<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:35:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:35:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: کسانوں کا احتجاج، پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1225074/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں 3 سال قبل متنازعہ زرعی اصلاحات کے خلاف بڑے پیمانے پر طویل عرصے تک جاری رہنے والے احتجاج میں کامیابی کے بعد ایک بار پھر سے کسانوں نے ’دہلی چلو‘  کا نعرہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 13 فروری کو بھارتی پولیس نے کسانوں پر آنسو گیس فائر کیے جو رکاوٹوں کو عبور کرکے فصلوں کی زیادہ قیمتوں میں اضافے کے لیے دارالحکومت نئی دہلی کی طرف مارچ کر کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسانوں نے ’دہلی چلو‘ مارچ کی کال دے رکھی ہے، بھارتی کاشت کاروں نے 2021 میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا تھا، کاشت کار یوم جمہوریہ کے موقعے پر رکاوٹیں توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بار پولیس کی جانب سے کنکریٹ کے بلاکس اور سخت ناکہ بندیوں سے سینکڑوں ٹریکٹر رُک گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فصل کی کم از کم قیمت مقرر کرنے سمیت کسانوں کے دیگر مطالبات میں پنشن اور قرضوں کی معافی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1150554"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے پنجاب اور ہریانہ ریاستوں کی سرحد کے قریب علاقے میں آنسو گیس فائر کی گئی، جو دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں ہے۔رپورٹ کے مطابق اس مقام پر کسانوں کے مرکزی گروپ کو روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا میں کسانوں کو ان کی بڑی تعداد کی بدولت سیاسی  اثر و رسوخ حاصل ہے،  ممکنہ طور پر اپریل میں شروع ہونے والے قومی انتخابات سے پہلے کاشت کاروں کے پھر سے احتجاج کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے ایک ارب 40 کروڑ آبادی میں سے دو تہائی آبادی کی گزر بسر زراعت پر ہے، جو کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں 3 سال قبل متنازعہ زرعی اصلاحات کے خلاف بڑے پیمانے پر طویل عرصے تک جاری رہنے والے احتجاج میں کامیابی کے بعد ایک بار پھر سے کسانوں نے ’دہلی چلو‘  کا نعرہ دیا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 13 فروری کو بھارتی پولیس نے کسانوں پر آنسو گیس فائر کیے جو رکاوٹوں کو عبور کرکے فصلوں کی زیادہ قیمتوں میں اضافے کے لیے دارالحکومت نئی دہلی کی طرف مارچ کر کررہے ہیں۔</p>
<p>کسانوں نے ’دہلی چلو‘ مارچ کی کال دے رکھی ہے، بھارتی کاشت کاروں نے 2021 میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا تھا، کاشت کار یوم جمہوریہ کے موقعے پر رکاوٹیں توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔</p>
<p>تاہم اس بار پولیس کی جانب سے کنکریٹ کے بلاکس اور سخت ناکہ بندیوں سے سینکڑوں ٹریکٹر رُک گئے ہیں۔</p>
<p>فصل کی کم از کم قیمت مقرر کرنے سمیت کسانوں کے دیگر مطالبات میں پنشن اور قرضوں کی معافی شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1150554"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس کی جانب سے پنجاب اور ہریانہ ریاستوں کی سرحد کے قریب علاقے میں آنسو گیس فائر کی گئی، جو دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں ہے۔رپورٹ کے مطابق اس مقام پر کسانوں کے مرکزی گروپ کو روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>انڈیا میں کسانوں کو ان کی بڑی تعداد کی بدولت سیاسی  اثر و رسوخ حاصل ہے،  ممکنہ طور پر اپریل میں شروع ہونے والے قومی انتخابات سے پہلے کاشت کاروں کے پھر سے احتجاج کا خطرہ ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے ایک ارب 40 کروڑ آبادی میں سے دو تہائی آبادی کی گزر بسر زراعت پر ہے، جو کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1225074</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Feb 2024 15:00:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/141400435a6a1e4.jpg?r=140059" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/141400435a6a1e4.jpg?r=140059"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/14140047e4f64a7.jpg?r=140059" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/14140047e4f64a7.jpg?r=140059"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
