<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:21:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:21:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: نااہلی کی مدت 5 سال کرنے کےخلاف الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1223073/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمان میں تاحیات نااہلی کی مدت کو 5 سال کرنے کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پارلیمان میں تاحیات نااہلی کی مدت کو 5 سال کرنے کے خلاف  اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر جسٹس شاہد بلال حسن نے سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان نے تاحیات نااہلی کے قانون کو 5 سال کرکے ترمیم کی ہے، رولز کے مطابق تاحیات نااہلی کے قانون میں پارلیمان مخصوص ممبران کے ذریعے ترمیم نہیں کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221292"&gt;11 جنوری 2024&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو نااہلی کی مدت 5 سال کرنے کے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس اراکین پارلیمان کی نااہلی کو سابقہ اثر کے ساتھ 5 سال تک محدود کرنے کا بل سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1206563"&gt;26 جون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221004"&gt;8 جنوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی ختم کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہوگی اور آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت سیاستدانوں کی نااہلی کی مدت 5 سال ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ جہانگیر ترین 8 فروری کو الیکشن لڑنے کے اہل ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمان میں تاحیات نااہلی کی مدت کو 5 سال کرنے کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پارلیمان میں تاحیات نااہلی کی مدت کو 5 سال کرنے کے خلاف  اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر جسٹس شاہد بلال حسن نے سماعت کی۔</p>
<p>درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان نے تاحیات نااہلی کے قانون کو 5 سال کرکے ترمیم کی ہے، رولز کے مطابق تاحیات نااہلی کے قانون میں پارلیمان مخصوص ممبران کے ذریعے ترمیم نہیں کرسکتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221292">11 جنوری 2024</a></strong> کو نااہلی کی مدت 5 سال کرنے کے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ برس اراکین پارلیمان کی نااہلی کو سابقہ اثر کے ساتھ 5 سال تک محدود کرنے کا بل سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1206563">26 جون</a></strong> کو قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوگیا تھا۔</p>
<p>رواں برس <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1221004">8 جنوری</a></strong> کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی ختم کردی تھی۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہوگی اور آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت سیاستدانوں کی نااہلی کی مدت 5 سال ہوگی۔</p>
<p>فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ جہانگیر ترین 8 فروری کو الیکشن لڑنے کے اہل ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1223073</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jan 2024 15:02:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکرانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/2915002442ae00e.jpg?r=150056" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/2915002442ae00e.jpg?r=150056"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: ہائی کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
