<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 23:59:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 23:59:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ نواز شریف اقتدار میں آئیں، بھارتی میڈیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1224294/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی میڈیا نے اپنے تبصروں میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ اس بار نواز شریف اقتدار میں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://azureserv.com/world-news/what-does-pakistan-election-2024-mean-for-india-101707351579738.html?__cpo=aHR0cHM6Ly93d3cuaGluZHVzdGFudGltZXMuY29t"&gt;&lt;strong&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں اسلام آباد میں تعینات سابق بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بار نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق ہائی کمشنر کے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی واضح خواہش ہے کہ اس بار نواز شریف وزیر اعظم بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ اگرچہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کی وجہ سے ہی 2013 کے انتخابات کے بعد بننے والی نواز شریف کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ختم کیا گیا تھا لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار میں دیگر تجزیہ نگاروں اور نشریاتی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ماضی میں عمران خان کی حمایت کرنے والی اسٹیبلشمنٹ اس بار نواز شریف کی حمایت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار کے مطابق نواز شریف کی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ بھارت سے اس وقت ہی دوستانہ تعلقات بحال ہوں گے جب انڈیا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرکے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے اقتدار میں آنے کی صورت میں بھارت میں رواں برس لوک سبھا کے ہونے والے انتخابات کے بعد تشکیل ہونے والی حکومت پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرے گی اور اس وقت بھارت پاکستانی انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی میڈیا نے اپنے تبصروں میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ اس بار نواز شریف اقتدار میں آئیں۔</p>
<p>بھارتی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://azureserv.com/world-news/what-does-pakistan-election-2024-mean-for-india-101707351579738.html?__cpo=aHR0cHM6Ly93d3cuaGluZHVzdGFudGltZXMuY29t"><strong>ہندوستان ٹائمز</strong></a> نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں اسلام آباد میں تعینات سابق بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بار نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>سابق ہائی کمشنر کے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی واضح خواہش ہے کہ اس بار نواز شریف وزیر اعظم بنیں۔</p>
<p>اخبار نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ اگرچہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کی وجہ سے ہی 2013 کے انتخابات کے بعد بننے والی نواز شریف کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ختم کیا گیا تھا لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔</p>
<p>اخبار میں دیگر تجزیہ نگاروں اور نشریاتی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ماضی میں عمران خان کی حمایت کرنے والی اسٹیبلشمنٹ اس بار نواز شریف کی حمایت میں ہے۔</p>
<p>اخبار کے مطابق نواز شریف کی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ بھارت سے اس وقت ہی دوستانہ تعلقات بحال ہوں گے جب انڈیا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرکے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرے گا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے اقتدار میں آنے کی صورت میں بھارت میں رواں برس لوک سبھا کے ہونے والے انتخابات کے بعد تشکیل ہونے والی حکومت پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرے گی اور اس وقت بھارت پاکستانی انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1224294</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Feb 2024 20:23:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/08200913dd57662.jpg?r=200946" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/08200913dd57662.jpg?r=200946"/>
        <media:title>—فوٹوـ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
