<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 11:30:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 11:30:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل میپ میں اے آئی ٹولز کا استعمال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1223632/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کے استعمال کی آزمائش شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blog.google/products/maps/google-maps-generative-ai-local-guides/"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا کہ ابتدائی طور پر اے آئی ٹولز کی آزمائش صرف امریکا میں کی جا رہی ہے اور مذکورہ ٹولز تک محدود ٹوئر گائیڈز کو دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ اے آئی فیچرز کے تحت گوگل میپس میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اب جیسے ہی کوئی صارف میپس میں کسی بھی شہر میں کسی خاص مقام یا موضوع سے متعلق معلومات جاننے کی کوشش کرے گا تو میپ اسے مطلوبہ معلومات فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209919"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی اگر کوئی بھی انجان شخص کراچی آنے کے بعد میپ پر شہر کی تاریخی عمارتوں سے متعلق معلومات تلاش کرے گا تو اے آئی ٹولز کے ذریعے میپ صارف کو شہر کی تمام تاریخی عمارتوں کی لوکیشن، معلومات اور تصاویر دکھائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کوئی بھی شخص پارکس، شاپنگ پلازہ یا اسی طرح کے دیگر مقامات سے متعلق معلومات تلاش کرے گا تو اسے گوگل میپ تصاویر اور لوگوں کے تبصروں سمیت تمام متعلقہ معلومات فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی نہیں بلکہ مذکورہ فیچر کے تحت صارف کسی بھی عمارت، مقام یا لوکیشن سے متعلق مزید اضافی معلومات پوچھنا چاہے گا تو بھی اسے مزید معلومات سوال و جوابات کی صورت میں فراہم کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو چند منٹوں میں بیٹھے بیٹھے کسی بھی شہر کی عمارتوں، مقامات اور لوکیشنز سے متعلق معلومات حاصل ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کی امریکا میں کامیاب آزمائش کے بعد اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر رواں برس کے اختتام تک اسے دنیا بھر میں عام صارفین کے لیے بھی پیش کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کے استعمال کی آزمائش شروع کردی۔</p>
<p>گوگل نے اپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blog.google/products/maps/google-maps-generative-ai-local-guides/"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں بتایا کہ ابتدائی طور پر اے آئی ٹولز کی آزمائش صرف امریکا میں کی جا رہی ہے اور مذکورہ ٹولز تک محدود ٹوئر گائیڈز کو دی گئی ہے۔</p>
<p>مذکورہ اے آئی فیچرز کے تحت گوگل میپس میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اب جیسے ہی کوئی صارف میپس میں کسی بھی شہر میں کسی خاص مقام یا موضوع سے متعلق معلومات جاننے کی کوشش کرے گا تو میپ اسے مطلوبہ معلومات فراہم کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209919"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یعنی اگر کوئی بھی انجان شخص کراچی آنے کے بعد میپ پر شہر کی تاریخی عمارتوں سے متعلق معلومات تلاش کرے گا تو اے آئی ٹولز کے ذریعے میپ صارف کو شہر کی تمام تاریخی عمارتوں کی لوکیشن، معلومات اور تصاویر دکھائے گا۔</p>
<p>اسی طرح کوئی بھی شخص پارکس، شاپنگ پلازہ یا اسی طرح کے دیگر مقامات سے متعلق معلومات تلاش کرے گا تو اسے گوگل میپ تصاویر اور لوگوں کے تبصروں سمیت تمام متعلقہ معلومات فراہم کرے گا۔</p>
<p>یہی نہیں بلکہ مذکورہ فیچر کے تحت صارف کسی بھی عمارت، مقام یا لوکیشن سے متعلق مزید اضافی معلومات پوچھنا چاہے گا تو بھی اسے مزید معلومات سوال و جوابات کی صورت میں فراہم کردی جائے گی۔</p>
<p>مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو چند منٹوں میں بیٹھے بیٹھے کسی بھی شہر کی عمارتوں، مقامات اور لوکیشنز سے متعلق معلومات حاصل ہو سکے گی۔</p>
<p>مذکورہ فیچر کی امریکا میں کامیاب آزمائش کے بعد اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر رواں برس کے اختتام تک اسے دنیا بھر میں عام صارفین کے لیے بھی پیش کردیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1223632</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Feb 2024 21:25:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/032105056d1b153.jpg?r=210529" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/032105056d1b153.jpg?r=210529"/>
        <media:title>—فوٹو: گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
