<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 21:22:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 21:22:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے-الیکٹرک قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی کی پیداوار بڑھانے میں ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1223955/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور پلانٹس کی کارکردگی جائزہ رپورٹ 23-2022 میں انکشاف کیا ہے کہ کے-الیکٹرک قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی کی پیداوار بڑھانے میں تاحال ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ڈان نیوز‘ کے مطابق نیپرا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کا مہنگی بجلی کی پیداوار پر مسلسل انحصار اور اصرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں قابل تجدید توانائی سے کے-الیکٹرک کی پیداوار غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں کے-الیکڑک کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے، کے-الیکڑک کی قابل تجدید توانائی سے پیداوار صرف 2.4 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے-الیکڑک کو بارہا قابل تجدید توانائی والے  پلانٹس کی تعمیر اور جنریشن مکس بہترکرکے پیداواری لاگت کم کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے-الیکڑک اپنے سسٹم میں ’ٹپال‘ اور ’گل احمد‘ جیسے مہنگے پاور پلانٹس شامل کرنے پر اصرار کرتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نیپرا کی جانب سے پاور پلانٹس کی کارکردگی جائزہ رپورٹ 23-2022 کی گزشتہ روز سامنے آنے والی تفصیلات میں گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگے ذرائع سے سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا انکشاف کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال متبادل ذرائع سے 4 فیصد اور جوہری ایندھن سے 20 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف وجوہات کی بنا پر پن بجلی پاور پلانٹس سے پیداوار انتہائی کم رہی اور پانی سے صرف 18 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ تھرمل ذرائع سے 58 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی کے اخراج کی ناقص حکمت عملی سے پن بجلی کی پیداوار کم رہی اور ونڈ پاور پلانٹس کی دستیابی کا دورانیہ 82 سے 100 فیصد تک رہا، جبکہ سولر پاور پلانٹس کی دستیابی کا دورانیہ 49.3 سے 98.7 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور پلانٹس کی کارکردگی جائزہ رپورٹ 23-2022 میں انکشاف کیا ہے کہ کے-الیکٹرک قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی کی پیداوار بڑھانے میں تاحال ناکام ہے۔</p>
<p>’ڈان نیوز‘ کے مطابق نیپرا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کا مہنگی بجلی کی پیداوار پر مسلسل انحصار اور اصرار ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں قابل تجدید توانائی سے کے-الیکٹرک کی پیداوار غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں کے-الیکڑک کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے، کے-الیکڑک کی قابل تجدید توانائی سے پیداوار صرف 2.4 فیصد رہی۔</p>
<p>نیپرا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے-الیکڑک کو بارہا قابل تجدید توانائی والے  پلانٹس کی تعمیر اور جنریشن مکس بہترکرکے پیداواری لاگت کم کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے-الیکڑک اپنے سسٹم میں ’ٹپال‘ اور ’گل احمد‘ جیسے مہنگے پاور پلانٹس شامل کرنے پر اصرار کرتی رہی۔</p>
<p>واضح رہے کہ نیپرا کی جانب سے پاور پلانٹس کی کارکردگی جائزہ رپورٹ 23-2022 کی گزشتہ روز سامنے آنے والی تفصیلات میں گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگے ذرائع سے سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا انکشاف کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال متبادل ذرائع سے 4 فیصد اور جوہری ایندھن سے 20 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔</p>
<p>مختلف وجوہات کی بنا پر پن بجلی پاور پلانٹس سے پیداوار انتہائی کم رہی اور پانی سے صرف 18 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ تھرمل ذرائع سے 58 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی کے اخراج کی ناقص حکمت عملی سے پن بجلی کی پیداوار کم رہی اور ونڈ پاور پلانٹس کی دستیابی کا دورانیہ 82 سے 100 فیصد تک رہا، جبکہ سولر پاور پلانٹس کی دستیابی کا دورانیہ 49.3 سے 98.7 فیصد رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1223955</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Feb 2024 11:47:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/07113703516650d.jpg?r=113710" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/07113703516650d.jpg?r=113710"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
