امید ہے کہ اسرائیل اس حکم نامے کے اطلاق کے حوالے سے مایوس نہیں کرے گا بلکہ وہ اس کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے اس پر عمل کرے گا کیونکہ وہ اس کا پابند بھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SaulStaniforth/status/1750874360724836440"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی تعلقات کی وزیر نے کہا کہ اگر اسرائیل عالمی عدالت کے احکامات پر عمل کرنا چاہتا ہے تو اسے محصور غزہ کی پٹی میں لڑائی روکنی ہوگی۔</p>
<p>وزیر نیلیڈی پنڈور نے کہا کہ آپ جنگ بندی کے بغیر امداد اور پانی کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟ اگر آپ حکم کو پڑھتے ہیں تو اس سے اصل معنی یہی اخذ ہوتے ہیں کہ جنگ بندی ہونی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222864</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jan 2024 22:14:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/26223251f31c9a4.jpg?r=223301" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/26223251f31c9a4.jpg?r=223301"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
