<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:07:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:07:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا کا بجلی 5 روپے 62 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1223269/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دسمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 5 روپے 62 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر  فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق نیپرا میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی دسمبر 2023 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 5 روپے 62 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت بتایا گیا کہ سی پی پی اے نے 5 ارب روپے سے زائد کی سابقہ ایڈجسٹمنٹس مانگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت ممبر نیپرا مطہر نیاز رانا کا کہنا تھا کہ جوہری ایندھن کی ری فیولنگ سے ایٹمی بجلی کم پیدا کی گئی، ممبر نیپرا رفیق شیخ نے دریافت کہ میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی اور سسٹم کی مشکلات سے کتنا بوجھ پڑا ؟ یہ سسٹم کب تک چلتا رہے گا؟ اس پر کیا پلان ہے یا ہم اسے ہی بیچتے رہیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218120"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے مسائل چل رہے ہیں، یہ حل کب تک ہوں گے؟ کیا اداروں کے پاس کوئی حل ہے؟ رواں ماہ بھی بجلی کی ترسیل کے حوالے سے تین دفعہ مسئلہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ آج جو قیمت بڑھانے جارہے ہیں اس سے انڈسٹری کتنی بیٹھ جائے گی  نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) کے پاس اس کا کوئی پلان ہی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ ماہ بجلی کی کھپت میں 10 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ نیپرا حکام نے بتایا کہ انڈسٹری کی جانب سے کھپت میں 13 فیصد تک کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبر نیپرا مقصود انور کا کہنا تھا کہ اگر ترسیل کا نظام بہتر نہیں کیا گیا تو ماہانہ ایڈجسٹمنٹس بڑھتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں نیپرا نے این ٹی ڈی سی سے سسٹم کی بہتری کےحوالے سے آئندہ 3 سال کا واضح پلان مانگتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا،  نیپرا ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد تفصیلی فیصلہ اور نوٹیفکیشن جاری کرے گا، درخواست پر من و عن اضافے سے بجلی صارفین پر تقریباً 49 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1806231"&gt;15 جنوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو  سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دسمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 5 روپے 62 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر  فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق نیپرا میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی دسمبر 2023 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 5 روپے 62 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت بتایا گیا کہ سی پی پی اے نے 5 ارب روپے سے زائد کی سابقہ ایڈجسٹمنٹس مانگی ہیں۔</p>
<p>دوران سماعت ممبر نیپرا مطہر نیاز رانا کا کہنا تھا کہ جوہری ایندھن کی ری فیولنگ سے ایٹمی بجلی کم پیدا کی گئی، ممبر نیپرا رفیق شیخ نے دریافت کہ میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی اور سسٹم کی مشکلات سے کتنا بوجھ پڑا ؟ یہ سسٹم کب تک چلتا رہے گا؟ اس پر کیا پلان ہے یا ہم اسے ہی بیچتے رہیں گے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218120"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے مسائل چل رہے ہیں، یہ حل کب تک ہوں گے؟ کیا اداروں کے پاس کوئی حل ہے؟ رواں ماہ بھی بجلی کی ترسیل کے حوالے سے تین دفعہ مسئلہ ہوا تھا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ آج جو قیمت بڑھانے جارہے ہیں اس سے انڈسٹری کتنی بیٹھ جائے گی  نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) کے پاس اس کا کوئی پلان ہی نہیں ہے۔</p>
<p>سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ ماہ بجلی کی کھپت میں 10 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ نیپرا حکام نے بتایا کہ انڈسٹری کی جانب سے کھپت میں 13 فیصد تک کمی ہوئی۔</p>
<p>ممبر نیپرا مقصود انور کا کہنا تھا کہ اگر ترسیل کا نظام بہتر نہیں کیا گیا تو ماہانہ ایڈجسٹمنٹس بڑھتی جائے گی۔</p>
<p>بعد ازاں نیپرا نے این ٹی ڈی سی سے سسٹم کی بہتری کےحوالے سے آئندہ 3 سال کا واضح پلان مانگتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا،  نیپرا ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد تفصیلی فیصلہ اور نوٹیفکیشن جاری کرے گا، درخواست پر من و عن اضافے سے بجلی صارفین پر تقریباً 49 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1806231">15 جنوری</a></strong> کو  سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی درخواست دائر کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1223269</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Jan 2024 15:14:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/311509428399763.jpg?r=151342" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/311509428399763.jpg?r=151342"/>
        <media:title>ممبر نیپرا مقصود انور کا کہنا تھا کہ اگر ترسیل کا نظام بہتر نہیں کیا گیا تو ماہانہ ایڈجسٹمنٹس بڑھتی جائے گی۔—فائل فوٹو: کے ای/فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
