<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:31:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:31:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر: سزائے موت پانے والے بھارتی بحریہ کے 8 افسر رہا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1224848/</link>
      <description>&lt;p&gt;’قطر کی عدالت نے مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے بھارتی بحریہ کے 8 افسروں کو رہا کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امیر قطر تمام بن حماد کی معافی کے اعلان کے بعد قطری عدالت نے فیصلہ سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی عدالت نے گزشتہ سال اکتوبر میں تمام بھارتی فوجیوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد بھارت نے معاملے کو قطری حکام کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے وزیر خارجہ نے سبرامنیم جے شنکر نے کہا تھا کہ ’بھارتی بحریہ کے سابق افسران کی رہائی کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اپیل کے بعد دسمبر میں قطر کی عدالت نے تمام ملزمان کی سزا میں کمی کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ملزمان پر قطر کے لیے اٹلی میں تیار کردہ آبدوزوں کی خریداری کی تفصیلات اسرائیل کو دینے کا الزام  تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق اعلی عہدے پر فائز اہلکار اور اعلی افسران جس میں وہ کپتان بھی شامل ہیں جنہوں نے جنگی جہازوں کی کمانڈ کی، سمیت 8 اہلکاروں کو اگست 2022 میں دوحہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ قطر میں بھارتی بحریہ کے سابق افسران کو سزائے موت سنانے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھارت کی وزرات داخلہ نے کہا تھا وہ اس معاملے پر ’حیران‘ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ قطر میں شاذو نادر ہی پھانسی کی سزائی دی جاتی ہیں اور خلیجی ریاست پہلے یہ بات کہہ چکی ہے کہ سزائے موت عمر قید کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قطر نے 2020 میں 20 سالہ وقفے کے بعد نیپال کے ایک تارک وطن مجرم کو پھانسی کی سزا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی کے تاریخی طور پر قطر سے اچھے تعلقات ہیں جو کہ بھارت کو قدرتی گیس فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے، قطر کی 28 لاکھ سے زائد آبادی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ تارکین وطن پر مشتمل ہے اور اس میں بھارتی شہریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر اس کے علاوہ حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کرتا ہے اور غزہ کو مالی امداد دیتا ہے، فلسطین اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کی حوالگی کے حوالے سے ثالثی کی کوششوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’قطر کی عدالت نے مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے بھارتی بحریہ کے 8 افسروں کو رہا کردیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امیر قطر تمام بن حماد کی معافی کے اعلان کے بعد قطری عدالت نے فیصلہ سنایا۔</p>
<p>قطر کی عدالت نے گزشتہ سال اکتوبر میں تمام بھارتی فوجیوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد بھارت نے معاملے کو قطری حکام کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>بھارت کے وزیر خارجہ نے سبرامنیم جے شنکر نے کہا تھا کہ ’بھارتی بحریہ کے سابق افسران کی رہائی کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی اپیل کے بعد دسمبر میں قطر کی عدالت نے تمام ملزمان کی سزا میں کمی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>بھارتی ملزمان پر قطر کے لیے اٹلی میں تیار کردہ آبدوزوں کی خریداری کی تفصیلات اسرائیل کو دینے کا الزام  تھا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق اعلی عہدے پر فائز اہلکار اور اعلی افسران جس میں وہ کپتان بھی شامل ہیں جنہوں نے جنگی جہازوں کی کمانڈ کی، سمیت 8 اہلکاروں کو اگست 2022 میں دوحہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ قطر میں بھارتی بحریہ کے سابق افسران کو سزائے موت سنانے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھارت کی وزرات داخلہ نے کہا تھا وہ اس معاملے پر ’حیران‘ ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ قطر میں شاذو نادر ہی پھانسی کی سزائی دی جاتی ہیں اور خلیجی ریاست پہلے یہ بات کہہ چکی ہے کہ سزائے موت عمر قید کے برابر ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قطر نے 2020 میں 20 سالہ وقفے کے بعد نیپال کے ایک تارک وطن مجرم کو پھانسی کی سزا دی تھی۔</p>
<p>نئی دہلی کے تاریخی طور پر قطر سے اچھے تعلقات ہیں جو کہ بھارت کو قدرتی گیس فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے، قطر کی 28 لاکھ سے زائد آبادی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ تارکین وطن پر مشتمل ہے اور اس میں بھارتی شہریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>قطر اس کے علاوہ حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کرتا ہے اور غزہ کو مالی امداد دیتا ہے، فلسطین اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کی حوالگی کے حوالے سے ثالثی کی کوششوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1224848</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Feb 2024 15:19:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/1215173397d05ca.jpg?r=151800" type="image/jpeg" medium="image" height="477" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/1215173397d05ca.jpg?r=151800"/>
        <media:title>بھارتی ملزمان پر قطر کے لیے اٹلی میں تیار کردہ آبدوزوں کی خریداری کی تفصیلات اسرائیل کو دینے کا الزام  تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
